دیار خلافت کا سفر شوق (قسط 53)

تحریر: مولانا ڈاکٹر قاسم محمود

اندھیرا چھا جانے کے باعث بس کا اندرونی ماحول خاصا خواب آور سکون سے ہم آہنگ ہوگیا تھا۔ فضا ایسی تھی کہ بندہ مطالعہ کیلئے کتاب اٹھائے تو زیادہ دیر جاری نہ رکھ سکے۔ باتیں اور گپ شپ بھی زیادہ دیر نہ کی جا سکتی تھی اور کوئی اور مصروفیت بھی ایسی نہیں ہو سکتی تھی جس میں زیادہ دیر انہماک جاری رکھا جا سکے، یہاں تک کہ بس کے سبک خرام جھولوں اور ہچکولوں میں زیادہ دیر تک موبائل کا استعمال اور سوشل میڈیا پر اسکرول ڈاو ¿ن بھی اب بوریت سے اٹ چکا تھا۔

چنانچہ جلد ہی ایک ایک کرکے ہم سفر ساتھی خمار خواب کے بوجھ سے بھاری سر بے اختیار ڈھلکانے لگے…. ممکن ہے دوسرے ساتھی بھی اسی طرح جذب و کیف کے عالم سے گزرے ہوں، جس سے میں گزر رہاتھا، تاہم میں چونکہ خود محویت و جذب کے حال میں تھا، اس لیے دوسرے حضرات کی طرف توجہ نہ کر سکا۔ اپنا عالم وہی کہ ایک بار پھر ہر طرف سے آوازیں خاموش اور ماحول میں سکون و آرام کی لہر چھا گئی تو اب میں قونیہ ، تصوف، تزکیہ، معرفت واسرار قدرت خداوندی اور حضرت جلال الدین رومی علیہ الرحمہ کے حالات و کردار کی طرف یکسوئی سے مراقب ہوا۔

ہمیں سفر کرتے ہوئے کوئی ساڑھے تین گھنٹے گزر چکے تھے۔ سفر کا زیادہ حصہ دن کی روشنی میں طے ہوا اور اب ہم رات کا سینہ چاک کرکے اپنی منزل کی طرف بڑھتے چلے جا رہے تھے۔ میری توجہ دل و دماغ کی فضا میں محو گردش خوش کن تصورات پر اس قدر جذب ہوچکی تھی کہ اب ٹھیک سے یاد بھی نہیں کہ سفر کا باقی حصہ میں نے مراقب ہو کر جاگتے گزاری یا کچھ دیر بعد میرا مراقبہ نیند کی وادی میں منتقل ہوا۔

مزید پڑھیں: دیار خلافت کا سفر شوق (قسط 51 )

البتہ اتنا یاد ہے کہ میں آس پاس سے بے خبر، اک عالم مدہوشی میں قونیہ، معرفت الٰہیہ، حضرت رومی اور متعلقات میں ہی محو و مگن رہا۔۔۔ مزید تفصیل کا موقع نہیں، مگر اس محویت نے مجھے اس قدر مسرور اور منہمک رکھا کہ بیان سے باہر ہے…. پتہ ہی نہ چلا کہ ہم کتنا چلے۔

اسی دوران ہوٹل سے نکلے ہوئے ہمیں خاصی دیر ہوگئی تھی اور میں تصور میں کھویا ہوا تھا کہ اچانک دل کی دھڑکنیں بے ترتیب ہوگئیں۔ ایک عجیب سے سرور اور نشیلے احساس نے پورے وجود کو اپنی مٹھی میں جکڑ دیا۔ معاً خیال اس بات کی طرف پھر گیا کہ ہو نہ ہو ہم منزل مقصود یعنی مولانا روم کے عظیم شہر قونیہ کی حدود میں داخل ہوگئے ہیں۔ صاف محسوس ہوا کہ ایک خاص حد میں داخل ہوتے ہی احساسات کی دنیا یکسر بدل گئی ہے۔ تاہم میں بدستور محو ہی رہا۔ میں خیالات و تصورات کی دنیا میں ارد گرد سے بے نیاز اپنی نشست پر بیٹھا ہوا تھا کہ نئے احساس کی حدود میں داخل ہونے کے کوئی آدھا گھنٹہ بیس منٹ بعد کسی نے اچانک میرے شانوں پر ہاتھ رکھ کر مجھے جھنجھوڑا تو میں طلسم خیال سے باہر آیا۔

دیکھا کہ ہلچل ہے، ساتھی تقریبا اتر چکے ہیں، میں نے کچھ نہ سمجھتے ہوئے مڑ کر دیکھا تو مجھے بتایا گیا ہم قونیہ شہر پہنچ چکے ہیں، اترجائیے…. یہ سن کر دل کی دھڑکنوں کا عجیب عالم ہوگیا، مجھے یقین ہی نہیں آ رہا تھا کہ میں واقعی اس شہر میں قدم رکھ رہا ہوں، جو میرے دل و دماغ میں، میرے خیالات و تصورات میں اور میرے خوابوں میں برسوں سے بسا ہوا تھا۔ جس کی طرف آغاز سفر کے ساتھ ہی میں کسی اور عالم میں چلتا ہوا یہاں پہنچا تھا۔

مزید پڑھیں: دیار خلافت کا سفر شوق (قسط نمبر 50)

مجھے یوں محسوس ہو رہا تھا کہ میں شاید ہمیشہ کی طرح کوئی خواب ہی دیکھ رہا ہوں، میں اب بھی کسی خواب کا حصہ ہوں، خواب میں ہی اب میں چلتا ہوا حضرت رومی کی مرقد کا رخ کروں گا اور مزار کے قریب پہنچ کر داخل ہونے کیلئے قدم اٹھاتے ہی ٹھوکر لگ جائے گی اور میں خواب کا طلسم توڑ کر عالم حسرت میں واپس لوٹ جاو ¿ں گا…. انہی خیالات کے ساتھ میں نے ذرا خود کو اچھی طرح ٹٹول کر یقین حاصل کیا کہ نہیں واقعی میں خواب میں نہیں، بلکہ حقیقت میں اور عالم مثال میں شہر محبوب ربانی قونیہ پہنچ چکا ہوں….عالم غالب کی زبان میں کچھ یوں تھا:

ہے غیب غیب جس کو سمجھتے ہیں ہم شہود
ہیں خواب میں ہنوز، جو جاگے ہیں خواب میں

اسی نظری خواب ہی خواب میں ہم عالم مثال میں چلتے چلتے آج قونیہ اتر رہے تھے۔

(جاری ہے)

نوٹ: ادارے کا تحریر سے متفق ہونا ضروری نہیں، یہ بلاگ مصنف کی اپنی رائے پر مبنی ہے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *