بلدیہ ٹاؤن میں قادیانیوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کے خلاف شہری سڑکوں پر نکل آئے

کراچی :بلدیہ ٹاؤن میں قادیانیوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کے خلاف علماءوشہری سڑکوں پر نکل آئے، جے یو آئی ضلع غربی کے تحت چاندنی چوک پر احتجاجی مظاہرے میں شریک ہزاروں افراد نے صوبائی حکومت اورسکیورٹی اداروں سے بلدیہ ٹاؤن میں قادیانیوں کی آزادانہ تبلیغی سرگرمیوں کا فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا، قانون امتناع قادیانیت آرڈیننس پر موثرعملدرآمد کروایا جائے ۔

مظاہرے سے جے یو آئی ضلع غربی کے جنرل سیکریٹری مولانافخرالدین رازی،سابق ایم پی اے حافظ محمدنعیم،مفتی فیض الحق،حافظ حبیب الرحمن خاطر،مولاناتاج محمدانور،مولانامحمدعمر،مولانانثاراحمدنثار،مفتی خلیل اللہ،مولاناسراج اختر،عطاءالرحمن دیشانی،مولاناعبدالرشیدارشد،عبدالسلام صدیقی،جمعیت طلبہ اسلام کے اظہرشاہ استورانی،احسان اللہ صالح،محمدصدیق،عمرفاروق،عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنماءمحمدصابر،جماعت اسلامی کے عثمان اعوان، انصارالاسلام کے نثار حنفی ودیگر نے خطاب کیا۔

مقررین نے کہا کہ حکومت قادیانیوں کی غیر قانونی سر گرمیاں روکے ورنہ عقیدہ ختم نبوت کے متوالے جاگ رہے ہیں ، تحفظ ناموس رسالت قانون اور امتناع قادیانیت آرڈیننس کا تحفظ کرتے رہیں گے،بلدیہ ٹاؤن، اورنگی ٹاؤن سمیت ضلع غربی اور کیماڑی کے بیشترعلاقے قادیانیت کے نشانے پر ہیں،قادیانی مراکزقائم جبکہ قادیانی مبلغ دندناتے پھررہے ہیں،آئین پاکستان سے بغاوت کرنے والوں کیخلاف قانونی کارروائی کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔

مقررین نے انتباہ کیا کہ حکومت قادیانیت نوازی ترک کرے اور اقتدارکے ایوانوں سے قادیانیوں کو ہٹائے ،قانون ناموس رسالت 295C اور عقیدہ ختم نبوت کی آئینی شقوں کی حفاظت ہمارا ایمانی وآئینی فریضہ ہے۔

علماء نے ایک قرارداد کے ذریعے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت امتناع قادیانیت ایکٹ پر عملدرآمد کوہر صورت یقینی بنائے کیونکہ وطن عزیزمیں منکرین ختم نبوت کی اسلام و آئین پاکستان مخالف سرگرمیاں خطرناک حدتک بڑھ چکی ہیں،قادیانی اسلام کا لبادہ اوڑھ کر اپنی جعل سازیوں سے سادہ لوح مسلمانوں کے ایمان پر ڈاکہ زنی کر رہے ہیں اور وہ آئینی پابندیوں کو روندتے ہوئے اپنی ارتدادی ناپاک سر گرمیوں کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *