غلامی سے گدی نشینی تک

قطب الدین کو غلاموں کا ایک سوداگر ترکستان سے خرید کر نیشا پور لایا اور اسے قاضی فخرالدین عبدالعزیز کو فروخت کیا
قطب الدین شکل و صورت میں قطعی دلچسپ شخصیت نہیں تھی تاریخ میں اسے قبیح لکھا گیا ہے
مگر شہاب الدین غوری نے اسے کثیر رقم کے عوض قاضی سے خرید لیا
قطب الدین نسلا ترک تھا
اس کی پیدائش 1150 عیسوی کی ہے
قطب الدین کی چھوٹی انگلیاں ٹوٹی ہوئی تھیں اس لئے لوگ اسے (ایبک شل) سے مخاطب کرنے لگے جس کا مطلب خستہ انگشت تھا
اس طرح قطب الدین ۔ قطب الدین ایبک کے نام سے مشہور ہوا

قطب الدین ایبک برصغیر کا پہلا مسلمان بادشاہ ہے جس نے دھلی میں اسلامی حکومت کی بنیاد رکھی جو دہلی سلطنت کے نام سے جانی گئی

قطب الدین ایبک خاندانِ غلاماں سے سلطنت کی گدی تک کس طرح پہنچا تاریخ میں جو اس کے شواہد ملتے ہیں اس کا خلاصہ ایبک کی وفاداری، سپہ گری، فکری و نظری صلاحیتیں، فتوحات اور عالموں کا قدردان ہونا ہے!

1192 عیسوی میں سلطان غوری نے دہلی اور اجمیر فتح کرکے قطب الدین ایبک کو وہاں کا گورنر مقرر کیا
قنوج شہر کی جنگ میں ایبک کی سپہ گری سے بے حد متاثر ہوکر سلطان غوری نے اسے باقاعدہ فرزند تسلیم کرتے ہوئے شاہی فرمانِ فرزندی جاری کیا اور اسے سفید ہاتھی جوکہ نایاب نسل تھا بطورِ علامت و تحفہ عنایت کیا
قطب الدین کی فوجوں نے گجرات، راجپوتانہ، گنگا جمنا کے اطراف، بہار اور بنگال میں مسلسل فتوحات حاصل کیں ۔ عین جب یہ سب کچھ جاری تھا اسی وقت سلطان محمود غوری جہلم کی قریب مخالفین یعنی گکھڑوں کے ہاتھوں مارا گیا تو قطب الدین ایبک نے تاریخ کے شواہدات کے مطابق جون 1206 کو لاہور میں اپنی تخت نشینی کا باقاعدہ اعلان کردیا

قطب الدین کی حکومت کا دورانیہ 20 جون 1206 عیسوی سے لیکر 4 نومبر 1210 عیسوی تک رہا
زمانہ گورنری ایبک کی فتوحات پر مشتمل ہے جب کہ اس نے تخت نشینی کے بعد امور سلطنت پر توجہ دی !

اس کے کاموں میں امورِ سلطنت پر توجہ دینا
نوزائیدہ اسلامی مملکتوں میں امن وامان قائم رکھنا
کھیلوں کو فروغ دینا
عالموں کی قدردانی و حوصلہ افزائی کرنا سرِفہرست رہا ہے ۔ اپنی فیاضی اور دادودہش(خدا کے نام پر دی ہوئی چیز) کے باعث تاریخ میں اسے لکھ بخش کے نام سے بھی شہرت ملی!

ایبک 1210 عیسوی کو لاہور میں چوگان(پولو) کھیلتے ہوئے گھوڑے سے گرا اور اگلی منزل سدھار گیا
انارکلی میں ایک کوچے (ایبک روڈ) پر اس کا خوب صورت مقبرہ کئی دہائیوں سے اپنے اطراف کا تماشائی ہے!

قطب الدین ایبک کا مقبرہ انارکلی بازار کے پہلو میں واقع ہے
زیرِ نظر مقبرہ وقت اور حالات کے ہاتھوں برباد ہوتا رہا
یہاں تک کہ مہاراجہ رنجیت سنگھ کے دور میں یہ ایک سکھ کی ملکیت میں تھا
انگریزوں کے دور میں یہ خستہ حالی کی الف ننگی تصویر تھا
قیام پاکستان کے بعد ایوب خاں کے دور میں حفیظ جالندھری کی گزارش پر مقبرے کی مرمت، تزئین وآرائش کا کام کیا گیا

مقبرے کے احاطے میں کھڑے ہونے پر آپ کو اپنی داہنی طرف ایک مندر کی خستہ حال عمارت کا اوپری حصہ دکھائی پڑے گا جو روز روشنی اور اندھیرے ہر دو میں اس مقبرے کو تاکتا رہتا ہے
مندر پر بابری مسجد کے سانحے کے بعد مسلمانوں کی ایک کثیر تعداد نے چڑھائی کی اور اسے اصل شکل سے تغیر کی جانب مبذول کردیا
(تصاویر میں ملاحظہ کرسکتے ہیں)
قومی ورثہ ہونے کے ناطے عین ممکن ہے کہ کبھی اس مندر کی تاریخی عمارت پر بھی کوئی مرمتی نظر ڈالے!!

نوٹ: مذکورہ تحریر مختلف تحاریر ، سوشل میڈیا اور تاریخی شواہدات کے مطالعے کے ساتھ ساتھ وکی پیڈیا کی مدد سے مکمل کی گئی ہے اور اختصار سے کام لیا گیا ہے

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *