جوائنٹ کمیٹی فارشیعہ مسنگ پرسنزنے اہم کانفرنس کرکے گمشدہ افراد کی بازیابی کا مطالبہ کردیا ،

الرٹ نیوز

پاکستان کا FATF کی گرے لسٹ میں شامل ہونے کی سب سے بڑی وجہ پاک وطن میں انسانی حقوق کی پامالی ہے ، دنیا بھر کی طرح پاکستان بھی انسانی حقوق کا عالمی دن منارہا ہے لیکن وطن عزیز میں انسانی حقوق کی پامالیاں عروج ہیں جس کی واضح نشانی بے گناہ شیعہ عزاداروں کا جبری گمشدہ ہونا ہے .

آرمی چیف جنرل باجوہ نے آئندہ شہریوں کو جبری گمشدہ نہ کرنے کا اعلان کیا تھالیکن جنہیں لاپتہ کیا ہوا ہے انہیں سے متعلق فیصلہ کب ہوگا ،ارباب اقتدار اور ارباب اختیار سے مطالبہ ہے کہ پاکستان میں بے گناہ عزاداروں کے جبری طور پر گمشدہ ہونے کے مسئلے ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے،محب وطن شیعہ عزاداروں کو جبری طور پرگمشدہ کرکے قانون کی دھجیاں اڑانا آئین پاکستان کی توہین ہے، متعلقہ ادارے لاپتہ افراد کو عدالتوں میں پیش نہ کرکے معزز عدلیہ کی توہین کررہے ہیں .

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے اسلامی جمہوریہ پاکستان میں شہریوں کو جبری طور پر گمشدہ نہ کرنے کا اعلان کیا تھا جو لائق تحسین ہے اور امید ہے کہ اعلان کو عملی جامہ بھی پہنایہ جائے گا لیکن آرمی چیف جبری طور پر گمشدہ کیے گئے شیعہ عزاداروں سے متعلق فیصلہ جلد از جلد کریں اور انہیں عدالتوں میں پیش کروائیں تاکہ متاثرہ خاندانوں کی مشکلات حل ہوسکیں۔

دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی انسانی حقوق کا عالمی دن منایا جارہا ہے لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے اس پاک وطن میں جو اسلامی جمہوریہ ہے جمہور کوہی کسی قسم کی آزادی میسر نہیں ہے اگر کوئی انسانی حقوق کو اپنے پاؤں تلے روندتا ہے ،انہیں ایوانوں میں پہنچا دیا جاتا ہے لیکن جو افراد انسانی حقوق کے حقیقی علمبردار ہیں انہیں ظلم کے خلاف آواز اٹھانے پر یا تو لاپتہ کردیا جاتا ہے یا ان کے خلاف جھوٹے مقدمات درج کردئیے جاتے ہیں ۔ ان خیالات کا اظہار مولانا صادق رضا تقوی، مولانا حیدر عباس، مولانا صادق جعفری رہنما ایم ڈبلیو ایم کراچی، علامہ مبشر ملت تشیع پاکستان کے نامور علمائے کرام، ذاکرین عظام و ملی و سیاسی تنظیموں کے نمائندگان سے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

انسانی حقوق کے عالمی دن کے موقع پر جوائنٹ کمیٹی فار شیعہ مسنگ پرسنز کے رہنما مولانا حیدر عباس نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے ملک میں آج ایک اہم مسئلہ شیعہ مسنگ پرسنز کا ہے لیکن کسی چینل کو کبھی شیعہ لاپتہ افراد سے متعلق کوئی خبر نشر کرتے نہیں دیکھا۔

مقررین کا کہنا تھا کہ پاکستان میں شیعہ مسنگ پرسنز کے حوالے کئی برس سے صدائے احتجاج بلند ہورہی ہے اور اس حوالے سے کئی حوالے متعدد تحریکیں بھی چل رہی ہیں جس کے نتیجے میں ہمارے درجنوں لاپتہ افراد ظاہر بھی ہوئے ہیں لیکن اب بھی ہمارے متعدد افراد ایسے ہیں جومسنگ ہیں جن میں انتہائی پڑھے لکھے اور قابل افراد بھی شامل ہیں۔

مقررین کا پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ کسی گھر سے کسی کے عزیز کا غائب ہونا قتل ہونے سے زیادہ المناک اور درد ناک ہوتا ہے، قتل کی اذیت تو کچھ وقت بعد پھر بھی کم ہوجاتی ہے لیکن اگر کوئی لاپتہ ہوجائے تو پورا خاندان مسلسل اذیت میں مبتلا رہتا ہے۔ ان لاپتہ افراد میں کتنے ہی ایسے افراد ہیں جن کے ماں باپ اپنی اولاد کو یاد کرتے کرتے دنیا سے رخصت ہوگئے، کتنی ہی بیویاں ہیں جو اپنے سھاگ کے انتظار میں بال سفید کررہی ہیں اور اولاد کو مسلسل دلاسے دے دے کر تھک چکی ہیں، ان لاپتہ افراد میں بہت سے ایسے لوگ بھی ہیں جو اپنے گھر کے واحد کفیل ہیں جن کی جبری گمشدگی کے باعث ان کا گھر معاشی بد حالی کا شکار ہے۔

مقرین نے متعلقہ اداروں ، معزز عدلیہ ،وزیر اعظم جناب عمران خان صاحب اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ صاحب سے مطالبہ کیا کہ جن افراد کو مسنگ کردیا گیا ہے ان کی رہائی کیلیئےجلد از جلد کوئی اقدام کریںان افراد کو فوری طور پر عدالتوں میں پیش کیا جائے اور اگر ان سے کوئی جرم سرزد ہوا ہے تو انہیں قانون کے مطابق سزا دی جائے اور اگر یہ بے گناہ ہیں تو ان کو رہاکیا جائے تاکہ ان کے اہل خانہ سکھ کا سانس لے سکیں.

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *