آڈیٹر جنرل سندھ اور پورے محکمہ کیخلاف تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہیں، فردوس شمیم نقوی

کراچی : پاکستان تحریک انصاف کےمرکزی رہنماء و رکن صوبائی اسمبلی فردوس شمیم نقوی، سندھ اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر بلال غفار ، رکن سندھ اسمبلی ڈاکٹر سنجے گنگوانی نے سندھ اسمبلی میں پریس کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ 2020-21 کی سندھ کے حوالے سے آڈیٹر جنرل کی رپورٹ جاری ہوچکی ہے رپورٹ میں جو انکشافات سامنے آئیں ہیں انہیں مدنظر رکھتے ہوئے آڈیٹر جنرل سندھ اور پورے محکمہ کیخلاف انکوائری کا مطالبہ کرتے ہیں ، صوبہ سندھ میں جاری کرپشن کے معاملے پر دو محکمے ملوث ہوسکتے ہیں ایک آڈیٹر جنرل سندھ اور دوسرا اینٹی کرپشن ہے، آڈیٹ کی رپورٹ آڈیٹر جنرل اف پاکستان سے منسلک دی جاتی ہے 29 سالوں میں سے 13 رپورٹس پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے لی ہی نہیں پبلک آکاؤنٹس کمیٹی نے 13 رپورٹوں کو کھول کر نہیں دیکھا 1992 کے دوران جن افسران نے اداروں میں کرپشن کی ہوگی ان کا کچھ معلوم نہیں کیا وہ آج بھی اپنے عہدوں پر موجود ہوں گے ہر سال ہمیں ایک پلندہ پکڑا دیا جاتا ہے اس سال کی رپورٹ میں مسائل شدید ہیں اس سال کی مجموعی رقم 252 بلین روپے آڈٹ کی رپورٹ میں مزیدار کالم بنایا گیا جسے نام دیا ہے “ادرز ” یہ کالم 1 لاکھ 22 ہزار 8سو 71 ملین روپے کا ہے ادرز جس کی کوئی تفصیلات نہیں ہیں یہ کل رقم کا 45 فیصد تک بنتا ہے ، اور اسی طرح پچھلے سالوں کی رپوٹوں کی بھی یہی کہانیاں میں ، پچھلی بےضابطگیاں کرنے والے افسران کا کوئی حساب کتاب نہیں لیا گیا، کم سے کم جن افسران نے فراڈ کیئے آڈیٹر جنرل سندھ ان کا ذکر تو کرتے آڈیٹر جنرل نے اپنی رپورٹ میں پلی بارگین لینے والے افسران کی کرپشن کا کہیں ذکر نہیں کیا یہ ناکام گورننس کے زمرے میں آتا ہے۔

فردوس شمیم نقوی نے کہا کہ 2016 -17 میں صرف 5 فارمیشن آڈٹ ہوئی2018 -19 میں 6 فارمیشن ہوئیں 2020-21 میں سب سے زیادہ 10 فارمیشن ہوئیں ، فوڈ ڈپارٹمنٹ کے بے تحاشہ اسکینڈل سامنے آئے اصولی طور پر آدیٹر جنرل کو فوڈ ڈپارٹمنٹ کا 100 فیصد آڈٹ کرنا چاہیے یہ چھوٹی وزارتوں کو 100 فیصد آڈٹ کرتے ہیں اور جہاں چوری اور گھپلا زیادہ ہوتا ہے وہاں آڈٹ کم سے کم کیا جاتا ہے میں جب کونسلر تھا تو میری یونین کونسل کے لوگ بتایا کرتے تھے کہ میڈیکل بل پاس کروانے کیلئے بھی پیسے دینے پڑھتے ہیں یعنی سرکاری ملازمین کو جائز رقم کے بل کیلئے پیسے کھلانے پڑھتے ہیں ایجوکیشن اینڈ لٹریسی ڈپارٹمنٹ میں بچھلے سال 520 فارمیشن تھی ان فارمیشن کو اس سال گھٹاکر 124 کر دیا گیاانہی کی رپورٹ کے مطابق 9 فارمیشن کو آڈٹ کیا گیا 2017 میں 96 اور 2018 میں 65 اور اب 124 میں سے 25 فارمیشن کا آڈٹ کیا گیا جوکہ 20 فیصد بنتا ہے یعنی 80 فیصد کا کوئی آڈٹ ہی نہیں کیا گیا ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کی فارمیشن 212 ہوتی تھی اسے گھٹا کر اس سال 50 یعنی 22 فارمیشن فیصد کم کردیا کا آڈٹ کیا گیا۔

2020-21 میں ایگریکلچرل ڈپارٹمنٹ نے 70 فیصد آڈٹ کے دستاویزات پیش نہیں کیے سندھ حکومت چوری کو سپورٹ کررہی ہےپبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں اپوزیشن کا ایک بھی ممبر نہیں ہے عوامی ٹیکس کے معاملے پر کون جواب دیگا آڈیٹر جنرل صدر پاکستان کے ماتحت کام کرتے ہیں گندم چوری ہوئی، گندم ریلیز نہیں ہوئی آڈٹ رپورٹ میں نہیں بتایا گیا پینشن کرپشن کے معاملے پر آڈٹ رپورٹ میں کچھ واضح نہیں کیا گیا فرزانہ راجا نے بی آئی ایس پی میں 8 لاکھ سے زیادہ لوگوں کو غیر قانونی رقم دلواتی رہی بی آئی ایس پی کی کرپشن کے معاملے پر بھی آڈٹ رپورٹ میں کچھ نہیں بتایا گیا آڈٹ رپورٹ میں 50فیصد خرچوں کو ادرز میں ڈالنے کا کیا مقصد ہےادرز میں وہ رقم ڈالی جاتی ہے جو 5 فیصد کے چھوٹے خرچے ہوں،آڈیٹر جنرل کیا کررہے ہیں یہ پیٹی بند بھائی ایک دوسرے کو سپورٹ کرتے ہیں۔

فردوس شمیم نقوی نے کہا کہ ہائیکورٹ نے پلی بارگین لینے والے افسران کو ہٹانے کیلئے آرڈر جاری کیے سندھ حکومت نے پلی بارگین لینے والے افسران کو تحال عہدوں پر تعینات کیا ہوا ہے پوری سندھ حکومت آڈیٹر جنرل کو دستاویزات نہیں دیتی کاغذ نہ دینا چوری کرنے کی سب سے بڑی وجہ ہے آڈٹ کی کتابوں کی ردی پیپر کی کوئی اہمیت نہیں ہے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی ان کتابوں کو کھول کر بھی نہیں دیکھتی آڈٹ کے تمام قانون پنجاب اسمبلی کیلئے ہے سندھ اسمبلی کیلئے کوئی قانون نہیں ہے مراد علی شاہ سندھ کے کنٹریکٹر ہیں یہاں کوئی ٹرانسپیرنسی نہیں ہے 13 سال سینہ ٹھوک کر پی پی نے کہا کہ ہم کارکردگی کی بنیاد پر آئیں ہیں کارکردگی اچھی ہے تو کراچی کی بسیں کہاں ہے کچرا کیوں نہیں اٹھایا جارہا یہ خط ہم نے گورنر سندھ کو بھیجا ہے گورنر سندھ ہمارا خط صدر پاکستان کو بھیجیں گےہم چاہتے ہیں سندھ میں جو کرپشن کا بازار گرم ہے اس کے ذمہ داروں کا تعین کیا جائے آڈٹ میں کیےگئے گھپلوں کے ذمہ داروں کو منظر عام پر لایا جائے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *