تاریخ میں ایسی بے حسی شاید ہی کسی نے دیکھی ہو

تحریر : محمد اعجاز

رعایت اللہ فاروقی و جامعۃ الرشید کا قضیہ، وکیل صفائی مولانا عبدالودود نے سیز فائر کر کے معاملہ "آخرت” کے سپرد کر دیا : گذشتہ رات ہم نے اپنی ایک پوسٹ میں یہ مشورہ ذکر کیا تھا کہ : "رعایت اللہ فاروقی کے قضیے میں جواباً سب و شتم مزید در مزید لکھنے کا سبب بنتا چلا جارہا ہے، جامعۃ الرشید سے وابستہ حضرات کے لئے بہتر ہوتا کہ جب رعایت اللہ فاروقی کی باتوں کا مکمل جواب نہیں دینا تھا تو مکمل خاموشی ہی اختیار کی جاتی۔”

14 جون 2021ء کو مولانا عبدالودود صاحب نے ظہر کے بعد "وما علینا الا البلاغ…!” کے عنوان سے ایک "پوسٹ ” دی جس میں حسب سابق رعایت اللہ فاروقی کو اچھی بھلی سنائیں اور بزدلی کا طعنہ دینے کے بعد پھر ان کے الزامات و انکشافات کے "جوابات” بارے حلفا کہنے لگے کہ:
"جو جو الزامات لگائے خدائے وحدہ لا شریک کی قسم ایک ایک الزام کا مسکت جواب موجود ہے مگر ہمارے بڑے ہمیشہ ہمیں یہی فرماتے ہیں کہ اگر ہم جواب الجواب کا سلسلہ شروع کر بیٹھیں گے تو وہ جو خدا کی جانب سے ہمارے جواب کے لئے تقرری ہے وہ واپس نہ ہو جائے”
۔۔۔۔۔۔۔

بڑی دیر کر دی بڑوں کی بات مانتے مانتے!

حیرت ہے کہ سیز فائر کرتے ہوئے بھی طعنے اور بدزبانی کرنے سے گریز نہیں کیا۔ پھر "الزامات کے مسکت جوابات” نہ دے کر عقیدت مندوں کو مسکت جوابات سے بھی ہمیشہ کے لئے محروم کر دیا گیا ، اور ساتھ ہی آخرت میں بھی خود کو "مظلوم ” ظاہر کردیا۔ بہرحال یہاں ان حضرات کا محاکمہ ہمارا موضوع نہیں، دونوں اطراف ہی "آداب اختلاف ‘ کے معاملے میں غربت کی لکیر سے نیچے ہی پائے گئے ہیں ۔

جب علمی بحث اور استدلال کے بجائے محض ذاتیات پر حملے ہوں تو سیز فائر ہی بہتر راستہ ہے اسی لئے صبح کا بھولا شام کو گھر آجائے تو اسے بھولا ہوا نہیں کہتے۔ اچھا ہوا کہ عبدالودود صاحب نے قارئین کے مشورے کو مان کر اپنی طرف سے جاری سب و شتم کو "بند” کردیا۔
جامعۃ الرشید اپنی نہاد میں ایک علمی ادارہ ہے، اس کی انتظامیہ پر ذاتی حملوں کے بارے میں تو خاموشی ہی بہترین حکمت قرار دی جا سکتی ہے، لیکن علمی معاملات بارے بھی یہ رویہ اپنانا ( "اگر ہم جواب الجواب کا سلسلہ شروع کر بیٹھیں گے تو وہ جو خدا کی جانب سے ہمارے جواب کے لئے تقرری ہے وہ واپس نہ ہو جائے” ) قطعاً غلط ہے بلکہ ایسا سکوت علمی، قانونی اور اخلاقی ہر لحاظ سے مذموم ہے۔ صد افسوس کہ اس حوالے سے ان حضرات کی "تاریخ ” افسوسناک حد تک غیر اخلاقی رہی ہے ۔

(اس اجمال کی تفصیل جاننے کے لئے قارئین کو بندہ کی آج سے پانچ سال قبل کی تحریر بہ عنوان "مبنی بر حقیقت روداد” کی طرف مراجعت کرنی ہو گی ۔ لیکن افسوس کہ میری پرانی آئی ڈی بند کر دی گئی، ہم اس روداد کو دوبارہ نشر کرنے والے ہیں۔ ان شاء اللہ) اور پھر ان ابحاث کے بارے میں آنکھیں بند کرنا جنہیں خود جامعۃ الرشید کی طرف سے ہوا دی گئی ہو عقل و انصاف کے تقاضوں کے یکسر خلاف ہے ۔

مفتی محمد زرین خان صاحب المعروف مفتی محمد صاحب جو رئیس دارالافتاء ہونے کے ساتھ شیخ الحدیث کے منصب پر بھی فائز ہیں۔ اور روزنامہ اسلام کے چیف ایڈیٹر کے منصب پر بھی براجمان چلے آرہے ہیں، اور سنا ہے کہ اب "زیرعتاب” نئے بورڈ کی جنرل سیکریٹری کی اہم ذمہ داری بھی انہی کے سپرد ہوئی ہے، ان کی سرپرستی میں 2015ء میں مولانا اسماعیل ریحان نے اخبار میں کالم لکھے، مشاجرات صحابہ کی بحث چھیڑنے کے علاوہ امام طبری کی منقولہ منافی عصمت روایات کا دفاع کیا جس پر باقاعدہ بالمشافہ احتجاج کیا گیا بعد ازاں پروفیسر قاضی محمد طاہر علی ہاشمی رحمۃ اللہ علیہ نے 832 صفحات کی مدلل کتاب بنام "امام طبری کون؟ مورخ مجتہد یا افسانہ ساز” تالیف فرمائی، بندہ بذات خود مفتی محمد زرین خان صاحب کو ان کے دفتر میں مذکورہ کتاب دے کر آیا۔

پھر تین ماہ بعد اسماعیل ریحان صاحب نے 18 اکتوبر2016ء کو طعن و تشنیع ، کذب و افتراء پر مبنی کالم لکھا، علمی اختلاف اپنی جگہ لیکن اس کالم میں جامعۃ الرشید کے ہاں مہمان خصوصی بننے والے اوریا مقبول جان صاحب کی تذلیل کے ساتھ جس طرح پروفیسر قاضی طاہر علی الہاشمی صاحب رحمہ اللہ پر افترا بازی کر کے ان کو بدنام کرنے کی کوشش کی اور ہتک عزت کی گئی، اس پر حضرت قاضی صاحب نے 398 صفحات پر مشتمل "کھلا خط” بنام چیف ایڈیٹر روزنامہ اسلام لکھا۔ جسے بندہ مفتی محمد صاحب کے دفتر میں پہنچا کر آیا۔ اس خط کی کاپی حضرت استاذ صاحب کے نام پر بھیجی گئی تھی جسے ان تک بھی پہنچایا گیا۔ اس خط میں اسماعیل ریحان کے کالموں کے تناظر میں مفتی

محمد صاحب پر سوالات کی بوچھاڑ کی گئی ہے۔ مفتی صاحب کی خدمت میں نمبروار 321 سوالات رکھے گئے تھے۔ لیکن یہ سن کر قارئین کو یقینا حیرت ہو گی کہ بحیثیت چیف ایڈیٹر بھی مفتی محمد صاحب نے مصنف پروفیسر ہاشمی صاحب کے نام دو سطری خط، رسمی طور پر بھی نہیں لکھا کہ آپ کی بھیجی گئی کتب موصول ہوئیں، آپ کے موقف پر غور کیا جائے گا۔ اگر ہم نے اپنی غلطی محسوس کی تو قارئین کی درست راہنمائی کی جائے گی ۔ اگر کسی دنیا دار اخبار کے خلاف دو عدد کتب مارکیٹ میں آتیں تو اس کے ایڈیٹر اور چیف ایڈیٹر دہریے بھی ہوتے تو وہ اپنے "مخالف” کو رسمی طور پر ہی سہی، خط ضرور لکھتے۔

جامعۃ الرشید کی اس سرد مہری اور بے حسی کا ذکر راقم نے ایک مرتبہ لاہور مسجد شہداء کے خطیب مولانا قاضی محمد یونس انور صاحب سے ایک ملاقات کے دوران کیا تو حیرت و افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہنے لگے کہ: "میں ایک مرتبہ قاضی حسین احمد صاحب کی عیادت کے لئے ہسپتال میں گیا، لیکن قاضی صاحب کو انتہائی نگہداشت میں رکھا ہوا تھا اور میری ملاقات نہ ہوسکی، ان کے رفقاء سے مل کر واپس آگیا، بعد میں قاضی حسین احمد صاحب کو میری آمد کا معلوم ہوا تو انہوں نے اپنی طرف سے شکریہ کا خط لکھوایا کہ آپ عیادت کے لئے تشریف لائے، اور وہ خط مجھے جماعت اسلامی والوں نے بذریعہ کوریئر بھیجا تھا” مفتی محمد صاحب کی طرف سے ہاشمی صاحب کے دلائل کا رد اور سوالات کے جوابات دینا تو درکنار ٹیلیفون یا خط تک نہیں لکھا گیا۔ یہ لوگ تو صحافتی اور اخلاقی اقدار سے بھی عاری پائے گئے ہیں۔

مشاجرات صحابہ جیسے حساس موضوع کو اخباری سطح پر لانے کے بعد جب عوام نے احتجاج کیا تو انہوں نے انتہائی "مغرورانہ” طرز اختیار کیا، کمال بے اعتنائی برتی گئی ۔حتی کہ جامعۃ الرشید کے دارالافتاء میں راقم نے ایک گستاخانہ کتاب (جو دیوبندی کہلانے والے مفتی نے لکھی) سے ایک استفتاء مرتب کر کے، عبارات انڈر لائن کر کے کتاب کا نسخہ بھی ساتھ دیا، لیکن اس استفتاء کا جواب دینے سے بھی انکار کر دیا گیا!!!

کیا صحابہ پر طعن نشر کرنے کے بعد احتجاج کے مقابلے میں "سکوت” اختیار کرنا شرافت یا دیانت ہے؟؟
کیا یہاں عوام کی راہنمائی سے پہلو تہی کرنا اور اپنے پھیلائے ہوئے زہر کا تریاق نہ کرنا خوف آخرت ہے؟
کیا یہاں "اپنی غلطی کا اعتراف” بڑا پن نہیں ہے؟

چلیں آپ نے جو لکھا وہی آپ کے نزدیک "حرف آخر” سہی لیکن کیا "خط” لکھنے والے ایک کثیر حلقہ عوام کے نمائندہ عالم کو "جواب” کی اخلاقی جراَت بھی آپ کی شان متکبرانہ کے خلاف ہے؟؟ افسوس صد افسوس یہاں آکر ہمیں اپنے ہی عقیدت کے بت پاش پاش ہوتے نظر آئے، نہ صحافتی اقدار کا خیال کیا گیا، نہ عالمانہ روش اپنائی گئی، نہ اخلاقیات کا پاس کیا گیا، نہ صحابہ کرام سے حیا کیا گیا اور نہ ہی رسول اللہ فداہ ابی و امی کی ذات کا ہی احساس کیا گیا!!!

تاریخ میں ایسی بے حسی شاید ہی کسی نے دیکھی ہو!!

آخر میں ترجمان عبدالودود صاحب سے پھر یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اگر "مسکت” جواب ہے تو اپنے قارئین کو محروم نہ کیا جائے، اور آخرت تک کے انتظار کی مہلت سے بچایا جائے۔ ہم نے اسماعیل ریحان صاحب کا نوٹس اس لئے لیا تھا کہ دو چار سو سال کے بعد آنے والے یہ کہیں گے کہ اگر اسماعیل ریحان غلط ہوتا تو مفتی عبدالرحیم صاحب اور تقی عثمانی صاحب جیسے لوگ اس کا رد کرتے جبکہ انہوں نے نہ صرف سکوت کیا بلکہ تائید کی ہے، الحمدللہ! ہم نے آنے والوں کے جھگڑوں کا سدباب کردیا ہے، اور ترجمان صاحب آپ بھی آنے والوں کے جھگڑوں کو یہاں ہی نمٹا دیں، ورنہ کل کو لوگ یہی کہیں گے کہ اگر مسکت جواب ہوتا تو دیا جاتا۔

ہم عن قريب بے حسی کے باب کو بیدار کرنے کے سلسلے کی ایک اور کڑی بنام "اسماعیل ریحان کی تاریخ امت مسلمہ اور تنقیص صحابہ” دیگر دیوبندی قیادت کے ساتھ ساتھ جامعۃ الرشید والوں کو بھی جگانے کے لئے پیش کرنے جا رہے ہیں، دیکھتے ہیں کہ کوئی احساس بیدار ہوتا ہے یا پھر اس سب کو بھی "آخرت” کے حوالے کر کے اپنے فرض منصبی سے کوتاہی اور مجرمانہ بے حسی کو "خوش نما” عنوان دے دیا جائے گا!

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *