حوالہ ہنڈی میں ملوث کمپنی کے خلاف FIA نے تحقیقات روک دیں ، رپورٹ

الرٹ نیوز ، کراچی

فیڈرل انوسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) سندھ زون میں حکومتی احکامات کو یکسر نظر اندازکردیا گیا ہے ، طبی آلات کی درآمدات کی آڑ میں کروڑوں روپے کی حوالہ ہنڈی کے جرم میں ملوث نجی کمپنی کے خلاف تحقیقات روک دی گئی ہیں .ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے کے حکم پر تحقیقات شروع کرنے والے دو اعلی تفتیشی افسران کو معطل کردیا گیا ہے ، مذکورہ افسران اس کمپنی کے خلاف شواہد جمع کرنے کے باوجود انکوائری کی زد میں آکر معطل کئے گئے ہیں .

تحریک انصاف کی موجودہ وفاقی حکومت نے ملک بھرمیں درآمدی اشیاء کی آڑ میں حوالہ ہنڈی اور منی لانڈرنگ میں ملوث مافیا کے خلاف بغیر کسی دباو کے مکمل تحقیقات کر کے کارروائی کے سختی سے احکامات جاری کئے ہوئے ہیں ، جس پر ایف آئی اے ، کسٹم ، ایف بی آر اور نیب سمیت دیگر اداروں میں مختلف انکوائریاں بھی جاری ہیں ، تاہم ان احکامات کو ایف آئی اے سندھ زون نے مکمل نظر انداز کرتے ہوئے ملوث ملزمان کے خلاف کارروائی کے بجائے ایسی مافیا کو بچانے کے لئے کوششیں شروع کردی ہیں ، جس کے باعث ایف آئی اے کے تفتیشی افسران کسی بھی انکوائری میں ایک حد سے زیادہ آگے بڑھنے سے مکمل گریز کررہے ہیں ۔

الرٹ نیوز کے ذرائع بتاتے ہیں کہ ڈی جی ایف آئی اے کے نام ایک درخواست میں طبی آلات کی آڑ میں حوالہ ہنڈی اور منی لانڈرنگ میں ملوث کمپنی کے خلاف تحریری درخواست موصول ہوئی جس پر ڈی جی ایف آئی اے نے یہ درخواست ڈائریکٹر ایف آئی اے سندھ زون کو منتقل کی گئی ، جہاں اس درخواست کو ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل منتقل کر کے19 ستمبر کو اسے انکوائری نمبر 176/19 میں تبدیل کردیا گیا ، مذکورہ تحقیقات میں معلوم ہوا کہ شاہراہ فیصل کے قریب الصحت سینٹر کی چوتھی منزل پر واقع میسرز نیشنل انٹرپرائزز گزشتہ کئی برس سے طبی آلات کی آڑ میں مس ڈیکلئریشن کے ذریعے قومی خزانے کو بھاری نقصان پہچانے میں ملوث ہے .

اس تحقیقات کے دوران تفتیشی ٹیم کو شواہد ملے کہ کراچی ،لاہور اور راولپنڈی کے بڑے سرکاری ونجی اسپتالوں میں طبی آلات کی سپلائی مذکورہ کمپنی کرتی ہے اور یہ طبی آلات جرمنی ،جاپان ،اٹلی اور دیگر ملکوں سے پاکستان منتقل کئے جاتے ہیں جس کے لئے یہ کمپنی کلیئرنگ ایجنٹ مشتاق انٹرپرائزز کا سہارا لیتی ہے ، تاہم ان درآمدت کے دوران منگوائی گئی اشیاءکی قیمت جعل سازی سے کم ظاہر کر کے ڈیوٹی اور ٹیکس کی مد میں حکومتی خزانے کو نقصان پہنچایا جاتا ہے اور بقیہ رقم حوالہ ہنڈی کے ذریعے بیرون ملک منتقل کردیا جاتا ہے اور یہ کام گزشتہ ہفتے تک جاری تھا .

اس تحقیقات میں تفتیشی ٹیم کو معلوم ہوا کہ نیشنل انٹرپرائزز کے مالک زبیر کا دوست طیب شیخ حوالہ ہنڈی کا کام کرتا ہے اور یہ ساری رقم اسی کے ذریعے سے منتقل ہوتی ہے اور یہ حوالہ ہنڈی کا کام پی ای سی ایچ ایس کے علاقے میں قائم ایک مکان سے کیا جاتا ہے ، اس تحقیقات میں ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل کو ایف بی آر اور کسٹم کی جانب سے مس ڈیکلیریشن اورحوالہ ہنڈی کے شواہد ملے جس کی مکمل رپورٹ تفتیشی ٹیم نے تیار کر کے نیشنل انٹرپرائزز کے دفتر میں ان کے اسٹاف کی موجودگی میں کارروائی کی ، تاہم اس کارروائی میں کمپنی کے مالک زبیر کے بارے میں علم ہوا کہ وہ بیرون ملک ہونے کی وجہ سے دفتر میں موجود نہیں ہیں ، جس کے بعد تفتیشی ٹیم نے دفتر سے شواہد اکھٹے کر کے اسے رپورٹ کا حصہ بنادیا ۔

الرٹ نیوز کے ذرائع کا کہنا ہے کہ مذکورہ کمپنی پر ایف آئی اے کی تفتیشی ٹیم کو کارروائی مہنگی پڑ گئی اور اعلیٰ حکام کے دباو پر ڈائریکٹر ایف آئی اے سندھ زون سلطان خواجہ کی ہدایت پر ایڈیشنل ڈائریکٹر ایڈمن عبدالحمید بھٹو نے تفتیشی ٹیم میں شامل انسپکٹر خالد نسیم خان اور سب انسپکٹر محمد امین خان کو معطل کر کے ان دونوں افسران کے خلاف انکوائری شروع کردی ۔

الرٹ نیوز کے ذرائع کا کہنا ہے کہ طبی آلات کی آڑ میں مس ڈیکلئریشن اورحوالہ ہنڈی میں ملوث کمپنی کے خلاف شواہد کے باوجود تحقیقات کو بند کر کے کسی دوسرے محکمے میں منتقل کرنے کی کوشش کی جاری ہے ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ایف آئی اے کے مختلف سرکلوں میں جاری اس طرح کی انکوائریوں پر کام کرنے والے تفتیشی افسران بھی تذبذب کا شکار ہوکر کام کرنے سے گریزاں ہیں ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *