دیار خلافت کا سفر شوق (قسط 51 )

تحریر: مولانا ڈاکٹر قاسم محمود

بھرپور طعام اور نماز کے بعد ہم سب ایک بار پھر تر و تازہ ہو چکے تھے۔ بھوک کی وجہ سے طبعیت میں ذرا سی اکتاہٹ آگئی تھی، وہ شاندار ترکش کھانوں سے مٹ چکی تھی اور طبعیت پھر سے نشاط آشنا ہوگئی تھی۔ بھرپور کھانے نے جسم و جان میں نئی توانائی ڈال دی تھی۔۔۔ ہمیں سفر کرتے ہوئے کافی دیر گزر چکی تھی۔

دن کی روشنی میں باہر کے خوشنما مناظر نے راستہ بھر دل و نگاہ کو شاد و شاداب رکھے۔ اب اگرچہ ہم تازہ دم ہوگئے تھے مگر اب شام ہو چلی تھی۔ دن بھر ہمارے ساتھ چلا آنے والا سورج اب مغرب کی طرف آگے بڑھ چکا تھا اور اقوام مشرق اپنے مادی ترقی میں پھوٹے نصیبوں کی طرح رات کی تاریکی کی پناہ میں آ چکی تھیں۔۔۔ تمام ساتھی طعام، نماز اور دیگر ضروری تقاضوں اور حوائج سے بڑے اطمینان اور تسلی سے فارغ ہوئے۔

مزید پڑھیں: دیار خلافت کا سفر شوق (قسط نمبر 50)

منتظمین کی جانب سے کوئی جلدی نہیں تھی۔ سب کو پورا پورا موقع دیا گیا اور سب ساتھی پورے اطمینان سے اپنے حوائج اور مصروفیات سے فارغ ہو کر اب روانگی کیلئے تیار ہوئے۔ حسب معمول یہاں بھی بہت سے اہل شوق حضرات نے سیلفیوں اور تصویر بنانے کا شوق پورا کیا۔۔۔ ہلکی پھلکی اور مختصر تفریح اور نشاط آور وقفے کے بعد تمام ساتھیوں نے حسب ترتیب اپنی بسوں کا رخ کیا اور جب تمام ساتھی اچھی طرح اپنی نشستوں پر تشریف فرما ہوئے تو ڈرائیور حضرات نے کوسِ رحیل بجا دیا۔۔۔۔

شام کے سائے گہرے اور ماحول میں رات کی تاریکی کا پر ہول سناٹا دم بدم بڑھ رہا تھا۔ اب باہر کے مناظر بھی بڑھتی تاریکی کے سائے میں ہیولے کی طرح نظر آتے۔ گاہے دور نگاہ پڑتے ہی یہ دیکھ کر ہم چونک پڑتے کہ کوئی بھوت پریت ہے، مگر منظر جوں جوں قریب آتا جاتا پیچ و خم کا اسرار کھلتا جاتا اور آخر میں یہ دیکھ کر ہم ہلکا سا مسکرا کر رہ جاتے کہ وہ کوئی بھوت پریت نہیں بلکہ ایک گنجان شاخوں اور پتوں والا میانہ قد کا کوئی گھنیرا درخت ہے۔

مزید پڑھیں: دیار خلافت کا سفر شوق (قسط نمبر 45)

رات کی بڑھتی تاریکی میں مناظر کی یہ فریب نگاہی بھی خوب تھی، مگر اللہ تعالیٰ نے تاریکی اور آرام میں جو کنکشن جوڑ رکھا ہے، اس کا اثر ہے کہ انسان رات میں زیادہ دیر باہر کے نظاروں سے آنکھیں نہیں لڑا سکتا، جلد ہی مناظر کے گرد پھیلی تاریکی دیکھنے والے کو اکتا دیتی ہے۔۔۔۔ باہر اندھیروں میں ملفوف بھاگتے دوڑتے مناظر میں دلکشی کا سامان اب کم رہ گیا تھا، اس لئے بس کی کھڑکی پر پردہ گرا کر مناظر کو شب بخیر کہہ کر رات کی گود کے سپرد کرنے کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔ ہم نے دل ہی دل میں دن بھر دل لبھانے والے ترک سرزمین کے ان خوبصورت مناظر کو شب بخیر کہہ کر نگاہیں کھڑکی سے ہٹا کر سر اپنی بس کی سیٹ سے ٹکا دیا اور ایک بار پھر “مراقبے” میں چلے گئے۔۔۔

(جاری ہے)

نوٹ: ادارے کا تحریر سے متفق ہونا ضروری نہیں، یہ بلاگ مصنف کی اپنی رائے پر مبنی ہے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *