اسلام آباد کا خوشگوار سفر قسط نمبر 3

تحریر : مولانا ڈاکٹر قاسم محمود

مولانا عمران صاحب نے اپنی روایتی زندہ دلی، خوشدلی، والہانہ محبت اور تپاک سے ایئرپورٹ کے باہر ہمارا استقبال کیا۔۔۔ علیک سلیک اور رسمی تبادلہ احوال کے بعد ہم روانہ ہوئے۔ کچھ دیر میں ہی مولانا عمران صاحب نے ہمیں وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے اجلاس کے مقام جامعہ زکریا ترنول پہنچا دیا۔ ہم یہاں اتر کر اجلاس کیلئے روانہ ہوئے اور مولانا عمران صاحب یہ وعدہ لیکر رخصت ہوئے کہ اجلاس ختم ہوتے ہی مجھے اطلاع کر دیجئے گا۔۔۔

دن بھر وفاق المدارس کے اس اہم اجلاس کی مختلف کارروائیوں میں مصروفیت رہی۔ دوپہر کے کھانے کا وقت چونکہ اجلاس کے دوران آ رہا تھا اس لئے ملک بھر سے آئے ہوئے شرکائے اجلاس کیلئے جامعہ زکریا میں ہی طعام کا انتظام تھا۔ کھانے کے بعد پھر مختصر اور اجلاس کی اختتامی کارروائی عمل میں آئی اور ہم تقریباً تین بجے سہ پہر اجلاس کے تمام تقاضوں سے فارغ ہوگئے۔ میں نے مولانا عمران صاحب کو اطلاع دے دی تو وہ کچھ ہی دیر میں ہنستے مسکراتے گاڑی لیکر پھر پہنچ گئے۔۔۔

مزید پڑھیں:اسلام آباد کا خوشگوار سفر

مولانا عمران صاحب ماشاء اللہ ان علماء میں سے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے علم و تقوی کے ساتھ ساتھ با برکت مال و ثروت سے بھی نواز رکھا ہے۔۔۔ مال و دولت رکھنے والوں کی دنیا میں کمی نہیں، مگر اہل علم اور اہل دین کو مال و دولت بھی ملے تو اس کا رنگ ہی اور ہوتا ہے۔ ان کو دیکھ کر صحیح سمجھ میں آتا ہے کہ مال و دولت کا حقیقی مصرف کیا ہے اور اسے کیسے برتا جاتا ہے۔ چنانچہ جہاں اللہ نے انہیں مال سے نوازا ہے وہاں انہیں اپنا مال راہ خدا میں خرچ کرنے اور اہل علم کی بھرپور خدمت کی توفیق اور شعور سے بھی خوب نوازا ہوا ہے۔۔۔۔ چنانچہ وہ ہمہ وقت علما کی خدمت میں اپنا مال اور وقت بڑی محبت سے لٹاتے رہتے ہیں۔۔۔ وہ ایک مدرسے میں باقاعدہ تدریس سے وابستہ ہیں۔ ساتھ ہی دین کی دعوت کے عظیم مشن کو بھی وقت دیتے ہیں اور مردان سے اسلام آباد تک پھیلے ہوئے اپنے کاروبار کو بھی دیکھتے ہیں۔

اس کے علاوہ ہمہ وقت دوسرے دینی مشاغل، گھریلو مصروفیات اور دوست احباب سے ملاقاتیں اور اسفار مستزاد ہیں۔۔۔ اسے کہتے ہیں "برکتِ اوقات”۔۔۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ایک دعا منقول ہے جس میں برکت اوقات کی دعا بھی بطور خاص شامل ہے۔۔۔ مولانا عمران صاحب کی دینی، عائلی، سماجی اور کاروباری مصروفیات کو دیکھ کر رشک آتا ہے اور یہ بات بخوبی سمجھ میں آتی ہے کہ یہ دراصل اس برکت اوقات کی کرامت ہے جو اللہ تعالیٰ اپنے خاص بندوں کو عطاء فرماتا ہے۔۔

جاری ہے

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *