گلی سے “نور” جا چکی ہے

مسلم انصاری

ایک روز جب میں لاہور کے حالیہ سفر میں تھا
ایک اجنبی نمبر سے موصول ہوئی کال میں نسوانی آواز مجھ سے مخاطب تھی
اس کا نام نور تھا
نور کون ہے؟
اس کی آواز زیادہ رومانوی نہیں ہے
اس کا قد کاٹھ متوازن ہے
وہ میرے گھر کے سامنے کے ساتھ والے گھر میں رہتی تھی ۔ اب وہ وہاں سے جا چکی ہے!!

کہانی تو بس یہاں سے شروع ہوتی ہے!

میرے لاہور سفر سے کچھ ہی روز قبل ایک دن سہ پہر گلی میں ایک لڑکی کے چیخنے چلانے کی آواز بیدار ہوئی
اس کرب بھری آوازوں میں اس پر کئے جانے والے تشدد کی آوازیں ایسے ابھر رہی تھیں جیسے کوئلے میں چنگاریاں لکڑیاں چٹخاتی ہیں
مارنے والا اس کا جواں سال بھائی تھا
جو ٹوپی لگاتا ہے اور اسلام کا نام لیوا آزاد پاکستان کا مفکر مسلمان ہے
وہ اپنی جوان بہن کو لکڑی کے آلات سے تشدد کا نشانہ بنا رہا ہے
آوازیں چیخوں سے ہوتی ہوئیں فریاد کی جانب گامزن ہیں
گلی میں موجود گھروں کے دروازے کھل رہے ہیں اور لوگ بشمول خواتین کے جھانک جھانک کر معمہ سمجھنے کی کوشش میں مگن ہیں
نور ۔۔۔۔۔۔ چیخ رہی ہے
کوئی خاتون اس دروازے کی طرف نہیں بڑھ رہی
تماش بینوں کا گروہ مضحکہ خیز انداز میں تجسس کو آنکھوں میں بھر کر کھڑا ہوا ہے
دفعتاً دروازہ کھلتا ہے
نور کی چھوٹی بہن پاکیزہ روتی ہوئی باہر آتی ہے
اس کے ہاتھ میں ایک مٹی اٹھانے والا برتن ہے
ان تماش بینوں میں، میں بے حس نہیں ہوں
میں بارہا پاکیزہ سے پوچھتا ہوں مگر وہ سسک رہی ہے
پھر وہ مٹی اٹھا کر اندر لے گئی
اس نے گھر میں پھیلے نور کے خون کو ریت سے ڈھک دیا
جیسے ایک آواز دب گئی ہو
جیسے ایک لاش دفنا دی جاتی ہے
اب نور کی سہمی اور دبی آواز ابھر رہی ہے
اسے واشروم میں بند کردیا گیا ہے
نور اس باتھ روم سے نکلنے کے لئے آہ و فریاد کررہی ہے
گلی میں سبھی کو چھوڑ کر اکیلا میں کھڑا ان کے گھر کا دروازہ پیٹ رہا ہوں
میں چاہتا ہوں کہ میں چیخوں
مت کرو ۔۔۔۔ ایک جواں سال لڑکی کو مت مارو
مجھے اس کی فریاد رسائی کرنے دو
مگر میرا گلہ خشک ہے
میرا دل زور زور سے دھڑک رہا ہے
جیسے جیسے نور کی آواز دبتی جارہی ہے
گلی میں کھلے دروازے بند ہوتے جارہے ہیں
تماش بین جارہے ہیں
آزادی اور رائے کا قتل ہوگیا ہے مگر زخمی نور اگلی جنگ لڑنے کے لئے زندہ ہے

ڈرو مت ۔۔۔!
ابھی جب تم یہ کہانی پڑھ رہے ہو
نور زندہ ہے اور نور زندہ رہے گی!!

اس روز نور چاہتی تھی کہ جہاں اس کے رشتے کی بات پکی ہوچکی ہے اسے وہیں بیاہ دیا جائے
مگر اسی بیچ لڑکے (نور کی محبت) کی ماں نے کچھ شرائط عائد کردی تھیں مگر لڑکے کے سمجھانے پر نور کی ساس نے معافی طلب کرلی تھی مگر اب یہ بات نور کے بظاہر مسلمان دکھنے والے بھائی اور اس کی ماں نے اپنی انا بنا لی تھی
لڑکا اور نور ہر شرط سے آزاد اس رشتے کے لئے بہر صورت تیار تھے یہی کیفیت لڑکے والوں کی بھی تھی وہ اب بغیر کسی مطالبے کے تیار تھے
مگر نور کو اس آزادانہ رائے سے ہٹانے کے لئے تشدد کا نشانہ بنایا جارہا تھا
نور نے اس روز جنگ لڑی
وہ چیخی
میرا دل پسنج گیا
اس کی چیخیں میرے اندر گھر کر گئیں

کہانی میں نور کے ساتھ مل کر نور کی جنگ لڑنے والے ایک کردار کا اضافہ ہوتا ہے
وہ قریب قریب کانوں سے بہرہ ایک ڈھلتی عمر کو چھوتا شخص نور کا باپ ہے
وہ اپنی بیٹی کی طرف ہے
گھر دو حصوں میں بٹ گیا ہے
نور اور اس کا بوڑھا باپ ۔۔۔ دوسری طرف ماں ، بڑا بھائی ، پاکیزہ اور گھر کے بقایا تمام افراد!
نور کا باپ اپنی بیٹی کی جائز خواہش کی تکمیل کے لئے گھر کے افراد کو رضامند کررہا ہے اور ۔۔۔۔۔
نور کی ماں گھر چھوڑ کر جا رہی ہے
وہ چاہتی ہے کہ وہاں رشتہ نا ہو اور اگر رشتہ ہوتو میں یعنی نور کی ماں اس گھر میں اسی صورت رہونگی جب نور چلی جائے گی !!!

نور کی تاریخ پکی کرنے کا دن آگیا ہے
اس کا بڑا بھائی اور اس کی ماں گھر پر نہیں ہیں
بقیہ افراد ایک رسم پوری کرنے کے لئے عام سے ملبوس میں بیٹھے ہیں
جیسے ایک گھر کی پرانی چیز کی خرید و فروخت کی جارہی ہو
گلی میں موجود تمام گھروں کے وہ دروازے بند ہیں جو اس روز چیخوں پر کھلے تھے

اور اب جب میں لاہور میں تھا
تو اجنبی نمبر سے موصول ہوئی کال پر دوسری جانب نور تھی
جو کہ رہی تھی
“مسلم بھائی ۔ آپ نے میری شادی میں ضرور آنا ہے!”
مجھے لگا میں اس کا بڑا بھائی ہوں
مگر اس کا بڑا بھائی تو اسے مارتا ہے
شاید وہ بڑے بھائی کی کمی پوری کرنے کے لئے مجھے بلا رہی تھی مگر نور میں تو کراچی سے بہت دور کہیں لاہور میں ہوں
میں اسے کہ رہا ہوں کہ دیکھو کاش میں آ پاتا مگر میری دعائیں اور نیک تمنائیں بخدا تمہارا تعاقب کریں گی
تم کبھی بھی اکیلی نہیں ہو تمہارے اس مسلم نامی بھائی کی آنکھوں میں تمہاری جیت کے سچے آنسو ہیں!

نور کی شادی ہوچکی ہے
نور وہ گھر چھوڑ کر پیا گھر سدھار گئی ہے
میں لاہور سے لوٹ آیا ہوں
گلی کے تمام گھروں کے دروازے بدستور بند ہیں
نور کی ماں اپنی بیٹی کی شادی کے ختم پر گھر لوٹ آئی ہے
نور کی بہنوں اور ماں سمیت بڑے بھائی نے نور سے لاتعلقی کا اظہار کردیا ہے
نور کا باپ نور کی جنگ جیت گیا ہے
گلی میں خاموشی ہے
نور کا بڑا بھائی اب بھی پانچ وقت کی نماز پڑھتا ہے
وہ بدستور ٹوپی پہنتا ہے
نور کے لئے اس گھر کے دروازے بند ہوگئے ہیں
اس روز اس کی چیخوں پر خاموش کھڑے تماش بینوں نے خوب ڈٹ کر اس کی شادی کا کھانا کھایا تھا

اور میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں اب بھی جب اپنی گلی میں اس گھر کی طرف نظر اٹھاتا ہوں مجھے لگتا ہے نور چیخ رہی ہے
وہ چاہتی ہے اسے مت مارا جائے
اسے واشروم سے نکالا جائے
ایسا لگتا ہے وہ چیختے ہوئے کہ رہی ہے کہ اس کی اس شادی کی خوشی میں اس کی ماں اور بڑا بھائی ضرور شریک ہوں
مگر یہ چیخیں میرے سوا کوئی نہیں سن رہا
مجھے نہیں پتا کیوں مگر میرا دل کرتا ہے کہ میں نور کے باپ کے ہاتھ چوموں
اس کی بوڑھی ہوتی پیشانی پر فرط جذبات و مسرت سے بوسہ دوں
اسے گلے سے لگاؤں اور اسے چیخ چیخ کر بیٹی کو جنگ جتوانے پر جنت کی بشارت سناؤں
کاش ایک روز ۔۔۔۔۔۔
بس ایک روز میں یہ کر پاؤں!

نور میری بات سنو
مجھے نہیں پتا تم کہاں گئی ہو
مجھے تمہارے نئے گھر کا علم نہیں ہے
تمہاری بہن پاکیزہ مجھے تمہارے گھر کا نہیں بتاتی بلکہ وہ کہتی ہے کہ تم ان کے لئے مر چکی ہو
میں تمہارے گھر مٹھائی لیکر آنا چاہتا ہوں
مجھے نہیں معلوم میری یہ تحریر تم تک پہنچے گی بھی یا نہیں مگر میں بے حد خوش ہوں
تمہاری جیت ہر اس لڑکی کی جیت ہے جو آزاد جنمی گئی
تمہاری جیت تمہاری خواہشات کی جیت ہے
میرے اور تمہارے ہم خیال سچے لوگوں کی جیت ہے
تم جہاں کہیں بھی ہو
خدا تمہارے سر پر ہاتھ رکھے
دیکھو نور ۔۔۔۔ ایک بیٹی جنم دینا
اور اسے ہر وہ خوشی دینا جو تم سے چھینی گئی
نور تم اپنے بیٹے کو اپنی بیٹی کو مارنے سے بچانا
اگر تم ایسا کر پائیں تو یہ تمہاری سب سے بڑی جیت ہوگی!!!

یارو!
کامیاب زندگی وہ تھی جو بے حسی میں گزرتی
یا پھر اس صورت کہ نا تو کچھ سنائی دیتا اور نا ہی دکھائی دیتا
ہم بہرے اندھے اور گونگے پیدا ہوتے اور مرجاتے
ہمارے اردگرد میں جو کچھ ہوتا ہم اس سے بے خبر رہتے
مگر ہم میں اب بھی جینے کی خواہش باقی ہے
ہم میں زندگی کی رمق موجود ہے
ہم روز کسی نا کسی نور کی طرح لڑ رہے ہیں
اسے لئے ۔۔۔۔۔۔
خداوند قدوس کی قسم اسی لئے ۔۔۔۔
خدا روزِ محشر ہمیں ہنستا ہوا ملے گا اور ہمارے چہروں کو چومے گا اور ہم دوبارہ جنم لیں گے!!

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *