محکمہ تعلیم کا ورکشاپ انسٹریکچرجعل سازی سے گریڈ 18 تک پہنچ گیا ، رپورٹ

الرٹ نیوز

محکمہ تعلیم سندھ کے سخت اقداما ت کے باوجود جعلسازی رکنے کا نام نہیں لے رہی،محکمہ کا ورکشاپ انسٹریکٹر جعلی لیٹر کے ذریعے 18 گریڈ پر پہنچ گیا، محکمہ نے جعلساز کو 18 گریڈ کے پوسٹ کی تنخواہ بھی جاری کر دی ۔

اس ضمن میں ذمہ دارذرائع نے بتایا کہ گورنمنٹ بوائز سیکنڈری اسکول کورنگی 3 کے ورکشاپ انسٹرکٹر ذوالفقارانورعباسی نے جنوری 2018 میں مبینہ طور پر اپنے خلاف جاری انکوائری ختم کرواکراپنی بحالی کا جعلی پروانہ جاری کروایا تھا جس کی بنیاد پر وہ ڈی ای او کورنگی اور ٹی ای او کورنگی کو بے وقوف بنا رہا تھا ، اب جب اہل محلہ اور گرلز اسکول کی انچارج کی درخواست پر سیکریٹری تعلیم کی جانب سے دوبارہ انکوائری شروع ہوئی تو 30جنوری 2018 کو جاری ہونے والے لیٹر کا بھانڈا پھوٹ گیا۔

دوران انکوائری جب سیکشن آفیسر شفیق احمد نے 30 جنوری 2018 کو جاری ہونے والے لیٹر کو جانچ کیلئے آئی ٹی ڈیپارٹمنٹ کو بھیجا تومعلوم ہوا کہ اس لیٹر کا کوئی ریکارڈ ہی موجود نہیں ہے ۔ حال ہی بھیجی گئی رپورٹ کے مطابق DEO کورنگی اور ڈائریکٹر تعلیم نے ذوالفقار انورعباسی کے خلاف خط لکھتے ہوئے بیان کیا ہے کہ محکمے کے پاس صرف ورکشاپ انسٹرکٹرتک کا ریکارڈ ہے جبکہ وہ خو کو گریڈ 18 کا افسر ظاہر کروارہا ہے اورحیرت انگیز طور پر اسے تنخواہ بھی گریڈ 18 کے پوسٹ کی جاری کی جا رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق ورکشاپ انسٹرکٹر ذوالفقارانورعباسی نے اے جی سندھ میں رشوت دیکر اپنا گریڈ بڑھوایا ہے اور محکمہ تعلیم کو رشوت دیکر جعلی لیٹربھی نکلوالیا تھا۔ ورکشاپ انسٹرکٹر ذوالفقارانورعباسی اپنے خلاف جاری انکوائری کورکوانے کیلئے سرگرم ہے ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *