فواد چوہدری کو پیپلزپارٹی کی سندھ حکومت کا فوبیا ہوگیا ہے، مرتضی وہاب

کراچی : سندھ حکومت کے ترجمان مشیر قانون ، ماحولیات و ساحلی ترقی بیرسٹر مرتضی وہاب نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کی نااہل حکومت کے پاس عوام کو دکھانے کے لئے کوئی کارکردگی نہیں ہے جسکی وجہ سے وہ پروپگنڈے کا سہارا لیتے ہیں سندھ حکومت کے خلاف بے بنیاد الزامات عائد کرکے عوامی مسائل سے توجہ ہٹانے کی ناکام کوشش کی جاتی ہے سندھ کے خلاف پی ٹی آئی سرکار کی ناانصافیوں کے خلاف آواز بلند کرتے رہینگے ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ فواد چودھری کو پیپلزپارٹی کی سندھ حکومت کا فوبیا ہوگیا ہے ماضی میں یہ موصوف پیپلزپارٹی کے گُن گاتے نہیں تھکتے تھے آج پی ٹی آئی کے تو عنقریب یہ کسی اور کے گُن گارہے ہونگے حقائق کے برعکس بات کرنا انکا وطیرہ بن چکا ہے کیونکہ انکے پاس بتانے کے لئے کچھ نہیں ہے پچیس جولانی دو ہزار اٹھارہ کی سلیکشن کے بعد عمران خان نے قوم کو سہانے خواب دکھائے تھے جن میں سے آج تک کوئی پورا نہیں کوا آئی ایم ایف میں نہ جانے سمیت ، تین کروڑ نوکریاں، پچاس لاکھ مکانات اور تمام وعدے ہوا ہوگئے ہیں۔

بیرسٹر مرتضی وہاب نے کہا کہ بدزبان، بدتہزیب اور اخلاق سے عاری لوگ جب سے اقتدار میں آئے ہیں پارلیمان کا ماحول خراب کیا ہوا ہے انہیں پارلیمان اور نہ ہی جمہور سے کوئی سروکار ہے وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ انہیں آنکھوں میں کھٹکتے ہیں کیونکہ وہ حقائق پر مبنی بات کرکے انہیں ٹف ٹائم دیتے ہیں انہیں تو بس عثمان بوزدار جیسے چُپ رہنے والے افراد پسند ہیں جو انکو جواب نہ دے سکیں۔ یہ انکی بھول ہے کہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری یا مراد علی شاہ خاموش ہوجائینگے۔

انہوں نے کہا کہ سندھ کی آبادی کو ٹھیک طور پر رپورٹ نہیں کیا جاتا تو وزیر اعلی اپنا موقف مشترکہ مفادات کونسل میں ضرور رکھیں گے ایم کیو ایم اور جی ڈی اے نے عمران خان کا ساتھ دیا سینسز کے معاملے پر لیکن عوام کا ساتھ نہیں دیا متنازع سینس کو منظور کرنے والی کمیٹی میں علی زیدی، امین الحق اور فہمیدا مرزا شامل تھے بعد میں یہاں آکر یہ لوگ آنسو بہاتے ہیں ایم کیو ایم کے لوگ کہتے ہیں کراچی پاکستان کی معیشت میں 70 فیصد دیتا ہے وفاقی حکومت کے پی ایس ڈی پی میں دیگر صوبوں کی اسکیمیں نظر آتی ہیں لیکن جو صوبہ پاکستان کی معیشت کو چلاتا ہے اسکی کوئی اسکیم نظر نہیں آتی اس ایشو پر اتحادی کیوں خاموش رہتے ہیں ؟

مزیدپڑھیں:سندھ حکومت کانئے مالی سال کا بجٹ متوازن اور عوام دوست ہے، مرتضی وہاب

بیرسٹر مرتضی وہاب نے کہا کہ ہم سوالات اٹھاتے ہیں تو آپ الزامات پر آجاتے ہیں فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ جو ہیسے سندھ کو دیتے ہیں اسکا آڈٹ کریں گے کیا پیسے دیکر آپ احسان کرتے ہیں ؟ کیا یہ آپ کے والد صاحب کے پیسے ہیں ؟ ان کم عقلوں کو یہ نہیں معلوم کے آڈٹ کرنا وفاق کی زمہ داری ہے آڈیٹر جنرل وفاق کا نمائندہ ہے جو سالانہ بنیادوں پر آڈٹ کرتا ہے موصوف کہتے ہیں آرٹیکل 140 اے کا نفاز سندھ میں ہونا چاہئیے ؟ کیا یہ آرٹیکل صرف سندھ کے لئیے ہے؟ ہمیں بلدیاتی نظام کا طعنہ دینے والوں نے اسلام آباد سمیت کہیں بلدیاتی نظام چلنے نہیں دیا۔

بیرسٹر مرتضی وہاب نے کہا کہ عمران خان نے 2017 میں وزیر ریلوے کے لئیے کہا تھا کے اسکو مستعفی ہوجانا چائیے لیکن اب نہیں کہتے یہ ایک نہیں دو پاکستان بنا کر بیٹھے ہیں یہ لوگ ماضی کی حکومتوں پر تنقید کسی کرتے ہیں سرکلر ڈیٹ میں تیرا کھرب کا ضافہ ہوا ہے سرکلر ڈیٹ 11 سو کھرب تھا جب انکی حکومت آئی تھی اب وہ بہت بڑھ چکا ہے چینی، آٹا،ادویات،پیٹرولیم، گیس اسکینڈل انکے دور میں ہوئے ہیں یہ احتساب کی بات کرتے ہیں کوئی ایک شخص بتائیں گے جس پر چینی کے معاملے پر کارروائی ہوئی ہوادویات کے اسکینڈل میں عامر کیانی کو ہٹا دیا جاتا ہے، کوئی کاروائی ہوئی ؟بلکہ عامر کیانی کو پی ٹی آئی کا جنرل سیکریٹری بنا دیا گیا۔پیٹرول سستا ہوا تو پورے ملک سے پیٹرول غائب ہوگیا ندیم بابر کے خلاف کوئی کاروائی ہوتے ہوئے نظر نہیں آئی؟ آرٹیکل 158 کہتا ہے گیس پر پہلا حق اسکا ہوگا جہاں سے گیس نکل رہی ہو لیکن ہمیں گیس نہیں ملتی۔

سندھ میں پانی کے بحران سے متعلق بیرسٹر مرتضی وہاب نے کہا کہ گڈو پر چیک کرلیں کتنا پانی سندھ میں آرہا ہے متنازع کنالوں کو آپ لوگ چلاتے ہیں سندھ کا وزیر اعلی یا پیپلزپارٹی کا چئیرمین اس مسئلے کو اٹھاتا ہے تو کیا مسئلہ ہے؟ پھر آپکو تکلیف ہوتی ہے ہم نے بارہا کہا ہے کہ سندھ کا مسئلہ پنجاب سے نہیں بلکہ ارسا سے ہے۔ ایک سوال کے جواب میں مرتضی وہاب نے کہا کہ کہتے ہیں عمران خان خود لیڈ کریں گے تو 2018 میں کس نے لیڈ کیا ؟موصوف کو شاید علم نہیں کہ ایک ایک پیسے کا آڈٹ ہوتا ہے اتنے بڑے صوبے کو آپ دیتے کیا ہیں ؟ ہمارے دئیے ہوئے پیسوں کو آپ کس طرح استعمال کر رہے ہیں یہ ہمارا سوال ہے این ایف سی میں سندھ کو 85 ارب روپے نہیں ملے 108 ارب کراچی کی نئی اسکیموں کے لئے ہم نے رکھے ہیں کے ایم سی اور ڈی ایم سی کو الگ پیسے ملتے ہیں ٹرانسپورٹ کے شعبے پر ہم کام نہیں کر پائے اسکی وجہ ہے اور وہ ہے سوورن گارنٹی۔

انہوں نے کہا کہ 17 جولائی کو کراچی کی بسوں کے لئیے ٹینڈر کھل رہے ہیں ایدھی لائن دو ماہ میں مکمل ہو جائے گی ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میڈیا پروٹیکشن بل پر میڈیا ورکر نے محنت کی تھی جب وہ بل سندھ اسمبلی سے منظوری کے بعد گورنر سندھ کے پاس گیا تو اس بل کو رد کر دیا یہ وہ لوگ ہیں جو اظہار رائے کے علمبردار بنتے ہیں انہوں نے یہ کام کیا ہے ہم پھر وہ بل سندھ اسمبلی سے پاس کریں گے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *