دیار خلافت کا سفر شوق قسط 55

تحریر : مولانا ڈاکٹر قاسم محمود

روایات میں حرم شریف، مسجد نبوی اور مسجد اقصیٰ کے فضائل ملتے ہیں اور ان مقامات کی طرف "شد رحال” کو ایک خاص مقام دیا گیا ہے۔ تاہم ان کے علاوہ بھی تاریخ کے تعامل سے بہت سے مقامات مختلف حوالوں سے مرکز عقیدت و احترام قرار پائے ہیں اور ان مقامات کی طرف زیارت کی روایت کسی نص کی بنا پر تو نہیں، مگر خصوصی ذوق و عقیدت کے رجحانات کے تحت قائم ہوتی گئی ہے اور کئی ایسے مقامات ہیں جہاں اسی ذوق کی بنیاد پر مسلمان بصد شوق سفر کرتے ہیں اور محبت و عقیدت کے جذبات کی تسکین کا ساماں کرتے ہیں۔

ایسے معدودے چند مقامات میں سے ایک قونیہ شہر میں موجود حضرت جلال الدین رومی اور ان کے شیخ حضرت شمس تبریزی کی خانقاہ و مزار بھی ہیں، چنانچہ بطور خاص تصوف اور تزکیہ نفس کے شعبے سے وابستہ کوئی بھی مسلمان اور راہ سلوک و طریقت کا کوئی بھی سالک اور طالب ایسا نہیں جو تصوف، معرفت الہیہ، تزکیہ و تطہیر نفس و اخلاق کے اسرار و رموز اور تعلیمات و حکایات کے خزانے پر مشتمل شہرہ آفاق اور لا زوال کتاب "مثنوی مولانا روم” کی نسبت سے "شہر محبت” قونیہ کے ساتھ جذباتی وابستگی نہ رکھتا ہو۔۔۔

مزیدپڑھیں:دیارِِ خلافت کا سفرِ شوق: پہلی قسط

مسلمانوں کو اسلامی احکامات و عقائد کے حوالے سے عمل کے قالب میں ڈھال کر ایک سچا مومن، محبت الہیہ سے سرشار عاشق صادق اور شعوری مسلمان بنانے کیلئے مولانا روم اور آپ کے شیخ کی جو عظیم خدمات ہیں، ان سے کون ہے جو واقف نہیں ہے۔ راہ سلوک و تصوف سے وابستہ ایک دنیا تو صدیاں گزرنے کے باوجود آج بھی ان کی خدمات، ان کے ارشادات اور بالخصوص مثنوی شریف سے قدم قدم پر رہنمائی حاصل کر رہی ہے اور ان سے آج کے اس گئے گزرے دور میں بھی استفادہ کرکے معرفت خداوندی کی راہ کا نشان پاتی ہے۔۔

اکابر دیوبند کا تصوف و سلوک سے تعلق اور وابستگی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ سید الطائفہ حضرت امداد اللہ مہاجر مکی رحمت اللہ علیہ جیسے سلاسلِ اربعہ کے شناور اور شیخ کامل اکابر دیوبند کے مرشد و رہبر تھے۔ قاسم العلوم و الخیرات حجۃ الاسلام حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی اور حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی جہاں 1875 کے مجاہدین آزادی کے سرِگروہ تھے، وہیں وہ

در کفے جامِ شریعت در کفے سِندانِ عشق
ہر ہوسناکے نداند جام و سندان باختن

کے مصداق اگر وہ ایک طرف شریعت کے بہترین عالم تھے تو دوسری طرف تزکیہ نفس اور تصوف و سلوک کی راہ کے بھی رہرو تھے۔۔۔ اور وقت آنے پر وہ شریعت اور سلوک کی روشنی میں کبھی سیاست، کبھی جہاد تو کبھی تدریس کے میدان میں الغرض جہاں بھی ضرورت ہوتی، بے غرض ہو کر جوہر دکھاتے تھے۔ بعد میں انہی کے شاگردوں میں حکیم الامت مجدد الملت مولانا اشرف علی تھانوی علیہ الرحمہ اور شیخ الاسلام مولانا سید حسین احمد مدنی علیہ الرحمہ جیسے شناوران شریعت و طریقت پیدا ہوئے اور ان کے مسترشدین میں ہمارے اساتذہ اور شیوخ پیدا ہوئے جن کی ایک طویل فہرست ہے۔

یوں سینہ بہ سینہ شریعت و طریقت کا تلازم ایک تسلسل کے ساتھ ہم تک پہنچا اور الحمد للہ ہم بھی اپنی تمام تر عملی کمزوریوں اور کوتاہیوں کے باوجود اپنے اکابر کے طریق پر شریعت و طریقت کے دامن سے وابستہ ہیں اور شریعت کے ساتھ ساتھ طریقت کی وراثت سے بھی الحمد للہ بہرہ ور ہیں۔۔۔ یہی وجہ ہے کہ اپنے اکابر، اسلاف اور اساتذہ کرام اور مطالعہ دین کے طفیل ہمارے دل میں بھی حضرت جلال الدین رومی، حضرت شمس تبریزی، مثنوی شریف اور یہاں تک کہ قونیہ شہر سے بھی محبت و عقیدت کی شمع روز اول سے فروزاں رہی۔

جاری ہے)

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *