دیار خلافت کا سفر شوق (قسط نمبر 50)

تحریر : مولانا ڈاکٹر قاسم محمود

اس قدر شاندار اور لگژری ہوٹل میں نماز کیلئے اتنا بہترین اور علیحدہ انتظام ہم سب ساتھیوں کیلئے انتہائی حیرت انگیز، غیر متوقع اور بہت ہی متاثر کن تھا۔ ہم نے اپنے یہاں کے اعلیٰ ہوٹل اور سیاحتی ریزورٹس دیکھے ہیں، جہاں ضرورت، سہولت اور بعض دفعہ عیاشی کا بھی ہر سامان موجود ہوتا ہے، مغربی معیار پر کسٹمرز کے عیش و آرام کا ہر سطح پر خیال رکھنے کا اہتمام بقدر وسعت ضروری سمجھا جاتا ہے، مگر کہیں اگر گنجائش نہیں اور ضرورت نہیں سمجھی جاتی تو وہ نماز سمیت دین اسلام کی دیگر عبادات اور شعائر کیلئے مناسب انتظام ہے۔ اور یہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کا حال ہے، خدا جانے ہم نے ہر سطح پر اپنی اقدار، روایات اور مذہبی شناخت سے بھاگنے کو ہی روشن خیالی اور ترقی کا ضروری اور مطلوبہ تقاضا کیوں کر سمجھ رکھا ہے۔ موجودہ ترکی کو ہمارے یہاں کے لوگ وہاں کے سیکولر آئین اور سوسائٹی کی چال چلن کی وجہ سے تقریباً غیر مسلموں سے ہم آہنگ سمجھا کرتے ہیں۔

اس کے باوجود اور ایسے بولڈ ماحول میں بھی وہاں کے لگژری ہوٹلوں میں نمازوں کیلئے علیحدہ انتظام متاثر کن نہیں ہوگا تو کیا ہوگا۔ یہ اس بات کی بھی علامت ہے کہ لبرلائزیشن اور سیکولرائزیشن کے تمام تر جبر و تشدد کے باوجود اور باوجود پورے اہتمام سے اباحیت، فحاشی، عریانیت، روشن خیالی اور آزاد منشی کو فروغ دینے کے ترک مسلمانوں کے ایمان کی انگیٹھی مکمل طور پر سرد نہیں ہوئی۔ ان کے دلوں میں رکھی ایمان کی انگیٹھی کی راکھ میں اب بھی وہ چنگاریاں سلگ رہی ہیں جو کسی بھی وقت ایمان کی ہوا کے ذرا سے تیز جھونکے سے شعلہ بن کر پورے قلب کو گرما سکتی ہیں۔ علامہ نے ایسے ہی مواقع کی کیسی بصیرت افروز عکاسی کی ہے:

یہ کلی بھی اس گلستانِ خزاں منظر میں تھی

ایسی چنگاری بھی یا رب، اپنی خاکستر میں تھی

اپنے صحرا میں بہت آہُو ابھی پوشیدہ ہیں

بجلیاں برسے ہُوئے بادل میں بھی خوابیدہ ہیں

کسی حد تک یہ چنگاریاں حرارت میں آگئی ہیں، غیور ترکوں کے سینوں میں دبی یہ تکبیریں کسی دن سینہ چاک کرکے باہر آگئیں تو ایک بار دنیا عثمانیوں کا وہ عظیم دور لوٹتا دیکھے گی جس نے یورپ کو سراسیمہ رکھا تھا۔۔۔۔

کبھی کبھار ایک چھوٹی سی بات انسانی دماغ میں اس زور کا جھماکا کرتی ہے کہ دماغ کے نہاں خانے میں غور و فکر کی پوری کتاب کھل جاتی ہے اور اس پر عبرت و نصیحت اور حکمت و بصیرت کے وہ اسرار کھلتے ہیں کہ انسان حیرت زدہ رہ جاتا ہے۔۔۔ بظاہر یہ ایک معمولی سی بات تھی کہ ایک لگژری ہوٹل میں نماز کیلئے علیحدہ پر سکون جگہ کا بندوست کیا گیا تھا، مگر آپ اسے ماحول، تاریخ، تہذیب، تہذیبی عوامل اور تاریخ و ماضی سے جوڑ کر تجزیہ کریں گے تو بہت کچھ سیکھنے اور سمجھنے کو ملے گا۔۔۔

اس معمولی سی بات نے ہمارے دل و دماغ کو بھی اپیل کیا اور ہمیں گویا خود سے باندھ کر رکھ دیا۔۔۔ اس بات نے جہاں ہمیں بہت متاثر کیا وہیں اس کے اندرون سے یہ امید بھی ضو فشاں محسوس ہوئی کہ ترکی کا مستقبل اسلام سے وابستہ ہے۔ اسلام ترکی کا ہے اور ترکی اسلام کا ہے۔ دونوں ایک دوسرے کیلئے لازم و ملزوم ہیں۔ کوئی لاکھ جبر کے ہتھکنڈے استعمال کرے۔ لاکھ سازشوں کے جال پھیلائے اسلام اور ترکی کو ایک دوسرے سے الگ اور دور کرنے میں منہ کی کھائے گا۔ ان شاءاللہ۔

جاری ہے)

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *