پولیس افسران کیلئے منعقد 2 روزہ تربیتی ورکشاپ کا احوال

تحریر : تحمید جان

پولیس ٹریننگ کالج ہنگو میں پولیس آفیسرز کے لئے دو روزہ تربیتی ورکشاپ بموضوع ” بین الاقوامی قانون انسانیت/ جنگ” کا انعقاد کیا گیا تھا ۔
یہ اپنی نوعیت کا ایک منفرد پروگرام تھا ، مختلف پروگراموں میں پولیس اور آرمی کے جوانوں سے ملاقاتیں ہوتی رہی ہیں مگر پولیس سنٹر میں پولیس ہی کے جوانوں کے لیے یہ پہلا پروگرام تھا ۔

پروگرام ہمارے محترم دوست جناب ڈاکٹر فصیح الدین اشرف صاحب (کمانڈنٹ پولیس ٹریننگ کالج) کی خواہش اور تعاون سے ممکن ہوا ، ڈاکٹر فصیح الدین صاحب پولیس میں ڈی آئی جی رنک کا آفیسر ہے مگر ذوق کے اعتبار سے وہ قلم و کتاب کا بندہ ہے، آپ بہترین مصنف، مؤلف ، محقق اور صاحب علم شخصیت ہے، اہل علم سے بےپناہ محبت کرتا ہے اور ہمیشہ تعاون بھی کرتا ہے، تعلیم و تعلم سے متعلق کسی بھی کام پر ہمیشہ لبیک کہتا ہے ، اسی روایت کو جاری رکھتے ہوئے ہمارے درخواست پر انہوں نے لبیک کہا اور یہ دو روزہ تربیتی پروگرام منعقد ہوا،
محترم دوستوں جناب محبوب احمد صاحب ، ڈاکٹر رفیق شینواری صاحب اور احمد حسن صاحب کی رفاقت میں ہم ہنگو پہنچ گئے۔

ورکشاپ میں تقریباً 30 پولیس اہلکار نے شرکت کی جن میں تین چار سینئرز کے علاؤہ باقی جونئیرز آفیسرز تھے ۔ پہلے دن ابتدائی تعارفی سیشن میں نے کروایا جس میں انٹرنیشنل ریسرچ کونسل اسلام آباد کا تعارف، شرکاء کا تعارف اور ورکشاپ کے اغراض و مقاصد ذکر کئے۔اس کے بعد انٹرنیشنل ہیومینٹیرئن لا کے تعارف پر معروف قانون دان جناب ڈاکٹر عمر بنگش ایڈوکیٹ نے تفصیلی اور جامع پریزنٹیشن دیا ، اس کے بعد سوالات و جوابات کا سیشن ہوا جس سے شرکاء کی دلچسپی کا اندازہ ہوا ، پولیس آفیسرز نے بے انتہا دلچسپی کا اظہار کیا اور کھل کر سوالات و جوابات ہوئے، اس کے بعد کئی سیشن ہوئے ۔

دوسرے دن ڈاکٹر رفیق شینواری صاحب نے بین الاقوامی قانون انسانیت ٫٫ اسلام کے تناظر میں،، پر لیکچر دیا ، ڈاکٹر صاحب چونکہ قدیم و جدید، اسلامی قانون اور معاصر قوانین اور بین الاقوامی قانون کا ماہر ہے اس لیے یہ لیکچر بہت زبردست رہا اور شرکاء نے بےحد پسند کیا ، مختلف سوالات و جوابات ہوئے، یورپی ممالک سمیت امریکہ ، چائنہ وغیرہ ممالک کے رویوں، مظالم و منافقت ، فوائد نقصانات وغیرہ پر کئی تلخ و شیریں سوالات ہوئے، اسی طرح پولیس کلچر تھانہ کلچر وغیرہ پر بھی بحث و مباحثہ ہوا ۔

آخر میں شرکاء کے درمیان کمانڈنٹ صاحب نے سرٹیفکیٹس تقسیم کروائے اور کمانڈنٹ صاحب کے سامنے شرکاء میں سے دو تین افراد نے ورکشاپ کے حوالے سے تاثرات بھی بیان کئے، جن کا خلاصہ کچھ یوں تھا ۔

1: کہ پولیس ٹریننگ کے دوران جسمانی ورزش اور فٹنس وغیرہ پر بہت توجہ دی جاتی ہے جبکہ اس طرح کے ورکشاپ اور مشقیں کم ہوتی ہیں جن سے ذہنی آبیاری اور فکری نشو و نما ہو جاتی ہیں ۔

2: پولیس ٹریننگ میں ڈائیلاگ کے اصول و ضوابط اور نتائج و عواقب اور ڈیلنگ وغیرہ پر بھی خاص توجہ نہیں دی جاتی جن سے اکثر مسائل پیدا ہو جاتے ہیں ۔

3:  بین الاقوامی قوانین و معاہدات وغیرہ بھی نصاب کا حصہ نہیں ہیں جن کی وجہ سے معاصر مسائل کا صحیح اندازہ نہیں ہوتا۔

4: شرکاء نے تاثرات میں یہ بھی کہا کہ آج ہمیں اندازہ ہوا کہ اسلام کے قوانین کتنے روشن، معاصر دنیا کے ساتھ ہم آہنگ اور قابل عمل ہیں۔

5 اسی طرح انہوں نے یہ بھی کہا کہ آج دنیا انسانیت کے فلاح کے لئےجو قوانین بنا رہے ہیں ان سے بہتر قوانین ہمیں ساڑھے چودہ سال پہلے اسلام نے دیئے ہیں۔

6 اسی طرح یہ بھی کہا کہ بین الاقوامی قوانین اور اسلامی قوانین تقریباً 90 فیصد ایک جیسے ہیں وغیرہ وغیرہ۔

 

آخر میں محترم جناب ڈی آئی جی صاحب نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا اور بہت خوشی کا اظہار کیا اور یہ بھی کہا کہ یہ سنٹر ہمیشہ کے لیے آپ لوگوں کے لئے تیار ہے ، آپ جب بھی چاہے یہاں آکر پولیس آفیسرز کو مستفید کروا سکتے ہیں۔

اس ورکشاپ سے مجھے یہ اندازہ ہوا کہ پولیس اہلکار کا دوران ٹریننگ خیالات بہت نرم ، مثبت اور تعمیری ہوتے ہیں اگر اسی دوران ان کی ذہنیت اور تربیت پر زیادہ توجہ دی جائے تو ہمارے معاشرے میں بہتر تبدیلی آ سکتی ہے اور پولیس اور عوام کے درمیان اعتماد بہت بڑھ سکتا ہے، میں نے ان تمام شرکا کو بہت مثبت پایا اور سیکھنے کے عمل میں مستعد پایا، اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ یہ سلسلہ جاری رہے اور ہمیں قوم و ملت کی خدمت کے مواقع نصیب فرمائے آمین ۔

ورکشاپ کے دوران پولیس اہلکاروں نے ہماری بہت خدمت کی اور ہمیں بہت محبتوں سے نوازا، اسی طرح تین دن کے اندر سیر و سیاحت کے لیے مشہور جگہوں پر جانے کا موقع بھی ملتا رہا خصوصاً سفر سمانہ ہمیشہ یادگار رہے گا ۔ اللہ تعالیٰ سے محترم جناب ڈاکٹر فصیح الدین اشرف اور دوسرے تمام دوستوں جنہوں نے بےپناہ خدمت کی کے بہترین زندگی کے لیے دعاگو ہوں ۔

اس پروگرام کا کریڈٹ محترم بھائی محمد اسرار مدنی کو جاتا ہے جو کہ ہمیشہ اس کوشش میں ہوتا ہے کہ معاشرے کے تمام افراد کی تربیت بہتر طریقے سے ہو جائے ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *