ڈائجسٹ سے ٹالسٹائی تک

ارشد ابرار

تحریر : ارشد ابرار ارش

بہت سے بھی بہت زیادہ سال پہلے جب میں چھوٹا سا تھا تب ایک بوسیدہ سا ڈاٸجسٹ میرے ہاتھ آیا ۔
یہ اُن دنوں کی بات ہے جب وساٸل اس قدر محدود تھے کہ ماہانہ رساٸل بھی ہمارے ہاتھ تک پہنچنا سب سے بڑی خوشی شمار ہوتی ۔ تب تک میں نے کبھی کسی ناول کو کتابی شکل میں نہیں دیکھا تھا اور جب میں نے پہلی بار اپنی خود سے بڑی ہمشیر کی ہم جماعت کے توسط سے
” پیرِ کامل “ ناول دیکھا تو اُس لمحے کی بند مٹھیوں میں میرے لیے بہت سی حیرتیں بند تھیں ۔

ہم بہن بھاٸی جو کٹے پھٹے ڈاٸجسٹوں کو ہی دولتِ قارون خیال کرتے ، ازحد متحیر تھے کہ اتنے بڑے بڑے اور ضخیم ناول بھی ہوتے ہیں بھلا دیکھو تو جیسے دسویں جماعت کی کتاب ہو پوری ۔
تب ہماری دنیا محدود ہوا کرتی تھی ۔ یہی پھٹے پرانے ڈاٸجسٹ ہی ہماری تفریح طبع کا سب سے بڑا سبب ہوا کرتے تھے جو اپنی عمرِ طبعی کے آخری ایام میں ہمارے ہاتھ لگتے ۔

ایک رات سونے سے قبل ایسے ہی کسی دُریدہ سے ڈاٸجسٹ میں بشریٰ سعید صاحبہ کے ناول ” سفال گر “ کی ایک قسط پڑھنے کا اتفاق ہوا ۔
یہ نامکمل سی کہانی اور اس کے تمام کردار ایڈم گرانٹ ، پرنیاں ، صوفیہ اُسی رات سے میرے دل پر جیسے نقش ہو گٸے ۔
۔
سرد و گرم دنوں کی دوڑ دھوپ جاری رہی ۔ وقت آگے سرک گیا ، میں شہر آ گیا اور میری دنیا کا داٸرہ کچھ مزید پھیل لگا ۔ پہلی فرصت میں کتاب سنٹر سے وہی ناول سفال گر خرید کر پڑھا ۔ اس ناول سے مجھے اتنی محبت ہو گٸی کہ یہ ہمیشہ کیلیے میرے چنیدہ اور پسندیدہ ترین ناولز کی فہرست میں شامل ہو گیا۔

بشریٰ سعید نے اس ناول کا انتساب عظیم روسی ادیب
” لیو ٹالسٹاٸی “ کے نام لکھا تھا ۔

اب یہ نام میرے لیے بالکل اجنبی سا تھا مگر یہ نام اُسی ساعت میرے دل میں اتر گیا ۔ کتنا خوب صورت نام ہے کسی کا ایسا نام بھی ہو سکتا ہے ؟
لیو ٹالسٹاٸی ۔ ۔ ۔ میں بالکل انجان تھا کہ یہ ٹالسٹاٸی کون ہے ، کس ملک کا باشندہ ہے ، روسی ادب کس مزاج اور کس سطح کا ہوتا ہے ۔۔۔ مجھے بس اس نام سے انسیت سی ہو گٸی تھی ۔ میں تو بس اتنا جانتا تھا کہ ادب تو یہی ہوتا ہے جو میں ڈاٸجسٹوں میں برسوں سے پڑھتا آ رہا تھا ۔

گزرتے دنوں کے ساتھ داٸرہ کچھ مزید پھیل گیا اور میں کتابوں کی سحر انگیز دنیا میں اتر گیا جہاں ہر اگلے قدم پر ایک نیا حیرت کدہ مجھے سحر زدہ کرنے لگا ۔
ایک دن کسی گلی کنارے ، کسی مہان مصنف کی زبانی ٹالسٹاٸی کے ادبی کارنامے مجھ تک پہنچے تو دل میں اس عظیم مصنف کی تمام کتابیں پڑھنے کی شدید خواہش مچلنے لگی ۔ یہ خواہش اب تک جوان ہے ۔ اتنے سال گزرنے کے باوجود بھی میں سواۓ ” حاجی مراد “کے ٹالسٹاٸی کا کوٸی دوسرا ناول نہیں پڑھ سکا ۔

سب کہتے ہیں ”اینا کارینا اور وار اینڈ پیس “ جیسے لازوال ناولز کا لیکھکھ ٹالسٹاٸی دنیاۓ ادب کا سب سے عظیم ادیب ہے جسے پڑھنا فطرت کو پڑھنے جیسا ہے ۔ سب درست کہتے ہونگے ۔

مگر مجھے اس باریش اور صوفی منش ادیب کے نام سے جو محبت ہوٸی تھی وہ شاید اُن کی کتابوں سے بھی نا ہو پاۓ ۔ امیر کبیر گھرانے کے چشم و چراغ ٹالسٹاٸی کے حالاتِ زندگی ایک بار انسان کے دل و دماغ پر ضرور دستک دیتے ہیں ۔
ٹالسٹاٸی کے خاندانی تعلقات اور رساٸی روس کے امیر کبیر طبقے اور شاہی خاندان سے تھی اور وہ عیش و عشرت سے بھرپور زندگی گزار رہا تھا ۔ اسے زندگی کی ہر آساٸش میسر تھی ۔ زندگی آگے بڑھی اور ٹالسٹاٸی اپنے عہدِ شباب میں فوج میں بھرتی ہو گیا ۔ اُس نے بہادری سے کریمین جنگ میں شرکت کی اور اپنی عسکری خدمات پر بہت سی داد و تعریف سمیٹی ۔ مگر اس جنگ و حرب اور خون خرابے نے ٹالسٹاٸی کو اندر تک جھنجھوڑ دیا ۔ وہ اس سب سے جیسے بیزار سا ہو گیا ۔

جنگ کے خاتمے پر انہوں نے اپنے کچھ ساتھیوں کے ہمراہ یورپ کے دورے کیے ۔ وہاں کچھ ایسے دلسوز مناظر اور حالات کا مشاہدہ کیا کہ وہ سب کچھ ترک کر جنگلوں میں نکل گیا اور تارکِ دنیا ہو گیا ۔
اُس نے اپنا دھن دولت غریب عوام کی فلاح کیلیے جھونک دیا اور خود پھٹے پرانے کپڑوں سے تن ڈھانکنے لگا ۔
مفلس بچوں کیلیے سکول تعمیر کرواۓ ، غریب کسانوں کی معاشی مدد کرنے لگا اور اپنی نفسانی و دنیاوی خواہشوں سے مکمل ہاتھ جھاڑ کر دنیا میں عدم تشدد کا درس دینے لگا ۔

یہ راہبانہ سی زندگی اسے راس آ گٸی اسے مسیح علیہ السلام کے طرزِ زندگی اور فلسفے سے محبت ہو گٸی ۔ وہ گھر بار ، بال بچے اور اپنی محبوب بیوی سے اب قریب قریب لاتعلق سا ہو چکا تھا ۔ وہ قریہ قریہ گھومتا ، لکھتا اور درس محبت دیتا ۔ بس اب یہی اُس کے جینے کا محرک بن چکا تھا ۔
یہ درویش ادیب ایک سخت ٹھٹھرتی شب میں کچھ مسافروں کو ریلوے سٹیشن پر اس حالت میں ملا کہ اس کے بدن پر کوٸی گرم کپڑا تک نہیں تھا اور وہ نمونیہ میں مبتلا تھا ان میں سے کوٸی بھی نہیں جانتا تھا کہ یہ موجودہ زمانے کا عظیم مصنف ہے ۔
اسی بیماری نے تھوڑے دنوں میں ہی ٹالسٹاٸی کا ناطہ زندگی سے کاٹ دیا ۔۔۔
زیرِ نظر تصویر میں دنیاوی شورشرابے سے بہت دور ، تمام تھکن اپنے کندھوں سے اتار کر دنیاۓ ادب کا یہ عظیم مصنف لیو ٹالسٹاٸی سبزہ اوڑھے اپنی قبر میں آرام کر رہا ہے ۔ مجھے یقین ہے اتنی خوبصورت قبریں صرف نیک روحوں کو نصیب ہوتی ہیں ۔

نکتہ وروں نے ہم کو سمجھایا، خاص بنو اور عام رہو
محفل محفل صحبت رکھو، دنیا میں گم نام رہو ۔۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *