جامعہ اردو کا قائم مقام وائس چانسلر ڈاکٹر زاہد ، ڈاکٹر قیصر کو بنانے کے لئے لابی سرگرم ہو گئی .

الرٹ مانیٹرنگ

جامعہ اردو سینیٹ کے اجلاس سے قبل کرپٹ لابی جامعہ کے باہر سے قائم مقام وائس چانسلر کی لابنگ کرنے لگی،ڈپٹی چیئر سینیٹ مہم میں پیش پیش ہیں،عدالتی فیصلے کے مطابق وائس چانسلر نہ ہونے کی صورت میں قائم مقام وائس چانسلر کا چارج سینئر ڈین کو تفویض کیا جائے گا،قائم مقام و متنازعہ رجسٹرار نے سینئر پروفیسر ڈاکٹر ضیا کو متنازعہ بنانے کے لئے ایوان صدر کو گمراہ کن معلومات دی ہیں۔

جامعہ اردو کی سینیٹ کا موخر کیا جانے والا اجلاس 10دسمبر کو گورنر ہاؤس کراچی میں منعقد کیا جائے گا،جس میں جامعہ کے چانسلر و صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی ویڈیو لنک کے ذریعے اس کی صدارت کریں گے۔اس جلاس میں ون پوائنٹ ایجنڈ رکھا گیا ہے جس میں جامعہ کے موجود ہ ایڈہاک ازم سے نکلنے اور جامعہ کے قائم مقام وائس چانسلر کے تقرر کرنا ہے۔

جامعہ کے سابق وائس چانسلر ڈاکٹر الطاف حسین کی تقرری کو عدالتی حکم کے بعد 23اکتوبر کو کالعدم قرار دیا گیا تھا،یہ فیصلہ جامعہ کی انتظامیہ کے لئے اچانک فیصلہ تھا جس کے بعد جامعہ کے قائم مقام رجسٹرار ڈاکٹر صارم،ڈپٹی چیئرسینیٹ جاوید اشرف حسین نے بھرپور کوشش کی کہ کسی نے کسی طرح ڈاکٹر الطاف حسین کو واپس لایا جائے تاہم سپریم کورٹ ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا۔جس کے بعد ڈپٹی چیئر سینیٹ جاوید اشرف حسین نے23 اکتوبر کو عدالتی فیصلے کے بعد 25 اکتوبر ہی اگلی تنخواہ بھی الطاف حسین کو دلوادی۔

جس کے بعد جامعہ اردو کے ڈائریکٹر ایڈمنسٹر یشن غلام بشیر بھوگیو نے ایوان صدر اور عدالت کو ایک خط لکھ کر جامعہ اردو کے سینیئر ڈین ڈاکٹر ضیا کو قائم مقام وائس چانسلر بناکر جامعہ کے معاملات کوچلانے کی تجویذدی تھی جس کے بعد جامعہ کے انتہائی متنازعہ و قائم مقام رجسٹرار ڈاکٹر صارم نے ایوان صدر کو گمراہ کن معلومات دیکرڈاکٹر ضیا کو قائم مقام وائس چانسلر بنانے کے معاملے کو بھی متنازعہ بنا دیا.

جس کے بعد ایوان صدر کی جانب سے قائم مقام وائس چانسلر کے تقرر کے لئے 28 نومبر کو سینیٹ کا اجلاس بلانے کا حکم دیا گیا تاہم اس کے بعد ایک بار ڈپٹی چیئر سینیٹ جاوید اشرف اور قائم مقام رجسٹرار ڈاکٹر صارم نے ایوان صدر کو بتایا کہ نئے سینیٹرز کو ابھی تقرری کے لیٹر جاری نہیں ہوئے اور ان کو ایجنڈسات روز قبل بھیجنا ضروری ہوتا ہے اس لئے اجلاس کو آگے کیا جائے .

ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈپٹی چیئر سینیٹ اور قائم مقام رجسٹرار نے سینیٹ اجلاس کی تاریخ کو آگے اسلئے کیا کہ انہیں ڈاکٹر ضیا کے خلاف اور ڈاکٹر قیصر کے مہم جوئی کا مذید وقت مل جائے۔معلوم رہے کہ خود اس وقت ڈپٹی چیئرسینیٹ جاوید اشرف کی مدت سینیٹ شپ بھی ختم ہونے جاری رہی ہے تاہم وہ اپنے مدت کوسینیٹ کے پہلے اجلاس سے کاؤنٹ کرنے پر مصر ہیں۔

ڈپٹی چیئرسینیٹ جاوید اشرف کو 31دسمبر 2013میں سینیٹر بنا یا گیا تھا اور انہوں نے بحیثیت سینیٹر پہلا اجلاس دسمبر2014میں اٹینڈکیا تھا، لیٹر کے اجرا کے مطابق ان کی مدت دسمبر2019میں پوری ہو جاتی ہے،تاہم انہوں نے پہلے اجلاس کی تاریخ سے اپنی مدت دسمبر 2020 تک لے جانے کی تیاری کی ہوئی ہے۔ڈپٹی چیئرسینیٹ کی کوشش یہ ہے کہ جامعہ کے پچھلے 6 سال میں ہونے والی تمام تر غیر قانونی کاموں کو من پسند قائم مقام وائس چانسلر لا کر قانونی شکل دیکر اپنا اختتام کریں۔

جس کے لئے وہ سابق وائس چانسلر ڈاکٹر قیصر کی مہم چلا رہے ہیں جس کے لئے سینیٹرز کو کو فون کرکے ڈاکٹر قیصر کے لئے سفارش بھی کی جارہی ہے۔معلوم رہے کہ ڈاکٹر قیصرکے ہی دور میں جامعہ اردو کی زمین کی خریداری جیسے متنازعہ فیصلے ہوئے جس پر اب تک اعتراضات موجود ہیں اور انہی کے دور میں ڈاکٹر زاہد کی گزشتہ تاریخوں میں ترقی بھی ہوئی تھی۔

ذرائع کا کہنا ہے سینیٹ کے اس اجلاس میں اساتذہ نمائندوں کی جانب سے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے مطابق سینئر پروفیسر کوقائم مقام وائس چانسلر بنانے کے لئے بات کریں گے جبکہ ڈپٹی چیئرسینیٹ ڈاکٹر قیصر کو قائم مقام بنانے کے لئے کوشش کریں گے جس کے لئے اجلاس کا ماحول سخت رہے گا۔

جامعہ اردو کی سینیٹ کا اجلاس آج منعقد ہو گا ،ایجنڈا جاری

معلوم رہے کہ حال ہی میں ایوان صدر کی توثیق سے بنائے جانے والے سینیٹرز جن میں انجمن ترقی اردو کے چیئرمین واجد جواد،سنو وائٹ ڈرائی کلینرکے منیجنگ ڈائریکٹر شکیل الرحمن،عبدالقیوم خلیل،انڈس ریورس سینٹر کی صادقہ صلاح الدین،سابق صدر شعبہ ڈاکٹر توصیف احمد خان ، محمد اقبال خان،ڈاکٹر سید جعفر احمد،پروفیسر ڈاکٹر معین الدین عقیل احمد،جامعہ کراچی اپلائڈ کیمسٹری کے ڈاکٹر ریاض احمد ، جامعہ اردو کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر محمد عرفان ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر سید طاہر علی شامل ہیں۔

مذکورہ سینیٹر میں اساتذہ نمائندوں اور سول سوسائٹی کے سینیٹر پہلی بار سینیٹ کا اجلاس اٹینڈ کریں گے جنہوں نے قانونی حوالوں سے بھی بھرپور تیاری کی ہوئی ہے جس میں جامعہ کے اندر سے ہی سینیٹر پروفیسر کو قائم مقام وائس چانسلر بنانے کی کوشش کی کی جائے گی ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *