محکمہ تعلیم سندھ کی غفلت نے IBA پاس اساتذہ کو احتجاج پرمجبورکردیا ، کراچی پریس کلب پر پیر کو احتجاج ہو گا

تعلیمی الرٹ

آج بروزاتوار بتاریخ 15 دسمبر 2019 کو آئی بی اے ٹیسٹ پاس ھیڈ ماسٹرز وھیڈ مسٹریسز کا نوکریوں سے جبری برطرف کرنے اور مستقل نہ کرنے کے خلاف احتجاجی ریلی نکال کر حیدرآباد پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔

احتجاجی ریلی کا آغاز اولڈ کیمپس سے کیا گیا، ریلی ایس ایس پی آفیس، ریڈیو پاکستان چوک سے ہوتی ہوئی حیدرآباد پریس کلب پہنچ کر احتجاج میں تبدیل ہوگئی۔جس میں خواتین و بچوں سمیت،اساتذہ،سماجی شخصیات اور سول سوسائٹی کے نمائندوں سمیت شرکاء کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔شرکائے ریلی نے اپنے ہاتھوں میں تصویریں، بینرز اور پلے کارڈ اٹھائے ہوئے تھے، جس میں آئی بی اے ٹیسٹ پاس ھیڈ ماسٹرز وھیڈ مسٹریسز کو مستقل کرنے کے حق میں نعرے درج تھے۔

اس موقعے پر شھزاد شھمیر چانڈیو، ارشد محمود، فیض گل چھلگری،واحد راہموں، عامر بگھیو، سیدہ مومنہ مسرت، ناصرہ خاتون و دیگر کا کہنا تھا کہ ایک طرف سندھ کے سرکاری اسکولوں میں پانچ ھزار کے قریب ھیڈماسٹرز اور ھیڈمسٹریسز کی آسامیاں خالی ہیں دوسری طرف بلاوجہ ہمیں نوکریوں سے فارغ کر کہ معاشی قتل عام کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔سندھ حکومت نے ماضی میں ھزاروں کی تعداد میں کانٹریکٹ ملازمین بھرتی کئے ہیں جن کو سندھ اسیمبلی میں قانون سازی کے ذریعے کے مستقبل بھی کیا ہے۔مگر ہمارے ساتھ دوہرا رویہ اختیار کر کہ ہماری نوکریوں کی مستقلی کو ٹال مٹول کیا جا رہا ہے۔

اس صورتحال میں آج سیکڑوں کی تعداد میں مختلف اضلاع سے آئے ہوئی ھیڈماسٹرز/ھیڈمسٹریسز،اساتذہ، سول سوسائٹی میمبران ، تعلیم دوست و سماجی شخصیات احتجاجی ریلی میں شرکت کی اور حیدرآباد پریس کلب کے جمع ہوکر پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ، چیف سیکرٹری سندھ سید ممتاز علی شاہ اور سیکرٹری اسکول ایجوکیشن احسن منگی سے پرزور مطالبہ کیا کہ ھیڈماسٹرز اور ھیڈمسٹریسز کی مستقلی کے اہم معاملے پر سنجیدگی کے ساتھ غور و فکر کیا جائے اور جلد از جلد سندھ کیبینیٹ کی منظوری کے بعد سندھ اسیمبلی ایکٹ کے ذریعے نوکریوں کو مستقل کیا جائے۔دیگر صورت میں احتجاج کا دائرہ وسیع کیا جائے گا۔
سندھ حکومت کی جانب سے ورلڈ بینک کی نگرانی میں 2015 میں بغیر کسی تفریق اور سفارشات ک شفاف میرٹ کے تحت آئی بی ای سکر جیسے نامور ادارے کی مدد سے ھیڈماسٹرز اور ھیڈمسٹریسز کی خالی آسامیوں کے لئے ٹیسٹ لیا گیا۔ جس میں 7000 سے زائد امیدوراں نے حصہ لیا اور 1080 امیدوار کامیاب ہوئے۔جس کے بعد چیف سیکرٹری کی جانب سے کمیٹی تشکیل دے دی گئی اور انٹرویو لیئے گئے۔ ڈگریوں اور اسناد کی تصدیق ہائیر ایجوکیشن کمیشن سے کروائی گئی۔ زیبسٹ اور پراونشل انسٹیٹیوٹ آف ٹیچرز ایجوکیشن کی مدد سے مسلسل 14 دن کا ٹریننگ کورس بھی کروایا گیا۔

جس کے بعد 957 اہل امیدواروں کو کانٹریکٹ کے بنیاد پر بھرتی کے تقرر نامے جاری کئی گئے۔ بھرتی کا مکمل عمل وزیر اعلیٰ سندھ کے احکامات سے ہوا۔ہم اہل نوجوان ملازمین اپنی اعلیٰ جذبے اور باکمال صلاحیتوں کی مدد سے وسائل کی کمی کے باوجود بنجر سرکاری اسکولوں کو گلشن کے طرح سنوارنے کی کوششوں میں ہیں۔تمام تکالیف،پریشانیان اور محنتوں کے بعد ان مقرر سرکاری اسکولوں میں کافی حد تک مثبت تعلیمی ماحول جڑ چکا ہے۔جس بات کا اعتراف سابقہ وزیر تعلیم سید سردار علی شاہ،سیکریٹری تعلیم قاضی شاہد پرویز صاحب اور سیکریٹری تعلیم احسن منگی بھی کر چکے ہیں۔۔تسلی بخش کارکردگی پر محکمہ تعلیم نے اعزازی سرٹیفیکیٹ بھی جاری کئے ہیں۔

اس دوران وقف و وقف سابقہ وزیر تعلیم سید سردار علی شاہ اور سیکرٹری تعلیم قاضی شاہد پرویز نے میڈیا کے سامنے ہماری نوکریوں کو مستقل کرنے کی یقین دھانی بھی کروائی۔ مگر افسوس کانٹریکٹ کا دورانیہ ختم ہوتے ہی اچانک ایک سال کا مزید کانٹریکٹ بڑھا کر نوکریوں سے فارغ کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا۔جسکو ہم مسترد کر چکے ہیں۔ ماہ سیپتمبر میں کراچی میں پر بھرپور احتجاج کیا گیا۔ جہاں پر ہماری دادرسی کرنے کے بجائے پرامن اساتذہ پر واٹر کینن، لاٹھی چارج اور آنسو گیس استعمال کر کہ شدید تشدد کیا گیا۔جس میں درجنوں اساتذہ کو بے جرم گرفتار کیا گیا۔ مسلسل ایک ماہ کراچی پریس کلب کے سامنے احتجاج کرنے پر وزیر اعلیٰ کی جانب سے مستقلی کا معاملہ حل کرنے کے لئے کابینہ کمیٹی تشکیل دے دی گئی۔3 ماہ گزرنے کے باوجود وزیر اعلیٰ سندھ کی تشکیل شدہ کابینہ کمیٹی معاملہ حل کرنے کےلئے کوئی بھی سنجیدہ اقدام نہیں اٹھائے۔

ادھر پیر کو کراچی میں بھی کراچی پریس کلب پر احتجاجی مظاہرہ کیا جائے گا جو ایک بجے شروع ہو کر سہ پہر تین بجے اختتام ہزیر ہو گا۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *