حج اخراجات کی رقم سے سود لینا شرعا قرار، حکومت سخت گناہ گار ہے، مفتی محمد زبیر

الرٹ نیوز

حج اخراجات کی رقم سے سود حاصل کرنے سے عازم حج شرعا بری الذمہ اور حکومت سخت گناہ گار ہے ، معروف مذھبی اسکالر ونائب مہتمم جامعہ الصفہ کراچی مفتی محمد زبیر نے کہا کہ وزارت حج کے قومی اسمبلی میں دئیے جانے والا جواب نہایت افسوسناک اور قابل تشویش ہے حکومت کا حجاج سے حج اخراجات کے سلسلے میں رقم لیکر کنوینشنل بینکوں میں سود پر رکھو انا شرعا بالکل ناجائز اور حرام ہے شرعا اسکی کوئ گنجائش نہیں بالخصوص اسلامی جمہوریہ پاکستان میں حجاج کی رقم سے حکومت کا سودی کھاتہ میں رقم رکھوانا اور پھر اس سے سود حاصل کرنا بالکل ناجائز ہے .

مفتی محمد زبیر نے کہا کہ جہاں تک فرد اور عازم حج کا تعلق ہے تو چونکہ حاجی سے تو حکومت یہ کہہ کر رقم حاصل کرتی ہے کہ وہ حجاج کے ٹکٹس ،رہائش ٹرانسپورٹیشن ، اور کھانے پینے وغیرہ کے دیگر آخراجات میں استعمال کرے گی اور کبھی حاجی سے یہ نہیں کہاگیا کہ حکومت ان کی رقم کو کسی سودی کھاتہ میں رکھوائے گی ۔اسلئے حاجی پر تو شرعا اسکا گناہ لازم نہیں ہوگا مگر حکومت اس سے بری الذمہ نہیں ہوسکتی .

مفتی محمد زبیر نے کہا کہ وزارت حج سے حاصل شدہ معلومات سے اندازہ ہوتا ہے کہ حکومت عرصہ دراز سے یہ کام کرتی آرہی ہے جوکہ سخت ناجائز اور حرام ہے شرعا اسکی کوئ گنجائش نہیں ۔مفتی محمد زبیر نے کہا کہ موجودہ حکومت نے تو ریاست مدینہ کی بات کی ہے ریاست مدینہ میں سودی معاملات کو جڑ سے ختم کیا گیا تھا اور یہاں حجاج کی حلال و پاکیزہ رقم کو بھی سود خوری کا ذریعہ بنایا جارہا ہے جو نہایت قابل تشویش اور باعث افسوس ہے .

حکومت کو اس سے مکمل طور پر احتراز کرنا لازم ہے تاہم اگر حکومت کو حجاج کی یہ رقومات مجبوراً اور لازما بینک میں رکھوانی ہی ہوں تو اس کیلئے اسٹیٹ بینک کے ماتحت مستند اہل فتوی اور شرعیہ ایڈوائزری بورڈ کی زیر نگرانی چلنے والے غیر سودی اور اسلامی بینکوں میں یہ رقومات رکھوائی جائیں اور ملک میں جب اسلامی بینکوں میں سرمایہ کاری کا میکنزم موجود ہے تو اسکا فائدہ اٹھانا چاھئیے اور اس سلسلے میں کوئی قانونی رکاوٹ ہو تو اسے بھی ختم کرنا چاھئیے اور آئندہ کیلئے کم از کم درجہ میں موجودہ صورتحال کو جاری رکھنے اور حجاج کی رقم کو سودی بینکوں میں رکھا نے سے بالکلیہ اجتناب ضروری ہے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *