گھی انڈسٹریز میں یکساں ٹیکس نظام نافذ کیا جائے، شیخ عمر ریحان

کراچی ( ) سابق صدر کاٹی و پاکستان وناسپتی مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پی وی ایم اے) کے سابق وائس چیئرمین شیخ عمر ریحان نے وفاقی بجٹ میں عوام کو ریلیف دینے کے نام پر گھی انڈسٹریز سے وابستہ فاٹا پاٹا کے بڑے سرمایہ داروں کی گھی انڈسٹریز کو غیر ضروری اور غیر منصفانہ رعائتیں ختم کرنے اور ڈیوٹی اسٹرکچر پر نظر ثانی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہاہے کہ مراعات دینا قابل قبول نہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت فاٹا پاٹا میں گھی انڈسٹریز کو دی جانے والی نا قابل قبول رعائت کو فوری طور پر واپس لے، تا کہ گھی سے وابستہ ملک کی باقی انڈسٹریز کا پہیہ بھی رواں دواں رہے ۔

سابق صدر کاٹی شیخ عمر ریحان نے کہا کہ فاٹا پا ٹا کی انڈسٹری کو پہلے ہی سیلز ٹیکس اور انکم ٹیکس کی چھوٹ حاصل تھی، مزید سہولیات فراہم کرنا غیر منصفانہ ہے۔

مزید پڑھیں: صنعتکار کراچی پیکیج کا خیر مقدم کرتے ہیں : نکاٹی

انہوں نے کہا کہ بجٹ میں پاکستان کی گھی انڈسٹریز کو سیلز ٹیکس کے ڈھانچے میں لانا اور فاٹا پاٹا کو فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی بھی چھوٹ دینا پاکستان کی گھی انڈسٹریز کو کھنڈر بنانے کے مترادف ہے۔

سابق نائب چیئرمین پی وی ایم اے نے کہا کہ فاٹا پاٹا کی گھی انڈسٹری کو تمام ٹیکسوں کی چھوٹ حاصل ہونے کے باوجود بھی قبائلی علاقوں کی عوام کو کسی بھی قسم کا ریلیف حاصل نہیں ہو سکے گا کیونکہ درآمدی خوردنی تیل پاکستانی علاقوں میں فروخت کر دیا جائے گا اور اس کی قیمت صارفین سے وصول کی جائے گی جبکہ اس فیصلے سے حکومت کو خوردنی تیل کی درآمد میں تقریباً 160 ارب روپے نقصان ہونے کا اندیشہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم فاٹا پاٹا اور پاکستان کی گھی انڈسٹریز کے درمیان ٹیکس میں موجود خلا کو کم کرنے کے لئے یکساں ٹیکس نظام نافذ کریں ، فاٹا پاٹا گھی انڈسٹریز کو ٹیکس چھوٹ دینے سے مقامی صنعتوں کی بندش اور لاکھوں مزدور بے روزگار ہونے کا خدشہ ہے۔

مزید پڑھیں: کاٹی کے تعاون سے جنگی جہاز کے پرزہ جات تیار کرسکتے ہیں، ایئر وائس مارشل ندیم اختر

شیخ عمر ریحان نے وزیر خزانہ شوکت ترین اور مشیر تجارت رزاق داؤد فوری طور پر نوٹس لیں اور گھی انڈسٹری کے اس مسئلے کو حل کریں، کیونکہ ملکی خوردنی تیل و گھی مینوفیکچرر میں شدید اضطراب پایا جاتا ہے۔ فاٹا پاٹا کو ریلیف فراہم کرنے سے پاکستان کی گھی انڈسٹریز میں نئی سرمایہ کاری میں تعطل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *