دیار خلافت کا سفر شوق قسط 57

تحریر : مولانا ڈاکٹر قاسم محمود

جیسا کہ عرض کیا ہمارا قافلہ سیاحت رات کے ساڑھے دس بجے کے قریب قونیہ میں پہنچا۔ دن بھر ہم محو سفر رہے۔ صبح ہم بیلجیک شہر سے سوغوت کیلئے نکلے تھے۔ سوغوت ہم دوپہر کو پہنچے۔ جہاں ہم نے ارطغرل غازی کے مزار اور دوسرے اہم مقامات کا وزٹ کیا اور نماز ظہر یہاں ادا کی۔ کچھ دیر ٹہلے، واک اور سیر و سیاحت کی اور سوغوت سے قونیہ کیلئے روانہ ہوئے تو سہ پہر آخری سانسیں لے رہا تھا۔۔۔۔

راستے میں عصر کی نماز کیلئے رکے، تو ساتھ ہی کھانا بھی کھا لیا تھا کہ آگے ہمیں قونیہ تک لاک ڈاؤن ٹائم کے دوران کہیں کھانا ملنے کی توقع نہیں تھی کیونکہ یہاں ان دنوں سخت لاک ڈاؤن نافذ تھا۔ ترک شہری جہاں صفائی و نفاست پسند اور با شعور ہیں وہاں وہ اپنے ملک کے قانون پر سختی سے عمل درآمد کا بھی بہت اہتمام کرتے ہیں جس کا ہمیں قدم قدم پر احساس ہوا۔۔۔

اس بات کا احساس ہمیں تب ہوا جب ہم نے شروع کے ایک دو دن کے دوران استنبول میں خوب سیر کی اور کہیں بھی ہمیں پولیس کھڑی نظر نہیں آئی۔ ہم پاکستانی اپنے شہروں میں جا بجا، چوکوں، شاہراہوں، بازاروں، مارکیٹوں اور تمام پبلک مقامات پر پولیس کی غیر موجودگی کا تصور بھی نہیں کر سکتے، وجہ صاف ظاہر ہے کہ ہمارے یہاں قانون کی پاسداری کا سرے سے تصور ہی نہیں ہے۔۔۔ عالم یہ ہے کہ اللہ معاف کرے ہمارے یہاں قانون کی پاسداری کے بجاۓ اس کے بر عکس قانون شکنی ایک قابل فخر اور عزت کے قابل روش کی صورت اختیار کر چکی ہے چنانچہ ہم اپنے یہاں قدم قدم پر اس بات کا مشاہدہ کرتے ہیں کہ جو جتنا بڑا سوشل اسٹیٹس رکھتا ہے اتنا ہی وہ قانون کی گردن پر انگوٹھا اور کہیں اپنا پیر رکھتا نظر آتا ہے۔۔

المیہ یہ ہے کہ یہاں قانون شکنی اسٹیٹس سیمبل اور انتہائی جاہلانہ فیشن بن چکا ہے، اسی کی وجہ سے قانون اور حکومت و ریاست کی عملداری اور رٹ بے وقار ہو کر رہ گئی ہے، جسے بحال کرنے کیلئے حکومت اور ریاست کو قدم قدم پر (تلخ نوائی کیلئے معذرت کہ) پوری قوم کو گدھے کی طرح ڈنڈے سے ٹریٹ کرنا پڑ رہی ہے۔۔۔ یہی وجہ ہے کہ ہم صبح اٹھ کر باہر نکلتے ہیں تو ہمیں وردی پوش اور مسلح پولیس سے سامنا ہوتا ہے۔۔۔ جبکہ اس کے بر عکس مہذب معاشروں میں اور ان ملکوں میں جہاں لوگ با شعور اور قانون پسند ہوتے ہیں، قانون نافذ کرنے کیلئے پولیس کو پبلک میں کھڑا کرنے کے بجائے کمپیوٹرائزڈ نظام سے مدد لی جاتی ہے۔۔۔ مستحکم ملکوں میں پولیسنگ کا ڈیجٹل اور اسمارٹ سسٹم نافذ ہے اور یہ ان ملکوں کے شہریوں کی تعلیم تربیت اور شعور کی وجہ سے ہے۔۔۔ الحمد للہ یہی کچھ ہم نے ترکی میں بھی دیکھا اور یہ سوچ کر خوش ہوتے رہے کہ چلیں ہم نہ سہی، ہمارے ترک بھائی تو قانون پسند ہیں، تہذیب اور شہری اخلاقیات پر اچھی طرح عامل ہیں۔۔۔

مزیدپڑھیں:دیار خلافت کا سفر شوق قسط 56

یہ بات دراصل اس بات کے بطن سے نکلی کہ ہم سوغوت سے نکلتے ہوئے لاک ڈاون بندشوں کا ٹائم شروع ہونے سے پہلے ایک جگہ رکے اور کھانا کھایا۔ وجہ یہی تھی کہ آگے لاک ڈاؤن پابندیوں پر شہریوں کے رضاکارانہ سختی سے عمل درآمد کے باعث یہ بات یقینی تھی کہ چھ بجے کے بعد راستے میں ہمیں کہیں پر بھی کھانا میسر نہیں آئے گا۔۔۔

(جاری ہے)

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *