جامعہ مہران جامشورو کے اساتذہ،ملازمین نے ان سے منسوب خط کو غلط قرار دے دیا

جامشورو : مہران یونیورسٹی آف انجنیئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی جامشورو کے اساتذہ، افسران اور ملازمین نے میڈیا میں ان کے ساتھ منسوب کردہ خط کو گمراہ کردہ اور سراسر غلط قرار دے دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق جامعہ مہران کی ایک خاتون استاد، جامعہ کی انکوائری اور سائبر کرائم کیس میں کورٹ ٹرائل بھگتنے والے معطل افسر، میڈیکل بلوں میں فراڈ کیس ثابت ہونے پر نوکری سے معطل جامعہ مہران کے ایک سابقہ افسر اور ایک انکوائری کے تحت آئے ہوئے افسر کی جانب سے جامعہ مہران کے وائس چانسلر ڈاکٹر محمد اسلم عقیلی کی ساکھ متاثر کرنے کی نیت سے وزیرِ اعلیٰ سندھ کے نام لکھے من گھڑت خط کو جامعہ مہران کے اساتذہ کی تنظیم مہران یونیورسٹی ٹیچرس ایسوسئیشن (میوٹا)، افسران کی تنظیم مہران یونیورسٹی آفیسرز ویلفیئر ایسوسئیشن اور ملازمین کی تنظیم مہران یونیورسٹی امپلائیز ویلفیئر ایسوسئیشن کی جانب سے جھوٹا، بدنیتی اور دھوکے پر مبنی قرار دیا گیا ہے۔

مہران یونیورسٹی ٹیچرس ایسوسئیشن کے صدر پروفسیر ڈاکٹر آصف علی شیخ، جنرل سیکریٹری ڈاکٹر نصراللہ پیرزادہ، آفیسرز ایسوئیشن کے صدر جاوید علی شاہ، جنرل سیکریٹری غازی خان پرھیار مہران یونیورسٹی ویلفیئر اسیوسئیشن کے صدر علی محمد شورو اور جنرل سیکریٹری غلام شبیر بلوچ نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ پرو فیسر محمد اسلم عقیلی نے جامعہ مہران کو ترقی دلائی ہے، ڈاکٹر اسلم عقیلی کی قیادت میں جامعہ مہران نے ملک اور دنیا میں مثبت نام کمایا ہے۔ جھوٹے الزامات سے ڈاکٹر محمد اسلم عقیلی اور جامعہ مہران کی ساکھ کو نقصان پہنچانے والے افراد کا رکارڈ اور پروفائل جانچے جائیں۔

جامعہ مہران کے مرکزی اسٹیک ہولڈروں نے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ خط میں جو نام موجود ہیں ان میں کچھ سزا یافتہ ہیں دوسرے کورٹ میں ٹرائل اور پیشیاں بھگت رہے ہیں وہیں پر کچھ افراد جامعہ مہران کے قوائد و ظوابط کی خلاف ورزی کی جانچ کا سامنہ کر رہے ہیں۔

جامعہ مہران کے ملازمین کی تنظیم نے واظع کیا ہے کہ میڈیا میں آئی درخواست میں جن کو جامعہ کے ملازمین بتایا گیا ہے، ان میں سے چارافراد کا تعلق جامعہ مہران سے نہیں ہے۔ ان کے رکارڈ کے متعلق کوئی بھی فرد یا ادارا جانچ کر سکتا ہے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *