امانت و دیانت داری اور قناعت پسندی

تحریر : محمد عثمان انیس درخواستی

شریعت اسلامی میں اچھی صفات میں سے ایک عمدہ صفت “امانت و دیانت داری۔ اور اس کے ساتھ قناعت پسندی بھی کامیاب لوگوں کاشیوہ رہا ہے ۔

عبادت میں امانت داری یہ ہے کہ ان کو صحیح وقت میں شرائط و آداب کے ساتھ ادا کیا جائے اور اللہ تعالی کے بندوں کے حقوق کی ادائیگی کا اہتمام کیا جائے اگر کسی کا کوئی حق آپ پر باقی ہے یا آپ کے پاس کوئی چیز امانت رکھی ہے تو اس کو ویسے کا ویسے دینا بھی امانت ہے۔ اللہ تبارک و تعالی کا ارشاد ہے: “بےشک اللہ تعالی تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں ان کے حق داروں کو ادا کیا کرو”۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں: کہ نماز امانت ہے، وضو امانت ہے، وزن اور پیمانہ امانت ہے ۔

سورۃ انفال میں ارشاد فرمایا اے ایمان والو اللہ تعالی سے اور اس کے رسول سے خیانت (یعنی نافرمانی اور بے وفائی) نہ کرو اور اپنی آپس کی امانت یعنی ایک دوسرے کے حقوق اور اپنی ذمہ داریوں میں خیانت نہ کرو۔۔ اپنی عقل اور سوچ کے مطابق صحیح اور خیرخواہانہ مشورہ دینا بھی امانت ہے ۔ حضرت حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موقع پر ابو الھیثم رضی اللہ عنہ سے فرمایا تھا: جس شخص سے کوئی مشورہ لیا جائے وہ اس میں امین ہے یعنی اس کو چھپانا اور نیک مشورہ دینا ضروری ہے ۔ اذان دینے والا ایک امین شخص ہے مجلس کی باتیں بھی امانت ہوتی ہیں، ظلم کی سازش والی بات متعلقہ لوگوں تک پہنچانا بھی امانت ہے۔ اجتماعی مال میں خیانت نہیں کرنی چاہیے ۔

مذید پڑھیں :پاک فضائیہ کے 4 ایئر آفیسرز کی ائیر وائس مارشل کے عہدوں پر ترقی

حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ بہت کم ایسا ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو خطبہ دیا ہو اور اس میں یہ نہ فرمایا ہو جس میں امانت نہیں اس کا ایمان بھی کچھ نہیں اور جس میں عہد کی پابندی نہیں اس کا دین بھی کچھ نہیں (مشکواۃ)۔ امانت ہی ایک ایسا جوہر ہےجس کے اندر دنیا اور آخرت کی کامیابیاں موجود ہیں جس کام میں امانت داری سچائی اور ذمہ داری ہوتی ہے اللہ تعالی اس میں خیر و برکت نازل فرماتے ہیں۔

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ حضور نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: میں دو شریکوں کا ایک تیسرا (نگہبان) ہوتا ہوں جب تک ان دونوں میں سے کوئی اپنے شریک کے ساتھ خیانت نہیں کرتا اور جب وہ خیانت و بددیانتی پر اتر آتے ہیں تو میں ان کے درمیان سے ہٹ جاتا ہوں (ابو داود) ۔

امانتداری کی صفت سے خالی ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ جو شخص دین و ایمان کی اصل حقیقت اور اس کے اصل نور سے محروم ہے اور خیانت ایک ایسا مرض ہے جو انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کو الٹ کر رکھ دیتا ہے اور آخرت کو تباہ و برباد کر دیتا ہے جس کی وجہ سے فرد اور معاشرہ دنیا میں عروج اور عزت پا لیتے ہیں اور آخرت میں بھی کامیابیوں کو حاصل کر لیتے ہیں جس شخص پر امانت داری کا راز کھل گیا اور جس نے خیانت کے زہر کو محسوس کیا وہ ہر قسم کی خیانت سے اس قدر ہے جیسے ہی بددیانتی اور بے ایمانی سے چائے پکا مومن مسلمان رکھ کر ایمان اور اسلام پر موت نصیب فرمائے ۔

مذید پڑھیں :پاک فضائیہ کے 4 ایئر آفیسرز کی ائیر وائس مارشل کے عہدوں پر ترقی

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے تمہیں قابل اعتماد سمجھ کر اپنی امانت تمہارے پاس رکھی ہےاوراس کی امانت واپس کر دے اورجو تم سے خیانت کرے تو تم اس کی طرح معاملہ نہ کرو بلکہ اپنا حق وصول کرنے کے لئےدوسرےجائز طریقہ اختیار کرو(ترمذی)۔

قناعت کے معنی ہیں جو کچھ نصیب میں آئے اس پر صبر کر کے راضی رہنا یعنی اس سے زیادہ کے بارے میں سوالات نہ کرنا۔ قناعت کرنے والا شخص چوری، ڈاکہ، حرام خوری، حرص اور لالچ سے پاک ہو جاتا ہے۔ خود داری کی عادت پیداہوجاتی ہے۔ کسی کے سامنے ذلیل ہوکر ہاتھ نہیں پھیلاتا۔ جو کچھ ضرورت کے مطابق اس کو مل جاتا ہے اس پر اکتفاء کرتا ہے اور اس پر خوش ہوتا ہے۔ وہ اپنے سے آسودہ حال، دولت مند اور عزت مند لوگوں سے ملتا نہیں۔ قناعت کی صفت انسان کے اندر احساس کوپیداکرتی ہے۔ اس کی وجہ سے انسان میں وہ عظیم صلاحیتیں بیدار ہوتی ہیں اور بڑھتی ہیں۔۔

ام ولید رضی اللہ تعالی عنہ (حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی ہیں ) فرماتی ہیں! کہ ایک مرتبہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم شام کے وقت گھر سے باہر تشریف لائے اور ارشاد فرمایا: تم لوگوں کو شرم نہیں آتی؟ صحابہ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول کیا بات ہوئی؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اتنی مقدار جمع کرتے ہو جتنا کھاتے نہیں ہو، اور اتنے مکانات بنا لیتے ہوئے جن میں رہتے بھی نہیں ہو، اور ایسی امیدیں باندھ لیتے ہو جن کو پورا بھی نہیں کر سکتے؛ کیا تم شرماتے نہیں ہو۔ (الترغیب والترہیب)

حضور اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ “جو شخص حق تعالیٰ شانہ سے تھوڑی روزی پر راضی رہے۔حق تعالیٰ بھی اس کی طرف سے تھوڑے عمل پر راضی ہو جاتے ہیں ۔ “(مشکواۃ)

حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:جب بھی سورج نکلتاہے اس کے دونوں جانب دو فرشتے روزانہ یہ اعلان کرتے ہیں: اے لوگو! اپنے رب کی طرف متوجہ ہوجاو ۔ جو مال تھوڑا اور وہ کفایت کرنے وہ بہتر ہے اس زیادہ مال سے جو اللہ تعالی کے علاوہ دوسری طرف مشغول کرے ۔ حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ میانہ روی کی چال چلنا (یعنی نہ کنجوسی کرے اور نہ فضول اڑائے بلکہ سوچ سمجھ کر اور سنبھال کر ہاتھ روک کر کفایت شعاری کے ساتھ اور انتظامی عہدے دار کے ساتھ ضرورت کے موقع پر مال خرچ کرے تو اس طرح خرچ کرنا بھی آدھی کمائی ہے جو شخص خرچ کرنے میں اس طرح درمیان کی چال چلے وہ کبھی محتاج نہیں ہوتا اور فضول اڑانے میں زیادہ مشغول نہیں رہتا (مسند الفردوس دیلمی) ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *