سندھ، آئندہ مالی سال میں اسکول ایجوکیشن کے لیے 222 ارب سے زائد مختص کرنے کی تجویر

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے منگل کو مالی سال 2021-22 کے بجٹ میں محکمہ اسکول ایجوکیشن اور خواندگی کیلئے 197.368 ارب روپے سے بڑھا کر 222.102 اراب روپے رکھنے کی تجویز پیش کی گئی۔

بجٹ تقریر میں انہوں نے کہا کہ محکمہ اسکول تعلیم اور خواندگی کی 117 جاری اسکیموں اور 186 نئی اسکیموں کیلئے 14 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔ جب کہ مالی سال 21-2020ء میں یہ رقم 13.15 ارب روپے تھی۔ زیادہ تر اسکیمیں موجودہ سرکاری اسکولوں کی پرائمری سطح سے سیکنڈری سطح پر اپ گریڈ نگ، اسکولوں کی تزئین اور بہتری، فرنیچر کی فراہمی، بنیادی اور غیر موجود سہولتوں کی فراہمی، تعمیر اور موجودہ خستہ حال اسکولوں کی دوبارہ تعمیر کی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مالی سال 22-2021 میں ایک بلین روپے ایجوکیشن مینجمنٹ آرگنائزیشن کی گرانٹ ان ایڈ کیلئے مختص کئے گئے ہیں، تاکہ بعض اسکولوں کی مینجمنٹ کو EMOs کے حوالے کیا جاسکے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت سندھ نے 6.6 بلین روپے فرنیچر اور فکسچر کی خریداری کے لیے مختص کئے ہیں۔ جب کہ 6.1 بلین روپے بین الاقوامی امدادی اداروں کی مدد سے مفت نصابی کتب اور اسکولوں کی ضروریات کیلئے ہیں۔ جس میں نئی سرگرمیوں کیلئے 2.3 بلین روپے مفت نصابی کتب کے لیے 1.2 بلین روپے اسکول مینجمنٹ کمیٹی کے لیے تاکہ اسکول کی ضروریات کو پورا کیا جاسکے۔

مزید پڑھیں: سندھ، بجٹ میں کالج ایجوکیشن کے لیے 22 ارب سے زائد مختص کرنے کی تجویر

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ 5 بلین روپے اسکول کی عمارتوں کی مرمت وغیرہ کیلئے رکھے گئے ہیں۔اس کے علاوہ فوری ضرورت کے فنڈ کی مد میں 480 ملین روپے رکھے گئے ہیں تاکہ کووڈ۔19 کے تحت اقدامات کئے جاسکیں۔

انہوں نے کہا کہ 663.4 ملین روپے سندھ کی پروسکرائبڈ آرگنائزیشنز جنہیں سندھ حکومت نے تحویل میں لیا ہے کیلئے تعلیمی اثاثے کے طورپر نئے مالی سال کیلئے مختص کیے ہیں۔ 1.12 بلین روپے روان مالی سال میں مکمل ہوجانے والی ترقیاتی اسکیموں میں فرنیچر اور دیگر متعلقہ سامان کی خریداری کے لیے مختص کئے گئے ہیں۔

جب کہ ایک بلین روپے ایسے سرکاری ملازمین کے خاندانوں کو ایک بار مالی امداد کے لیے مختص کئے گئے ہیں جو دوران ملازمت انتقال کرگئے ہوں۔

انہوں نے بتایا کہ اسکول ایجوکیشن اور لٹریسی ڈپارٹمنٹ میں موجودہ مالی سال میں مختلف اہداف حاصل کیے گئے۔ 650 سے زائد اسکولوں کو پرائمری سے ایلیمنٹری کی سطح پر اپ گریڈ کیا گیا، 160اسکولوں کو ایلیمنٹری سے سیکنڈری کی سطح پر اپ گریڈ کیاگیا ، ٹیچنگ اسٹاف کے ٹرانسفر/ پوسٹنگ میں ای پورٹل /ویب پورٹل کی مدد سے شفافیت کو متعارف کرایا گیا، ریکورٹمنٹ پالیسی 2021متعارف کرائی گئی اور اس ضمن میں بیشتر قواعد کی تجدید کی گئی۔

اس کے علاوہ 106میں سے 68اسکولوں کو پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت مؤقر ایجوکیشن مینجمنٹ آرگنائزیشنز (EMOs) کے حوالے کیاگیا۔ 150000 بچوں کا نیا انرولمنٹ کیاگیا اور 19810 اسکول سے باہر کے بچوں کا اسکول میں دوبارہ انرولمنٹ کیاگیا،15551 اساتذہ کی تربیت کی گئی۔ 8336 طالبعلموں اور 800 اساتذہ نے آئی سی ٹی ٹریننگ حاصل کی، 30 ہزار سے زائد اساتذہ کو لائف اسکلڈ بیسڈ ایجوکیشن کی تربیت دی گئی

مزید پڑھیں: سندھ حکومت کا فیل طلبہ کو پاسنگ مارکس دینے کا فیصلہ

1700ای سی ای اساتذہ کی تربیت کی گئی، 1000 ای سی ای ٹیچر ز اور 6000 JESTs کی انڈکشن ٹریننگ کی گئی، متفرق شراکت داروں کی معاونت سے 350000 طالب علموں کو صحت بالغاں،غذائیت، بچوں کے تحفظ اور شہریت وغیرہ کی تربیت دی گئی۔ 1609بند اسکولوں کو اساتذہ کی تقرری کے ذریعے کھولا گیا مزید 638 بند اسکول بھی کھولے جارہے ہیں، * 7900غیر رجسٹرڈ ملازمین کی AG پے رول کی مدد سے رجسٹریشن کی گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ محکمہ کی جانب سے ملازمت سے قبل اور دورانِ ملازمت ٹیچنگ اسٹاف کی استطاعت بڑھانے اور ترقی کیلئے لازمی تربیت کی گئی، مائکرو سافٹ کی معاونت سے ابتک 30787 سیکنڈری اسکول ٹیچرز کی تربیت کی گئی ، لگ بھگ 257000 طالب علم ڈیجیٹل لرننگ پلیٹ فارم کے تحت داخلے دیئے گئے اور وہ اس سے استفادہ کررہے ہیں،

252000 طالب علم SELD، MUSE، APP سے مستفید ہورہے ہیں اور تقریباً 4000پرائمری اسکول ٹیچرز کی تربیت کی گئی۔ کووڈ 19 کی وجہ سے تعلیمی سرگرمیوں کے تسلسل میں رکاوٹ کے سبب محفوظ اسکول گائیڈ کی فراہمی شامل ہے، پی ڈی ایم اے اور یونیسف وغیرہ کی معاونت سے کووڈ 19 سے متعلق سامان کی تمام اضلاع میں فراہمی کی گئی،

سندھ کے تمام اضلاع میں اسکول چلو اور اسکول میں رہو کی عوامی آگاہی مہم چلائی گئی، سیلاب سے متاثرہ 4 اضلاع، میرپورخاص، ٹنڈو الہ یار، سانگھڑ اور عمرکوٹ کیلئے ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن ٹریننگ کی فراہمی، یونیسف کی مدد سے 197 ہیڈ ٹیچرز اور 187ٹیچرز کی تربیت کی گئی، آغاز بچپن کی تعلیم و نگہداشت، نصاب و معیار کی تیاری کی گئی،

اسکول ایجوکیشن و لٹریسی ڈپارٹمنٹ نے”سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور میتھ“ کو انسٹیٹیوشنلائز کرکے مربوط نصاب بنائے گا، آئندہ تعلیمی سال میں لگ بھگ 64 ‘STEM’ لیب قائم کردی جائیں گی، نصاب اور نصابی کتب کو 21ویں صدی کے تقاضوں کے مطابق بہتر بنانے کیلئے مسلسل کاوشیں جاری ہیں،

مزید پڑھیں: سندھ حکومت کانئے مالی سال کا بجٹ متوازن اور عوام دوست ہے، مرتضی وہاب

انہوں نے بتایا کہ رواں مالی سال میں محکمہ 382000 ڈول ڈیسک (DUEL DESK) سرکاری اسکولوں کیلئے خریدے گا۔ 119 پرائمری اسکولوں اور 35 ہائی اسکولوں کی تزئین اور وہاں غیر موجود سہولیات کی فراہمی کے لیے منظوری ، 15 انگریزی میڈیم اور 6 کمپری ہینسو ہائی اسکولوں کی تعمیر ہورہی ہے۔ انہیں آئندہ تعلیمی سال میں EMOs کے ذریعے فعال کردیا جائے گا۔

جبکہ 10نئے انگریزی میڈیم اور 9 کمپری ہینسو ہائی اسکول جون 2021 کے اختتام تک فعال کیے جائینگے، ان اسکولوں کو تمام سہولتیں بشمول سائنس / آئی ٹی لیب اور لائبریری وغیرہ کے فعال کردیئے جائیں گے۔ اسکول سے باہر رہ جانے والے بچوں کے لیے آؤٹ آف اسکول چلڈرن ایمرجنسی سینٹر قائم کیا جائے گا۔ OOSC کےقیام سے اسکول سے باہر رہ جانے والے بچوں کی تعداد میں کمی لائی جاسکے۔ اسکول سے باہر رہ جانے والے بچوں کیلئے سیکھنے کے متبادل مواقع کی فراہمی عمل میں لائی جائے گی۔

مقامی ٹیوٹرز کی مدد سے سندھ ایجوکیشن اینڈ لٹریسی ڈپارٹمنٹ نے اسکول سے باہر رہ جانے اورچھوڑ جانے والے 170000 بچوں کو 6351 نان فارمل ایجوکیشن سینٹرز میں داخل کیا۔ اسکول کلسٹرنگ اور کنسولیڈیشن کے تحت 4095 اسکولوں کو 1350 کیمپس اسکولوں میں کنسولیڈیٹ کیاگیا جبکہ 2745 اسکول ضم کئے گئے۔ تقریباً 2600 بلند ترجیحی اسکولوں کی توسیع اور تزئین کی گئی ہے اور بقایا رہ جانے والے جون 2021 تک مکمل ہوجائیں گے۔

مزید پڑھیں: ایف پی سی سی آئی نے وفاقی بجٹ 22-2021 کے سیکشن 203A کو مسترد کردیا

بغیر چھت والے 21پرائمری اسکولوں کی عمارتیں جون 2021 تک مکمل ہوجائیں گی، سندھ حکومت نے اسکولوں میں لڑکیوں داخلہ کو برقرار رکھنے کیلئے وظیفے کے ضمن میں 800 ملین روپے مختص کئے ہیں ۔ نئے مالی سال میں محکمے نے 100چھت کے بغیر اسکولوں کو عمارتوں کی فراہمی کی تجویز رکھی ہے، * ایسے اضلاع جہاں اسکول سے باہر رہ جانے والے بچوں کی شرح بہت زیادہ ہے، وہاں نان فارمل سینٹرز کو کھولنے اور فعال کرنے کے 600ملین روپے رکھے گئے ہیں،

حالیہ بارشوں /سیلاب /اربن فلڈز میں صوبے بھر میں تعلیمی اداروں میں بہت نقصان ہوا، اسکولوں کی تزئین ،مرمت اور دوبارہ تعمیر کیلئے اے ڈی پی میں مختص کئے گئے ہیں، 2500 ملین روپے پرائمری اسکولوں اور 2000ملین روپے سیکنڈری اسکولوں کیلئے اے ڈی پی میں مختص کرنے کی تجویز ہے،

ان کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت مختلف پروگراموں کے ذریعے ایلمنٹری اسکولوں اور ہائی اسکولوں کی فراہمی کیلئے مؤثر اقدامات عمل میں لارہی ہے۔ سندھ حکومت نے مزید 88 اسکولوں کی ADP -2021-22کے ذریعے اپ گریڈیشن کی تجویز رکھی ہے۔ ایسے اسکولوں میں جہاں داخلے بہت زیادہ ہیں اور جن علاقوں میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ بھی بہت ہے وہاں سولر پاور سسٹم فراہمی کیلئے پُرعزم ہیں۔

مزید پڑھیں: موجودہ بجٹ عوام دشمن بجٹ ہے، عبد الحمید طورو

دنیا بھر میں کووڈ 19 وباء کے سبب تعلیمی نظام متاثر ہوا ہے، لہٰذا آن لائن /آف لائن کلاسز کیلئے مسلسل مدد فراہم کی جارہی ہے تاکہ گھر پر تعلیم مہیا کی جاسکے، ایشیائی ترقیاتی بینک کے معاونت سے صوبے کے 10 اضلاع کے 160اسکولوں کو پرائمری سے سیکنڈری اسکول کی سطح پر اپ گریڈ کیاگیاہے

ورلڈبینک پروگرام کے تحت سندھ ارلی لرننگ /انہاسمنٹ اینڈ کلاس روم ٹرانسفارمیشن (SELECT)کے ذریعے سندھ کے 12اضلاع میں 600اسکولوں کو ایلیمنٹری سطح پر لایاجائے گا۔ پرائیویٹ اسکولوں اور مدارس کا شمار (CENSUS)اگلے مالی سال میں مکمل ہوجائے گا۔ 93.57ملین روپے کی ایک بارگرانٹ کی تجویز ہے تاکہ پروسکرائبڈ آرگنائزیشنز کے اثاثوں کو ٹیچر ٹریننگ کیلئے تحویل میں لیاجاسکے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *