منٹو کے گنجے فرشتے

منٹو کے فرشتے

” کیا یہ حقیقت آشکارا نہیں کہ یہ قوم اور مذھب سراب نہیں ایک ٹھوس حقیقت ہے!! ”

جو مذکورہ عبارت ابھی آپ نے پڑھی ہے
یہ بھی سعادت حسن منٹو کی لکھی ہوئی ہے جس کے بارے میں آج تک عوام الناس ایک درست شخصیت کا فیصلہ نہیں کرسکے!

سعادت حسن پر ٹھنڈا گوشت کا مقدمہ قریب قریب ایک سال چلا اور پھر ماتحت عدالت نے تین ماہ قیدِ بامشقت اور تین سو روپے جرمانے کے سزا دی
سعادت حسن کو لکھنے سے کوفت ہوگئی
وہ خود کو ایک کمرے میں بند کرنے کا خواہاں ہوگیا
یا وہ سوچنے لگا کہ بلیک مارکیٹنگ شروع کردوں اور ناجائز طور پر شراب کشید کرنے لگوں مگر اسے ڈر تھا کہ ساری شراب وہ خود ہی پی جائے گا
الاٹمنٹ کے لئے دی گئی درخواست جب اس کی رد کی گئی تو اس کا جواز اس کا ترقی پسند لکھاری ہونا بنایا گیا جبکہ دوسری جانب ترقی پسند لکھاریوں کے گروہ نے اسے رجعت پسند کہ کر رد کردیا
منٹو نے ایک طویل عرصہ رائیٹر بلاک کے بعد دوبارہ قلم اٹھایا اور سوچا کہ کیوں نا اپنی جان پہچان کے ایکٹر، ایکٹرسوں پر لکھا جائے
سعادت حسن منٹو کی کتاب “گنجے فرشتے” انہی مضامین کا مجموعہ ہے!!

سعادت حسن اس کتاب میں ایک مبصر، تجزیہ نگار اور ناقد بن کر ابھر آیا
وہ ہر کہانی میں الگ طور پر سامنے آیا
اس نے سچ کو سچ ہی لکھا اور جھوٹ پر کسی قسم کا پردہ نہیں ڈالا
جیسے منٹو کو اوچھے گھاؤ اور بھدے زخم پسند نہیں تھے اسے جھوٹ بھی پسند نہیں تھا
لکھتے لکھتے اس نے اپنا باطن دکھانے میں بھی ہچکچاہٹ پیش نہیں کی
اس نے پوری کتاب میں جب وہ اوروں کا تذکرہ کررہا تھا
اپنا تذکرہ بھی اتنا ہی کھلا لکھا تاکہ اس کا اپنا قاری اس کے بارے میں کوئی خوش فہمی نا پالے

منٹو محبّ وطن ہے
اس کی کتاب کا پہلا مضمون محمد علی جناح پر ہے
وہ اسے عقیدت سے لکھتا ہے
منٹو قاری کا ہاتھ پکڑ کر اس دور میں لے جاتا ہے جہاں کا وہ تذکرہ کررہا ہے
منٹو مسلمان ہے
وہ لکھتا ہے کہ “اسلام اور ہادئ اسلام کے خلاف لوگ دریدہ دہنی کرتے رہے ہیں لیکن اس سے کچھ فرق نہیں پڑتا پاکستان کے خلاف بھی لوگ ایک عرصے تک زہر اگلتے رہیں گے اس سے کیا ہوتا ہے کوئی آرٹسٹ کسی کی مذھبی دل آزاری کا باعث نہیں بن سکتا”

گوکہ لوگ اور کم فہم مگر بڑا فرقہ اسے محض فحش گو، ننگا، خواہشات ابھارنے والا اور فقط لکھاری ہی جانتے ہیں مگر منٹو کہتا ہے کہ وہ ایک بیوی کا شوہر اور تین بیٹیوں کا باپ “بھی” ہے!!

منٹو کی باتیں تلخ، کاٹ دار اور نوکیلی ہیں
وہ اپنے جملوں پر حقائق کا زہر لگا کر قاری کے اندر گھونپ دیتا ہے پھر خاموش کھڑا قاری کی تکلیف کو خود میں محسوس کرتا ہے
وہ کہتا ہے کہ اداکاری معیوب کیوں سمجھی جاتی ہے؟ کیا ہمارے خاندان کے حلقے میں ایسے افراد نہیں ہوتے جن کی ساری عمر فریب کاریوں اور ملمع کاریوں میں گزر جاتی ہے؟ جب وہ لوگ ساری عمر اداکاری کے باوجود معتبر سمجھے جاتے ہیں تو ایک سچ مچ کا اداکار کیوں برا ہے؟

منٹو نے بہت کچھ سہا ہے
اس کی کتاب میں سمجھنے والوں کے لئے اس کا درد بھرا پڑا ہے سعادت حسن کو تقسیم نے کاٹ کر کئی حصوں میں تقسیم کردیا ہے
منٹو زندہ ہے مگر دکھتا نہیں ہے
اچھا ہے وہ دکھتا نہیں ہے وگرنہ آج پہلے سے زیادہ اس پر طعن و تشنیع کی جاتی عین ممکن تھا اسے اس کی حق گوئی کے جرم میں مذھب مذھب اور وطن وطن کھیلنے والے گلیوں میں مارتے، لہو لہان کرتے اور عین ممکن تھا کہ کچھ نامعلوم افراد اس پر پٹرول ڈال کر آگ لگا دیتے
منٹو معتبر ہے
جیسا وہ تھا اور جیسا وہ ہے
کوئی بھی اسے من و عن کسی بھی پردے پر اتار نہیں سکتا کیونکہ منٹو اپنے ایسا ہونے میں اکلوتا تھا
اس کی جگہ کوئی نہیں لے سکتا
البتہ کوشش کی جاتی رہتی ہے تاکہ منٹو کو وہ دیا جاتا رہے جو اس سے چھینا گیا تھا

منٹو کی کتابِ مذکورہ “گنجے فرشتے” پڑھنے لائق ہے میری رائے یہ ہے کہ ایک کھلے ذھن والے طالب علم کو ہمیشہ منٹو کا شاگرد رہنا چاہئے
کتاب میں آزادی پر منٹو کی کھلی رائے درج ہے
اس کی ہجرت کے چند سطریں ہی رلانے کے لئے کافی ہیں
میرے بس میں ہوتو میں پوری کتاب یہاں اتار دوں اور چاہوں تو اس کی باتوں کی تفصیل بیان کرتے ہوئے ایک اور کتاب لکھ دوں مگر اس کے چھوڑے گئے سوالوں کا جواب نہیں دے سکتا ہوں
سعادت حسن کے سوالوں کا جواب تو خود منٹو کے پاس بھی نہیں تھا
وہ کہتا ہے
“14 اگست کا دن میرے سامنے بمبئی میں منایا گیا پاکستان اور بہارت دونوں آزاد ملک قرار دئیے گئے تھے لوگ بہت مسرور تھے مگر قتل اور آگ کی وارداتیں باقاعدہ جاری تھیں ہندوستان زندہ باد کے ساتھ ساتھ پاکستان زندہ باد کے نعرے بھی لگتے تھے کانگرس کے ترنگے کے ساتھ اسلامی پرچم بھی لہراتا تھا سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ ہندوستان اپنا وطن ہے یا پاکستان اور وہ لہو کس کا ہے جو ہر روز اتنی بے دردی سے بہایا جا رہا ہے؟ وہ ہڈیاں کہاں جلائی جائیں گی یا دفن کی جائیں گی جن پر سے مذھب کا گوشت پوست چیلیں اور گدھ نوچ کر کھا گئے ہیں؟ اب کہ ہم آزاد ہوئے ہیں ہمارا غلام کون ہوگا؟؟ جب غلام تھے تو آزادی کا تصور کرسکتے تھے اب آزاد ہوئے ہیں تو غلامی کا تصور کیا ہوگا ؟؟
لیکن سوال یہ ہے کہ ہم آزاد ہوئے بھی ہیں یا نہیں؟؟؟؟”

منٹو کو پڑھنا تاریخ پڑھنے جیسا ہے
کبھی کبھار جب مذھبی انتشار سے وطن میں دھوئیں کے بادل اٹھتے ہیں یا کوئی انسانیت کا ننگ دکھاتا واقعہ پیش آتا ہے یا جب جب ملک کی خرید و فروخت کی دبی دبی چنگاریاں اڑتی ہیں اور جب بے گناہوں کو بلا جرم سزا و صعوبت سے لاچار کیا جاتا ہے تو ایسا لگتا ہے منٹو ہمیں کہیں سے چھپ چھپ کر دیکھ رہا ہے اور شاید کہ رہا ہو “ہپ ٹلا”؟ یا وہ طنز کررہا ہوں یا شاید وہ اس درد بھری گلی سے نکلتے ہوئے رو رہا ہو
ہو سکتا کے منٹو زندہ ہو مگر وہ یہاں سے بیزار ہو کر کہیں چلا گیا ہو جیسے وہ تقسیم اور اس کے درد سے بے زار ہوکر ایک روز ہندوستان سے کسی پاکستان نامی جگہ چلا گیا تھا!!

مجھے نہیں پتا منٹو کہاں ہے
مگر وہ بہت کڑوا ہے اور پرلے درجے کا سچا ہے
اسی لئے اچھا ہے کہ وہ اب یہاں نہیں ہے وگرنہ وہ بڑی بے دردی کی موت مارا جاتا!!

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *