سابق ڈی جی FIA بشیر میمن عصمت اللہ جونیجو سمیت 10 افسران کو اٹلی میں تعینات کرانے کیلئے کوشاں ،

رپورٹ : شہزاد ملک

سابق ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن ہٹائے جانے سے پہلے اپنے لاڈلے اور نفسیاتی مریض عصمت اللہ جونیجو کی بطور کونسلر اٹلی میں تعیناتی کے لئے وزارت خارجہ کو سفارش کر گئے جبکہ تعیناتی کی سفارش نہ صرف عصمت اللہ جونیجو کی بلکہ دس مزید سینئر اور جونیئر افسران کی خط کے ذریعے سفارش کی گئی جن میں سے زیادہ تر افسران کا تعلق سندھ سے ہے۔

واضح رہے کہ پولیس گروپ اور وفاقی تحقیقاتی ادارے میں تعینات ایڈیشنل ڈائریکٹر اسٹیبلشمنٹ عصمت اللہ جونیجو زہنی طور پر غیر متوازن اور نفسیاتی مریض مشہور ہیں جبکہ مبینہ طور پر سابق ڈی جی ایف آئی اے کے فرنٹ مین کے طور پر مشہور و معروف ہیں چھ دسمبر کو عصمت اللہ جونیجو کے دستخط سے وزارت خارجہ کو لکھے جانے والے خط میں عصمت اللہ جونیجو کی اٹلی میں بطور کونسلر ، راجہ محمد سہیل کی بطور اسسٹنٹ اور امین شاہ کی بطور ہیڈ کانسٹیبل تعیناتی کی سفارش کی گئی جبکہ گریڈ انیس کے آفیسر میاں سعید بطور کونسلر، محمد یونس چانڈیو کی بطور اسسٹنٹ اور افتخار محمد کی بطور ہیڈ کانسٹیبل ترکی میں تعیناتی کی سفارش کی گئی۔

اس کے علاوہ گریڈ اٹھارہ کے آفیسر طارق پرویز کی بطور کونسلر سید ذوالقمین الدین کی بطور اسسٹنٹ جبکہ سید مبشر حسین کی بطور ہیڈ کانسٹیبل یو اے ای میں تعیناتی کی سفارش کی گئی جبکہ سپین میں عبدالسمیع بطور اسسٹنٹ اور عبدالواحد سومرو کی بطور ہیڈ کانسٹیبل سفارش کی گئی ہے۔

واضح رہے کہ ایف آئی اے ہیڈآفس کے سینئر ذرائع کے مطابق بشیر میمن نے وزارت خارجہ کو جن افسران کی بیرون ملک تعیناتی کیلئے خط لکھا ہے ان میں زیادہ تر افسران سندھی ہیں جن کی وجہ سے وفاقی تحقیقاتی ادارے کے افسران میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ جب سے بشیر میمن نے بطور ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے چارج سنبھالا تھا ان کے آس پاس سندھی افسران کی بھرمار تھی جن کی وجہ سے نہ صرف بشیر میمن کی ساکھ کو نقصان پہنچا بلکہ وفاقی تحقیقاتی ادارے کی ساکھ کا بھی جنازہ نکال دیا گیا۔

ذرائع نے مزید بتایا کہ ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن کے آس پاس جو افسران ہر وقت نظر آتے تھے ان میں کیپٹن شعیب علی جاکھرانی، نواز الحق ندیم، عصمت اللہ جونیجو جیسے بدنام زمانہ افسران شامل تھے جنہوں نے ادارے کی ساکھ کو بے پناہ نقصان پہنچایا۔ سینئر ذرائع نے مزید بتایا کہ عصمت اللہ جونیجو جب اسلام آباد پولیس میں تعینات تھے تو اس وقت بھی وہ اپنے جونیئر افسران کے ساتھ بدتمیزی اور گالم گلوچ تک اتر آتے تھے جبکہ ایف آئی اے میں بھی ان کا رویہ جونیئر افسران کے ساتھ انتہائی ذلت آمیز اورغیر انسانی تھا۔

ذرائع نے مزید بتایا کہ عصمت اللہ جونیجو جو کہ ایک نفسیاتی مریض ہے نے سائبر کرائم کی ایک لیڈی انسپکٹر کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کی کوشش کی جبکہ اس لیڈی انسپکٹر نے بشیر ممین کو شکایت بھی کی لیکن بشیر میمن نے ان کیخلاف کوئی ایکشن نہیں لیا۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ اس کے علاوہ انسپکٹر خالد صلاح الدین کے ساتھ عصمت اللہ جونیجو نے جو کیا وہ سب کے سامنے ہے جبکہ عصمت اللہ جونیجو کے ہتک آمیز سلوک کی وجہ سے انسپکٹر خالد صلاح الدین نے ادارے کو استعفیٰ دے دیا جبکہ اس کے علاوہ ان کے رویے کی بے شمار شکایات ریکارڈ پر ہیں۔

وفاقی تحقیقاتی ادارے کے ذرائع نے دعویٰ کیا کہ اگر ادارے کے علاوہ عصمت اللہ جونیجو کا پرائیویٹ نفسیاتی ٹیسٹ لیاجائے تو عصمت اللہ جونیجو مزید سروس کے اہل نہیں رہیں گے لیکن ان تمام معاملات کے باوجود عصمت اللہ جونیجو اب بھی ایک اہم پوسٹ پر تعینات ہیں جبکہ بشیر میمن جاتے جاتے اسے ایک اور اہم پوسٹ پر تعیناتی کی سفارش اس لئے کر کے چلے گئے کیونکہ ان کو پتہ تھا کہ جب بھی کوئی نیا ڈی جی ایف آئی اے تعینات ہو گا تو وہ عصمت اللہ جونیجو کے ساتھ نہیں چل پائے گا اسی لئے بشیر میمن جاتے جاتے اپنے لاڈلے اور چند دوسرے سندھی بھائیوں کو نواز کر چلے گئے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *