ملک بھر میں گیس بندش نا قابل قبول ہے، ایف پی سی سی آئی

ایف پی سی سی آئی

کراچی : ایف پی سی سی آئی کے صدر ناصر حیات مگوں نے کہا ہے کہ سی این جی کٹر کے لئے ایل این جی کی درآمد پرسیلزٹیکس پانچ فیصد سے بڑھا کر سترہ فیصد کر دیا گیا ہے جبکہ پانچ فیصد کسٹمز ڈیوٹی بھی عائد کر دی گئی ہے جس سے سی این جی مہنگی اور اس کاروبار کی بقاء خطرات سے دو چار ہوگئی ہے۔ یہ فیصلہ واپس لیا جائے۔ گیس بحران کی وجہ انتظامی کمز وری غلط فیصلے اور وژن کی کمی ہے۔ سندھ کے بعد ملک بھر میں گیس بند کی جارہی ہے تونا قابل قبول ہے۔ اس سے کاروباری برادری اور عوام کو بھاری نقصان ہو کاروز کار متاثر ہو گا جبکہ پیداوار اور برآمدات گر جائیں گی۔

ایف پی سی سی آئی کے صدرنا صر حیات مگوں نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سارا ملک توانائی بحران کی لپیٹ میں ہے جس کی وجہ بر وقت ایل این جی تن منگوانا،سی این جی شعبہ کوا پنی گیس کی درآمد میں سالہا سال سے رکاوٹیں ڈالنا اورگیس فیلڈ زاور ایل این جی ٹرمینل کی مرمت کے لئے غلط وقت کا انتخاب ہے۔ اب فرنس آئل سے بجلی پیدا کر نے کا فیصلہ کیا گیا ہے جومہنگا آپشن ہے۔ حکومت نہ تو خودگیس درآمد کرتی ہے نہ ہی سی این جی سیکٹر کو در آمد کر نے دیتی ہے جوحیران کن ہے۔

اس موقع پر آل پاکستان سی این جی ایسوی ایشن کے گروپ لیڈ رغیات عبداللہ پراچہ نے کہا کہ توانائی کے شعبہ کی پالیسیاں زمینی حقائق کے مطابق نہیں۔ جب تک سی این جی سیکٹر کوا پنی گیس درآمد کر نے کی نہیں دی جائے گی بحران آ تے رہیں گے۔سوئی کمپنیاں لوگوں کا کاروبار تباہ اور روز گار چھین رہی ہیں۔ ہم اپنی گیس خودرآمد کر یں تو او دشیڈنگ ختم اور حکومت کو بیا سی ارب روپے کافائدہ ہوگا مگر یہ چند بیوروکریٹس کوقبول نہیں۔ پنجاب اور سندھ میں سی این جی سیکٹر در آمد شدہ گیس استعمال کر ر ہا ہے اس لئے گیس کی مقامی پیداوار میں کمی سے اسکا کوئی تعلق ہے نہ اسکی گیس مقطع کر نے کو کوئی جواز۔

آل پاکستان کی سی این جی ایسوسی ایشن کے چیئر مین خالد لطیف نے کہا کہ سی این جی سیکٹر میں چارسو پچاس ارب کی سر مایہ کاری ہو چکی ہے مگراس کا مستقبل مخدوش ہے۔ سی این جی سیکٹر سے لاکھوں افراد کار وز گار جڑاہواہے مگرا سے تباہی کے دہانے تک پہنچا دیا گیا ہے۔ حکومت اس شعبہ کی بحالی کے لئے اقدامات کرے جس میں سرفہرست اضافی ٹیکس لگانے کے فیصلے کو منسوخ کر کے عوام کیلئے ماحول دوست اور سستے ایندھن کی دستیابی یقینی بنانا ہے تا کہ آلودگی اور کرائے نہ بڑھیں اور لاکھوں افراد کار وز کار بچایا جاسکے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *