ہائر ایجوکیشن کمیشن نے خلاف ضابطہ طو پر گریڈ 21 کے 10 مشیر بھرتی کر لیئے

ہائیر ایجوکیشن کمیشن اسلام آباد نے من مانیاں شروع کرتے ہوئے کنسلٹنٹس کی بھرتیوں کے لیئے کمیشن ایکٹ کی بھی سنگین خلاف ورزی کر ڈالی ہے ۔ چیئرمین ایچ ای سی ڈاکٹر طارق بنوری کی ایماء پر 21 ویں گریڈ کی مراعات اور چار لاکھ روپے تک ماہانہ تنخواہوں کے عوض کنسلٹنٹس بھرتی کر لیے گئے ہیں ۔

ایچ ای سی پاکستان ایک جانب کفایت شعاری اور فنڈز کی کمی کے باعث پاکستان کی 190 سے زائد یونیورسٹیوں کی فنڈنگ میں کٹوتی کر چکی ہے ، تاہم دوسری جانب سے ایکٹ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے 4 لاکھ روپے تک ماہانہ تنخواہوں کے عوض 10 مشیروں کو تعینات کر لیا گیا ہے ، کمیشن کی 16 سالہ تاریخ میں پہلی بار کنسلٹنٹس کی تقرریاں ہوئی ہیں ۔

مذید پڑھیں : ہائر ایجوکیشن کمیشن نے ریجنل دفاتر کو بے یار و مدد گار چھوڑ دیا

ایچ ای سی میں اس وقت 800 ملازمین، ایڈوائزرز اور 9 ڈائیریکٹر جنرل تعینات ہیں ، ایچ ای سی نے کنسلٹنٹ فار پالیسی اینڈ لیگل افیئرز کیلئے داؤد منیر، کنسلٹنٹ آئی ٹی ایم آئی ایس کیلئے رضوان راشد ، محمد ارشد کو کنسلٹنٹ فنانس اینڈ اکائونٹس ، آصف کو آئی ٹی کنسلٹنٹ کے طور پر ، سارا زمان کو کنسلٹنٹ برائے نینشل اکیڈمی فار ہائیرایجوکیشن کے عہدے پر تعینات کیا گیا ہے ۔

فضل عباس کو کنسلٹنٹ انسٹیٹیویشن ریفارمز ، میجر جنرل ریٹائرڈ محمد اصغر کو کنسلٹنٹ سی پیک اور منصور طارق کو لیگل ایڈوائزر کے عہدے پر تعینات کیا گیا ہے.ذرائع نے بتایا ہے کہ ایچ ای سی میں وفاقی حکومت کے قوانین کے کے تحت ہی ملازمین بھرتی کیے جا سکتے ہیں جبکہ ان بھرتیوں کے لیے ضوابط کی خلاف ورزی کی گئی ہے ۔

مذید پڑھیں : ہائر ایجوکیشن کمیشن نے پاکستان میں محققین کیلئے مسائل پیدا کر دیئے

سرکاری یونیورسٹیوں کے اساتذہ 6 مہینوں سے ایچ ای سی کی جانب سے فنڈنگ مین کٹوتی کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں اور ایچ ای سی فنڈز نہ ہونے پر یونیورسٹیوں کو کفایت شعاری اپنانے اور فیسوں میں اضافے کی ہدایات کر چکا ہے۔ فنڈز کی عدم کمی کے باوجود کنسلٹنٹس کی بھرتیوں پر تشویش پائی جا رہی ہے۔ ایچ ای سی کی ڈائیریکٹر میڈیا عائشہ کا کہنا ہے کہ مذکورہ کنسلٹنٹس کی بھرتیوں کے لیے کمیشن سے منظوری حاصل کی گئی ہے ۔

نمائندہ الرٹ نیوز نے چیئرمین ہائرایجوکیشن کمیشن طارق بنوری سے متعدد بار رابطہ کرکے ان کا موقف معلوم کرنے کی کوشش کی تاہم انہوں نے فون ریسیونہیں کیا ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *