اسلام آباد کا خوشگوار سفر

تحریر : مولانا ڈاکٹر قاسم محمود

کچھ اتفاقات انسان کو بہت کچھ دے جاتے ہیں، زندگی کا رخ بدل دیتے ہیں، منزل متعین کر دیتے ہیں، خیالات و افکار میں ترجیحات و خواہشات میں انقلاب کی نوید ثابت ہوتے ہیں، نئے تجربے بخش دیتے ہیں، نئے تعلقات، نئے دوست، احباب سے آشنا کرتے ہیں۔ رمضان مبارک سے پہلے ہم نے حضرت قائد وفاق ترجمان اہل حق حضرت مولانا حنیف جالندھری دامت برکاتہم العالیہ کی قیادت میں ملک بھر کے ممتاز اہل علم کے ایک منتخب وفد کے ہمراہ دیار خلافت ترکیہ کا آٹھ روزہ دورہ کیا، جس کا تفصیلی احوال "لذیذ بود حکایت، دراز تر گفتم” کے مصداق قسطوں میں اب بھی جاری ہے۔ اس سفر کے دوران جہاں دیار خلافت کے کئی اہم تاریخی آثار و مقامات کی زیارت کی اور ایک ایک لمحہ لطف اندوز ہوئے، وہاں اس سفر نے لطف، نشاط، نئے تجربات، مشاہدات کے ساتھ ساتھ بہترین دوست احباب بھی دیئے۔

رفقائے سفر میں سے کچھ حضرات سے تعارف و ملاقات کا سلسلہ پہلے سے موجود تھا، کچھ ایسے تھے، جن سے غائبانہ نیاز حاصل تھا، بعض ایسے تھے جو ہم سے غائبانہ متعارف تھے، مگر ملاقات نہ تھی اور بہت سے ایسے حضرات تھے جن سے تعارف و ملاقات کا ذریعہ ہی یہ سفر بنا، الحمد للہ تمام ہی حضرات کے ساتھ ہمارا بہت ہی شاہانہ وقت گزرا، سب حضرات نے ایک دوسرے کا بہترین خیال رکھا، خوردوں نے بڑوں کا قدم قدم پر احترام کیا، قربانی دی اور بڑوں نے چھوٹوں کا خیال رکھا۔ واٹسپ گروپ کے ذریعے اب تمام حضرات سے رابطے بھی ہیں اور جہاں بھی ملتے ہیں، اس سفر کے توسط سے ایک دوسرے کو بھرپور احترام اور محبت سے نوازتے ہیں۔

مزید پڑھیں:دیار خلافت کا سفر شوق (قسط 51 )

کل بروز جمعرات علی الصبح وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے اہم اجلاسوں میں شرکت کیلئے اسلام آباد روانہ ہوا تو صورتحال کچھ ایسی تھی کہ دوستوں کو اطلاع دینا تو درکنار فیس بک پر ٹریولنگ کا اسٹیٹس دینا تک یاد نہیں رہا، دراصل ایک وقتی پریشانی کے باعث تیاری کا موقع نہیں ملا تھا۔ خیر اللہ نے بڑا کرم فرمایا، اور میں یہاں سے صبح سویرے روانہ ہوا۔۔۔ تاہم ترکی کے ہمارے ہم سفر عزیز دوست مولانا عمران صاحب سے کسی طرح رابطہ ہو گیا تھا۔۔۔

اسلام آباد ایئرپورٹ پر اترا تو یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ مولانا عمران صاحب بہ نفس نفیس انتہائی محبت و تکریم کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی گاڑی لیکر خود تشریف لائے ہیں۔۔۔ میں نے یہ دیکھ کر قدرے ناراضی کا اظہار بھی کیا کہ انہوں نے کیوں اتنی زحمت کی مگر وہ کہاں رکنے والے تھے۔ مولانا عمران صاحب نے ہمیں اپنی گاڑی میں وفاق المدارس العربیہ کے اجلاسات کے مقام جامعہ زکریا ترنول پہنچایا۔۔۔ بعد ازاں ترکی کے دیگر دو رفقائے سفر مولانا نصیب حقانی اور مولانا سید وقار علی شاہ صاحبان بھی ملے اور کچھ گھنٹے ہم نے انتہائی خوشگوار ماحول میں اکھٹے گزارے۔

انشاءاللہ اس کا احوال اگلی نشست میں پیش کیا جائے گا۔ سر دست میں تینوں حضرات کا بہترین کمپنی دینے بھرپور خیال رکھنے اور بے پناہ محبتیں نچھاور کرنے پر تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ انہیں مزید عزتوں سے سرفراز فرمائے اور ان بے لوث محبتوں کو دوام بخشے۔ آمین۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *