کراچی: کڈنی ہل پارک کی جامع مسجد کی شہادت ظلم اور خلاف شریعت ہے،قاری عثمان

قاری عثمان کڈنی ہل پارک میں

کراچی : کڈنی ہل پارک کی جامع مسجد الفتح کی شہادت بدترین ظلم اور خلاف شریعت ہے۔ 35 سال سے قائم قدیم الفتح مسجد کڈنی ہل پارک کو ناجائز تجاوزات قرار دیکر مسمار کرنا عذاب الہی کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔ مسجد کی زمین کا ایک انچ بھی کسی اور مقصد کیلئے استعمال کرنا ازروئے شریعت حرام ہے۔ مدینہ کی ریاست میں مساجد قائم کی جاتی تھیں،مساجد کو ڈھانا اور شہید کرنا مسلم معاشرے میں اسکی مثال نہیں ملتی۔ ان خیالات کا اظہارجمعیت علماء اسلام کے مرکزی رہنماء قاری محمد عثمان نے اسلام آباد سے الفتح مسجد کڈنی ہل پارک کے ذمہ داران سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

قاری محمد عثمان نے کہا کہ مسجد الفتح کیلئے 1991میں اس وقت کے میئر کراچی ڈاکٹر فاروق ستار نے سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور وفاقی وزیر محمد میاں سومرو کے والد احمد میاں سومرو اور کمیٹی کے ارکان کو 1440گز زمین الاٹ کی تھی جسکا سائٹ پلان اور تمام کاغذات موجود ہیں۔ اب اسے ناجائز تجاوزات میں شامل کرنا انصاف کا قتل ہے۔ پاکستان میں مساجد کو ناجائز تجاوزات کے نام پر شہید کرنے کا بھونڈا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت سمیت دینا بھر میں اگر مساجد کو ڈھانا جرم ہے تو پاکستان میں بدرجہ اولی مساجد کو شہید کرنا خلاف شریعت اور بدترین ظلم ہوگا۔ پاکستان اسلام کے مقدس نام پر مساجد کے قیام، تحفظ اور اسلام کے نظام عدل کے نفاذ کیلئے حاصل کیا گیا تھا۔ قاری محمد عثمان نے کہا کہ 14جون کو مسجد الفتح پر لشکرکشی سے پیدا شدہ صورتحال پر آئی جی سندھ سے ایس ایچ او تک اور کراچی انتظامیہ سے مسلسل رابطہ کے باوجود ڈپٹی کمشنر کراچی ایسٹ اور انکا عملہ بھاری فورس کے ہمراہ بغیر سپریم کورٹ کے تحریری آرڈر کے جامع مسجد الفتح کی شہادت پر نہ صرف تلے ہوئے ہیں بلکہ مسجد کو شہید کردیا ہے۔ مسجد الفتح جو 35 سال سے قائم ہے، جہاں پانچ وقت کی نماز جمعہ وعیدین کی نمازیں ہورہی ہیں۔ مسجد الفتح کی شہادت کا فیصلہ اور اس پر عمل شروع کرنا عذاب الہی کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔

قاری محمد عثمان نے حکومت کو خبردار کرتے کہا ہے کہ وہ اس مکروہ فعل سے باز آتے ہوئے مسجد الفتح کی شہادت کے عمل کے ذمہ داروں کو قرار واقعی سزا دیکر نشان عبرت بنائے ورنہ عذاب الہی کیلئے تیار رہے۔ انہوں نے کہاکہ الفتح مسجد گزشتہ 35 سال سے قائم ہے۔ رات کی تاریکی میں قبضہ مافیا نے نہیں بنائی۔ کراچی کے بڑے کاروباری اور سفید پوش حضرات (جو اس محلے کے قیام پاکستان سے بھی پہلے کے رہائشی ہیں) نے بنائی ہے، وفاقی وزیر محمد میاں سومرو کے والد احمد میاں سومرو بھی ان میں شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس اپنے پہلے فیصلے میں واضح کرچکے ہیں کہ مسجد کو گرانے کا نہیں کہا گیا تو پھر اچانک ایسا کیوں کیا گیا۔ قاری محمد عثمان نے کہا کہ عدالت نے قبضہ مافیا کے خلاف کریک ڈاؤن کا حکم دیا ہے نہ کہ عوام کو بے گھر کرنے اور مساجد گرانے کا انہوں کہا کہ مساجد اللہ تعالی کے گھر اور سلامتی کے مراکز ہیں، انہیں گرانے کی قطعی طور پر اسلام اور شریعت اجازت نہیں دیتی۔ مساجد کا تحفظ ہمارا آئینی وقانونی حق ہے۔

قاری محمد عثمان نے کہا کہ قدیم الفتح مسجد کی متبادل تعمیر کیلئے 1991میں زمین الائٹ کی گئی جسکا مکمل ثبوت اور کاغذات موجود ہیں۔ میونسپل کمشنر سیف الرحمن نے تمام قانونی تقاضے پورے کرانے کے بعد جدید الفتح مسجد کڈنی ہل پارک کی تعمیر کی نہ صرف اجازت دی تھی بلکہ افتتاح کے موقع پر مفتی محمد تقی عثمانی صاحب کے ساتھ سیف الرحمن بھی موجود تھے، جوکہ اب شہید کردی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک اسلامی مملکت ہے جہاں پارکوں اور عوامی مراکز میں سب سے پہلے مساجد کیلئے جگہ کا تعین اس لئے کیا جاتا ہے کہ سیر و تفریح کیلئے آنے والے مسلمانوں کو نماز کی ادائیگی کیلئے آسانی ہو۔

قاری محمد عثمان نے چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ 99 فیصد پارکوں کے نقشوں میں مساجد کی جگہ کا تعین پہلے سے کیا گیا ہوتا ہے۔نقشہ پلان میں ہر پارک میں مسجد کی جگہ موجود ہے پھر کیوں عدالتوں میں غلط اعداد و شمار کے ذریعہ مساجد کو متنازعہ بنانے کی جسارت کی جاتی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ الفتح مسجد کڈنی ہل پارک کو شہید کرنے پر پورا کراچی سراپائے احتجاج ہوگا اور حالات کی خرابی کی تمام تر ذمہ داری کراچی انتظامیہ، کمشنر،ڈپٹی کمشنرز،کے ایم سی اور کے ڈی اے پر عائد ہوگی۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *