ملٹی نیشنل سگریٹس کمپنیاں FBR کے ریڈار پرآنے والی ہیں ،

فیڈرل بورڈ آف ریونیو میں ایک بڑا اسکینڈل منظر عام پر آچکا ہے ۔ ایف بی آر نے ملک بھر میں غیر قانونی اور جعلی سگریٹس کی فروخت کو روکنے کے لیے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے جس کے لیے نیشنل ریڈیو اینڈ ٹیلی کمیونیکیشن نامی کمپنی کو ٹھیکہ دیا گیا ہے اس کمپنی کو سگریٹس کی ڈبیوں پر الیکٹرانک اسٹپمس لگانے کا ٹھیکہ دیا گیا ہے این آر ٹی سی 731 روپے میں ایک ہزار سگریٹس پر الیکٹرانک اسٹمپس لگائے گی کمپنی ان اسٹپمس کے ذریعے سگریٹ کمپنیوں کی پیداوار کو مانیٹر کرسکے گی جب کہ ایف بی آر مارکیٹس میں جعلی اور غیر قانونی سگریٹس کو پکڑ سکے گا ، جن سگریٹس پر الیکٹرانک اسٹپمس نہیں ہوں گی انہیں ضبط کرکے کارروائی کی جائے گی

انسداد تمباکو نوشی کے لیے کام کرنے والی ایک غیر سرکاری تنظیم کے نمائندے ملک عمران نے انسائیڈرز نیوز کو بتایا کہ جس کمپنی کو سگریٹس کی ٹریک اینڈ ٹریس کا ٹھیکہ دیا گیا ہے وہ کمپنی ملٹی نیشنل سگریٹس کی کمپنیوں کے لیے کام کرتی رہی ہے یہ کمپنی سگریٹ کی ملٹی نیشنل کمپنیوں کی فرنٹ کمپنی تصور کی جاتی ہے ، ایف بی آر نے اگست میں لائسنس کے اجراء کے لیے اشتہار جاری کیا تھا جس کے بعد مبینہ طور پر کوالیفیکیشن میں تبدیلیاں کی گئیں۔

ملک عمران کا کہنا ہے کہ جعلی سگریٹس کی فروخت دس فیصد ہے جس میں مقامی اور بین الاقوامی کمپنیاں ملوث ہیں ، جعلی سگریٹس کی فروخت کو روکنے کے لیے ٹریک اینڈ ٹریس کا کنٹریکٹ شفاف بنیادوں پر جاری کیا جائے ملک عمران کا کہنا ہے کہ ایف بی آر کی پالیسیوں کی وجہ سے گذشتہ تین سال کے دوران قومی خزانے کو 158 ارب روپے کا نقصان ہوچکا ہے ملک عمران کا کہنا ہے کہ لائسنس کے اجراء کے ٹی او آرز بڈنگ کے بعد تبدیل کردیے گئے کمپنی کے تکنیکی بنیادوں پر چھان بین نہیں کی گئی بلکہ محض قیمت کی بنیاد پر ٹھیکہ دے دیا گیا ہے ایف بی آر نے کمپنی کی تکنیکی چھان بین کے لیے جو کنسلٹنٹ تعینات کیا تھا وہ ماضی میں فلپ مورس میں کام کرچکی ہیں ایف بی آر نے عالمی ادارہ صحت کی جانب سے کنسلٹنٹ تعینات کرنے کی آفر کو مسترد کیا ٹریک اینڈ ٹریس کے لیے منتخب کی گئی کمپنی اسٹمپنگ میں بے ضابطگیاں کرسکتی ہے یہ کمپنی مختلف ریجنز میں ایک ہی اسٹمپس لگا سکتی ہے ،

ترجمان ایف بی آر نے اس امر کی تصدیق کی ہے کہ ٹریک اینڈ ٹریس کے لیے جس کمپنی کو لائسنس جاری کیا گیا ہے وہ ملٹی نیشنل کمپنیوں کے لیے ماضی میں کام کرتی رہی ہے تاہم کمپنی کو ٹھیکہ پیپرا رولز کے عین مطابق دیا گیا ہے ، ترجمان ایف بی آر کا کہنا ہے کہ اس ملک میں ٹریک اینڈ ٹریس کے لیے ایسی کمپنی ڈھونڈھنا نا ممکن ہے جو ملٹی نیشنل کمپنیوں کے لیے کام نہ کرتی رہی ہو

تمباکو انڈسٹری کو پاکستان میں ایک مافیا تصور کیا جاتا ہے جس کے سیاست دانوں کاروباری افراد ، بیوروکریٹس ، وزارت خزانہ، وزیر اعظم سیکریٹریٹ اور ایف بی آر میں انتہائی گہرے تعلقات پائے جاتے ہیں، بعض ایسی رپورٹس بھی منظر عام پر آئی ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ ٹوبیکو انڈسٹری اپنی مرضی کی پالیسیاں بنانے کے لیے سیاست دانوں اور اعلی سرکاری افسران کو بھاری رشوت دیتے رہے ہیں

مسلم لیگ نواز کی حکومت نے 2017 میں سگریٹس پر تیسرا سلیب متعارف کرایا تھا جس کے بعد سگریٹس پر ٹیکسوں کی شرح میں کمی کی گئی پبلک اکاونٹس کمیٹی کی خصوصی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق ٹیکس کم کرکے ملٹی نیشنل کمپنیوں کو 33 ارب روپے کا فائدہ پہنچایا گیا

نیب کی جانب سے تیسرے سلیب کی انکوائری مکمل کرلی گئی ہے تحقیقات میں اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ سگریٹس پر تیسرے سلیب کو متعارف کرانے سے دو ملٹی نیشنل کمپنیوں کی ٹیکس ادائیگیوں میں 14 فیصد تک اضافہ ہوا ہے تاہم ان کے منافع میں 62 فیصد اور 218 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے

آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے تیسرے سلیب سے متعلق اپنی رپورٹ تیار کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ایک ملٹی نیشنل کمپنی نے سگریٹ کا ایک مقبول برانڈ سستا کیا جس سے سگریٹس کی فروخت میں 50 فیصد تک اضافہ ہوا اور کمپنی کا منافع کئی گنا بڑھ گیا آڈیٹر جنرل کے مطابق ٹیکسوں کی شرح کم کرنے سے ایف بی آر تمباکو سیکٹر سے 120 ارب روپے کے مقررہ ہدف کے مقابلے میں 87 ارب روپے کا ٹیکس اکٹھا کرسکا جب کہ ملٹی نیشنل کمپنیوں کے سگریٹس کی فروخٹ میں 118 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا

پاکستان نیشنل ہارٹ ایسوسی ایشن کے سیکریٹری جنرل ثناء اللہ گھمن نے انسائیڈرز نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ “ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے لیے منتخب کی گئی کمپنی ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں سگریٹس پر ایک ہی اسٹمپ لگا سکتی ہے ایف بی آر کے پاس ایسا کوئی سسٹم نہیں جس سے یہ معلوم ہوسکے کہ ایک ہی اسٹمپ کتنی ہزار سگریٹ کی ڈبیوں پر لگائی گئی ہے”

چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی آج سے ایک سال قبل سگریٹ کی ملٹی نیشنل کمپنی کے لیے کام کرتے رہے ہیں ، گذشتہ دور میں جب سگریٹ انڈسٹری پرٹیکسز بڑھانے کی تجویز دی گئی شبر زیدی نے اس کی مخالفت کی اور کھل کر کہا کہ ٹیکسز بڑھانے سے ملٹی نیشنل کمپنوں پر مالی بوجھ پڑے گا

ملک عمران کا کہنا ہے کہ این ٹی آرسی کے پاس تمباکو کی ٹریک اینڈ ٹریس کا کوئی تجربہ نہیں ہے بلکہ کمپنی نے انڈیکسٹو نامی کمپنی سے ٹیکنالوجی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے ، انڈیکسٹو نامی کمپنی ملٹی نیشنل سگریٹ کمپنی فلپ مورس کے ساتھ کام کرتی رہی ہے ۔ فلپ مورس نے ہی 2000 میں جعلی اور غیر قانونی سگریٹس کی فروخت کو روکنے کے لیے یہ ٹیکنالوجی متعارف کرائی تھی تاہم قوانین کے مطابق ملٹی نیشنل کمپنیوں کی ٹیکنالوجی کو ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے لیے استمال نہیں کیا جاسکتا

ماہرین کا کہنا ہے کہ تمباکو کی ٹریک اینڈ ٹریس کے لیے جاری کیا گیا ٹینڈر جعلی اور غیر قانونی سگریٹس کی فروخت کو روکنے میں کار گر ثابت نہیں ہوسکے گا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ترجمان ایف بی آر نے اس بات کی تصدیق کردی ہے کہ ٹریک اینڈ ٹریس کے لیے منتخب کی گئی کمپنی فرنٹ کمپنی ہے لیکن اس کا مداوا کب ہوگا ؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں