جامعہ اردو کو5 سالہ بزنس ایکڈمک اسٹریٹجک پلان کی ضرورت ہے ، عدنان اختر

ایجوکیشن الرٹ

وفاقی اردو یونیورسٹی کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی غیر تدریسی ملازمین گلشن اقبال و عبدالحق کیمپس کے افسران و بالا کے کنوینئر عدنان اختر نے کہا کہ جامعہ اردو کو ایک باقاعدہ پانچ سالہ بزنس ایکڈیمک اسٹریٹجک پلان کی ضرورت ہے۔جس میں مکمل طور سے تمام فریقین کی مشترکہ پلاننگ کا ایک عکس واضح ہو۔

عدنان اختر نے صدر پاکستان سے اپیل کی کہ اردویونیورسٹی پر خاص توجہ دی جائے اور جامعہ کی سینیٹ میں ہونیوالے فیصلے پرمکمل عملدرآمد کویقینی بنائیں ۔انہوں نے کہا کہ جامعہ کے ہر ادارے کی باقاعدہ کی پر فارمنس انڈیکیٹرز (KPIs)جوکہ انتظامیہ، تحقیق ،تدریس ، تعین معیار پر مبنی ایک واضح پانچ سالہ فورکاسٹ پالیسی پر مبنی لائحہ عمل تیار ہو۔اور ادارے کا ہر ایک فرد اپنی کارکردگی میں اضافے کی جانچ خود کر سکے۔

انہوں نے کہا کہ جامعہ اردو کا ایکٹ ایک ماڈل یونیورسٹی ایکٹ ہے۔اورپاکستان میں یہ وہ پہلی جامعہ ہے جو اس ایکٹ کے تحت بنائی گئی ابتدا میں جامعہ اردو کی ترقی سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ جامعہ اردو نے شروع کے دس سالوں میں جو مقام حاصل کیا ہے وہ اپنی مثال آپ ہے لیکن بعد ازاں جامعہ اردو میں کچھ ایسے کرپٹ عناصر کا داخل ہو گئے جنھوں نے ادارے کو تباہی کی جانب دھکیل دیا ۔

انہوں نے کہا کہ بعض عناصر نہیں چایتے تھے کہ جامعہ اردو کے وائس چانسلر ڈاکٹر عارف زبیرکو بنایا جائے کیونکہ ڈاکٹر عارف زبیر جامعہ اردو میں ہونے والی تمام کرپشن کے خلاف سخت کریک ڈاو ¿ن کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور اور ان کی نیک نامی صبح روشن کی طرح واضح ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب ادارے کرپٹ لوگوں کو پروان چڑھاتے ہیں تو یہ کرپٹ مافیا انتظامی امور میں مداخلت کر کے پورے کے پورے سسٹم کو برباد کر دیتے ہیں۔ اور اداروں کی متوازن سمت روشن مستقبل ماند پڑ جاتا ہے اور یقینی ترقی کی منزلیں طے کرنے والا ادارہ برباد کر دیتے ہیں۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *