اباسین یونیورسٹی نے کووڈ حالات کے پیش نظر طلبہ کو ہر ممکن سہولیات دیں : انٹرویو سید عمر فاروق

انٹرویور : تیمور عباس

کرونا وبا سے جہاں پر ملک بھر میں تعلیمی نظام پر اثر پڑا تھا اور لاک ڈاؤن کی وجہ سے طلباء اپنے یونیورسٹیوں اور کالجوں سے محروم رہے ۔ تو این سی او سی نے تعلیمی نظام کو آن لائن سسٹم کے تحت بحال کیا ۔ اسی طرح پشاور کے نجی تعلیمی اداروں نے آن لائن سسٹم کے ذریعے اپنی کلاسیس جاری رکھی ۔

پشاور کے نجی یونیورسٹی اباسین یونیورسٹی نے این سی او سی کے گائڈ لائن کے مطابق دوسرے ہی دن سے کام شروع کیا اور طلباء کے لیےآن لائن سسٹم کے تحت تعلیمی نظام کو جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ۔ اباسین یونیورسٹی کے وائس چانسلر سید عمر فاروق کا کہنا تھا کہ ہم نے آن لائن ایل ایم ایس کے تحت تعلیمی نظام کو برقرار رکھا اور لاک ڈاؤن میں جو دور دراز کے علاقوں سے طلباء موجود تھے جن کے پاس اس موجودہ دور کا انٹرنیٹ نیٹ نہیں تھا ان کو ریلیف دیا ۔ اس کے ساتھ ان کے لیے ایس او پیس کے تحت یونیورسٹی میں فزیکل امتحان لینے کا فیصلہ کیا جس میں سو فیصد طلباء نے تعاون کا مظاہرہ کیا۔

وائس چانسلر آف اباسین یونیورسٹی سید عمر فاروق کا کہنا تھا کہ ہم نے سوشل میڈیا کے ذریعے بھی کلاسیس لی۔سید عمر فاروق نے مزید بتایا کہ انہوں نے یونیورسٹی میں تقریبا پانچ ہزار پانچ سو طلباء کو آن لائن ایجوکیشن سسٹم کے ذریعہ پڑھایا ، جس کا رزلٹ سو فیصد کامیاب رہا۔

مزید انہوں نے بتایا کہ اباسین یونیورسٹی کی بہترین کارکردگی پر پشاور ڈپٹی کمشنر نے ان کی کامیابی کو سراہا اور سرٹیفکیٹ سے بھی نوازا۔

ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر عمر فاروق نے بتایا کہ حکومت نے ان کو اتنا سپورٹ نہیں کیا ۔لیکن ہم نے اپنی پوری کوشش کی۔کرونا کی وجہ سے ایجوکیشن ایک سال پیچھے رہ گیا ہے ۔جس کو پورا کرنے کے لئے ہمیں زیادہ محنت کرنی پڑے گی ، گزشتہ دنوں بجٹ کے حوالے سے بھی انہوں نے بات چیت کی اور کہا کہ حکومت نے اس دفعہ عوام کو زیادہ ریلیف دیا ہے چاہے وہ تعلیم کے حوالے سے ہو یا گاڑیوں کے ٹیکس کے حوالے سے ہو۔لیکن پرائیویٹ ایجوکیشن سسٹم کو زیادہ دھیان نہیں دیا۔

مذید پڑھیں :مفتی کفایت اللہ کو فی الفور رہا کیا جائے، پی ڈی ایم

وائس چانسلر عمر فاروق نے کہا کہ ہم نے تقریباً چار لاکھ سکوائر فیٹ زمین میں آباسین یونیورسٹی کی ایک اور عمارت تعمیر کی ہیں اور تقریباً پچاس تعلیمی پروگرام شروع کیئے ہمارا اسلام آباد میں بھی ایک کیمپس موجود ہیں جس میں ساڑھے تین ہزار کے اس پاس طلباء تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور پشاور میں جنڈر بیلنس رکھنے کے لئے ایک اور کیمپس موجود ہیں جس میں صرف فیمل تعلیم حاصل کر رہی ہیں۔ اور اباسین یونیورسٹی او بی آئی لنک کے تحت باہر ملکوں کے ساتھ منسلک ہیں جس میں ہر ملک کے ساتھ مختلف پروگرامز شیئر ہوتی ہیں اور اس کے ساتھ افغانستان اور دیگر ملکوں کے ساتھ بھی ایم او یوز ہیں۔وہاں کے ٹیچر یہاں پر آ کر تعلیم حاصل کر رہے جو ہمارے لئے باعث فخر کی بات ہے۔

خیبر پختون خواہ کے اعلی تعلیمی درس گاہ اباسین یونیورسٹی کے وائس چانسلر سید عمر فاروق نے “الرٹ نیوز” کے ساتھ اپنی انٹرویو میں کہا کہ پرائیویٹ یونیورسٹیز بھی ملک و قوم کی ترقی کیلئے کوشاں ہے اور نوجوانوں کو بہتر تعلیم دینے کیلئے سرگرم ہیں لیکن حکومت نے ہر بجٹ میں پرائیویٹ ادارے کو کوئی توجہ نہیں دی نجی یونیورسٹیز کو توجہ دینا وقت کی اشد ضرورت ہے اور ساتھ ساتھ حکومت وقت کی اہم ذمہ داری بھی ہے۔انہوں نے کہا کہ تعلیم نام ہے کسی قوم کی روحانی اور تہذیبی قدروں کو نئی نسل تک اس طرح پہنچانے کا وہ اس کی زندگی کا جز بن جائے جب بھی مسلمان علم اور تعلیم سے دور ہوئے وہ غلام بنا لیئے گئے یا پھر جب بھی انہوں نے تعلیم کے مواقعوں سے خود کو محروم کیا وہ بحثیت قوم اپنی شناخت کھو بیٹھے ۔

انہوں نے کہا کہ تعلیم کا حصول مرد و خواتین پر فرض ہے اج کے دور میں تعلیم کی ضرورت اور اہمیت بہت زیادہ ہو گئی ہے اج کا دور کمپیوٹر کا دور ہے لیکن عام تعلیم کی اہمیت کم نہیں ہوئی ۔ انہوں نے کہا کہ انجینئرنگ وکالت ڈاکٹری اور مختلف جدید علوم حاصل کرنا آج کے دور کا لازمی تقاضہ ہے ۔ جدید علوم تو ضروری ہے ہی اس کے ساتھ ساتھ دینی تعلیم کی بھی اہمیت اپنی جگہ ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ تعلیم کے حصول کیلئے قابل اساتزہ بے حد ضروری ہیں ، جو بچوں کو اعلی تعلیم کے حصول میں مدد فراہم کرتے ہیں ۔

مذید پڑھیں :اصلاح نفس، کیوں اور کیسے

استاد کی بچوں کو تعلیم دینا بنیادی زمہ داری ہوتی ہے استاد وہ نہیں جو محض چار کتابیں پڑھا کر اور کچھ کلاسز لے کر اپنے فرائض سے مبرا ہو گیا بلکہ استاد وہ ہے جو طلباء و طالبات کی خفیہ صلاحیتوں کو اجاگر کرتا ہے اور انہیں شعور و ادراک علم و آگہی نیز فکر و نظر کی دولت سے مالا مال کرتا ہے جن اساتذہ نے اپنی اس زمہ داری کو بہتر طریقے سے پورا کیا ان کے شاگرد آخری سانس تک ان کے احسان مند رہتے ہیں اس لئے اساتذہ کو چاہئے کہ طلباء و طالبات کی پڑھائی رکھئیں اور طلباء و طالبات کو بھی چاہیے کہ اساتذہ کا عزت و احترام کرے کیونکہ کوئی بھی طالب علم استاد کے عزت و احترام کے بغیر اگے نہیں جا سکتا ۔ اس کے ساتھ ساتھ طلباء و طالبات کو پڑھائی پر توجہ دینے کی بھی اشد ضرورت ہے والدین کو بھی چاہیے کہ اپنے بچوں کی تعلیم پر بھرپور توجہ دیں کیونکہ تعلیم وقت کی اشد ضرورت ہے ۔

انٹرویو کے اخر میں خیبر پختون خواہ کے اعلی تعلیمی درس گاہ اباسین یونیورسٹی کے وائس چانسلر سید عمر فاروق نے “الرٹ نیوز” ٹیم اور چیف ایگزیکٹو اکرام الدین کا شکریہ ادا کیا اور بین الاقوامی گلوبل ٹائمز نیوز ایجنسی یورپین آرگنائزیشن کی مثبت صحافت کو خوب سراہا ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *