تعكیم بچاؤ أیکشن کمیٹی کا گرؤپ انشورنس سے متعلق ہنگامی اجلاس

کراچی: تعكیم بچاؤ أیکشن کمیٹی کا گرؤپ انشورنس کے حوالے سے ہنگامی اجلاس کراچی میں منعقد ہوا۔ جس میں انیس الرحمان کنونیر، عبدالرحمان خان جنرل سکریٹری، ذکیہ انیس ایڈیشنل سکریٹری، محمد اسلم پریس سکریٹری، گل حمید منصوری و دیگرعہدیداران نے شرکت کی۔

اجلاس میں گرؤپ انشورنس سے متعلق نوٹس پر غور کیأگیا، جس کے مطابق گروپ انشورنس کے واجبات صرف 2011 تا 2020 ریٹائرڈ ہونے والے سرکاری ملازمین کو ہی ملے گی۔ جب کہ 2011 سے پہلے ، 2021 اور اس کے بعد ریٹائرڈ ہونے والے ملازمین کو واجبات کی ادائیگی نہیں ہوگی۔

تعلیم بچاﺅ ایکشن کمیٹی کے کنونیئر انیس الرحمان نے اس نوٹس پر سوال کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریٹائرڈ ہونے والے دیگر ملازمین کی تنخواہوں سے گروپ انشورنس کے نام پر بھاری رقم کی کٹوتی ماضی میں ہوتی رہی ہے اور اب بھی ہو رہی ہے تو انہیں انشورنس کی یہ رقم کیوں نہیں ملے گی؟

مزید پڑھیں: سندھ، نویں تا بارہویں امتحانات کے حوالے سے وزیر تعلیم سعید غنی کا مشاورتی اجلاس

جبکہ سپریم کورٹ کا احکامات کے مطابق تمام سرکاری ملازمین کی گروپ انشورنس کی رقم ادا کی جائے۔ باوجود اس کے توہین عدالت کرتے ہوئے یہ حکم نامہ جاری کیا گیاھے۔ جس سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ گروپ انشورنس کے نام پر کاٹی گئی یہ رقم کسی أنشورنس کمپنی کو ادا نہں کی گئی بلکہ حکومت نے خود ہڑپ کرلی اور اب یہ رقم واپس کرنے کو تیارنھیں ہیں۔

تعلیم بچاؤ ایکشن کمیٹی کے کنونیر انیس الرحمان اور جنرل سیکریٹری عبدالرحمان خان سپریم کورٹ اف پأکستان سے اپیل کرتے ہیں کہ سرکاری ملازمین کے واجبات کی ادائیگی کا حکم نامہ فوری جاری کرئے۔ خواہ اس کے کہ سرکاری ملازم کسی بھی وقت ریٹائرڈ ہوا ہو یأ ہوگا۔ کیوں کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں سے یہ رقم حکومت نے کاٹی ہے۔ اس لئے اس کو واپس کرنا ہی انصاف ہوگا۔ اگر کوئئ ملازم انتقال کرگیا ھو تو اس کے لواحقین کو یہ رقم دلوائی جائے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *