کراچی،اہم عہدوں پر غیر مقامی افراد کا تقرر

کراچی ( رپورٹ: محمدانور) حکومت سندھ نے اپنے معروف قوانین و اصول و ضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی کے شہری وترقیاتی اداروں اور سرکاری اسپتالوں کا کنٹرول غیر مقامی افسران کے سپرد کردیا ہے جس کے نتیجے میں ڈومیسائل کے حامل افسران اپنی حق تلفی محسوس کرنے کے ساتھ احساس کمتری کا شکار ہورہے ہیں۔

ایک تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق ان دنوں کراچی کے انتظامی سربراہ کمشنر اور ضلعی سربراہان یعنی 7 ڈپٹی کمشنرز میں سے کوئی بھی مقامی ڈومیسائل کا حامل نہیں ہے۔ ان ڈپٹی کمشنر میں ڈی سی کیماڑی مختار ابڑو ، ڈپٹی کمشنر ساؤتھ ارشاد علی سدھر ، ڈپٹی کمشنر ایسٹ محمد علی شاہ، ڈپٹی کمشنر ویسٹ ، سلیم اللہ اوڈھو ، ڈپٹی کمشنر ملیر جاور علی لغاری، ڈپٹی کمشنر کورنگی عرفان سلام میروانی اور ڈپٹی کمشنر ڈسٹرکٹ سینٹرل ڈاکٹر محمد بخش راجہ دھاریجو ہیں۔

مزید پڑھیں: سندھ ہائیکورٹ نے سرکاری ملازمین کی ترقیّوں کا نیا فارمولہ دے دیا : رپورٹ

یہی نہیں موجودہ حکومت نے کراچی کی تاریخ میں پہلی بار کراچی ڈیولپمنٹ اتھارٹی ( کے ڈی اے) کا سربراہ بھی ایک غیر مقامی افسر ناصر عباس سومرو کو تعینات کیا ہوا ہے ۔ اسی طرح شہر کی لیاری اور ملیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی کو بھی غیر مقامی سربراہان کے حوالے کیا ہوا ہے۔ ان میں لیاری ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل کی اسامی پر محمد اسحٰق کھوڑو اور ملیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی کی ڈی جی کی اسامی پر ڈاکٹر وسیم شمشاد کو تعینات کیا ہوا جو باالترتیب اندرون سندھ اور پنجاب کے ڈومیسائل ہولڈر ہیں۔

تحقیقات کے مطابق کراچی کے جناح میڈیکل سینٹر، کارڈیویسکولر ڈیزیز سول اسپتال کراچی اور نیشنل انسٹیٹیوٹ آف چائلڈ ڈیزیز جو شہر کے تین بڑے اسپتال کہلاتے ہیں کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ بھی غیر مقامی ڈومیسائل کے حامل ہیں جبکہ کورنگی، لیاری ‘ملیر سعود آباد ، نئی کراچی اور دیگر اسپتالوں کا کنٹرول بھی غیر مقامی یا کراچی سے باہر سے تعلق رکھنے والے میڈیکل آفیسرز کے حوالے ہے۔

شہر کے 106 تھانوں میں 65 ایسے ہیں جہاں غیر مقامی افسران کو بحیثیت ایس ایچ او تعینات کیا گیا ہے، جس کی وجہ سے جرائم کی وارداتوں میں کمی کے بجائے اضافہ ہورہا ہے۔ ادھر محکمہ کالج ایجوکیشن کے ذرائع نے بتایا ہے کہ ڈائریکٹوریٹ کالجز کراچی میں اب کوئی بھی مقامی ڈومیسائل کا حامل افسر موجود نہیں ہے، یہ دفتر مقامی افسران نہ کھپے کا نمونہ بن چکا ہے۔

مزید پڑھیں: سرکاری ملازمین کیلئے پولیس نے اسلام آباد کو میدانِ جنگ بنا دیا

جبکہ شہر کے 145 فعال کالجز میں سے 83 کالجوں میں اندورن سندھ سے تبادلہ کرکے یہاں تعینات کیے جانے والے غیر مقامی افسران بحیثیت پرنسپل تعینات ہیں۔ اس صورتحال کا منفی اثر کراچی کے تعلیمی نظام پر پڑ رہا ہے جبکہ مقامی افسران میں مایوسی پھیل رہی ہے۔

خیال رہے کہ نیب نے سندھ حکومت سے گزشتہ ماہ گریڈ ایک تا 22 کے ان تمام افسران کی فہرست طلب کی تھی جو رورل ڈومیسائل کے حامل ہیں مگر کراچی اور حیدرآباد کی شہری اسامیوں پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ سندھ حکومت نے نیب کے اس خط کی مذمت کی تھی اور اسے اپنے اختیارات سے تجاوز کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔ لیکن اس رپورٹ سے واضح ہوتا ہے کہ سندھ حکومت چونکہ کوٹے کے مطابق سرکاری افسران کے تقرر نہیںکرتی اس لیے مذکورہ فہرست نیب کو فراہم نہیں کرنا چاہتی۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *