اک مبارک حادثہ

امام مسجد

مسجد نبویؐ شریف میں بدھ کے روز نماز فجر میں غیر معمولی تاخیر ہوگئی۔ جس کے بعد ہنگامی طور پر حرمین شریفین میں ہر فرض کیلئے دو دو امام اور تین تین موذن مقرر کرنے کا فیصلہ ہوا ہے۔

جبکہ ائمہ و موذنین کی انتظامیہ کے ڈائریکٹر اور سیکریٹری کو عہدے سے فارغ کر دیا گیا۔ نماز فجر میں 45 منٹ کی تاخیر حرمین شریفین کی حالیہ تاریخ کا پہلا اور عجیب واقعہ ہے۔ نمازی صبح کی روشنی پھیلنے تک امام صاحب کا انتظار کرتے رہے، مگر ان کا کوئی پتہ نہ چلا۔

تاہم مقام شکر کہ مسجد نبوی کے سب سے جونیئر امام الشیخ احمد طالب حمید بن مظفر خان مدینہ منورہ میں موجود تھے اور انہیں ہنگامی طور پر بلا کر امامت کرائی گئی۔ جس پر سوشل میڈیا میں بھی ایک نئی بحث چھڑ گئی۔ بلکہ عرب میڈیا میں اس تاخیر کو ”حادثة الفجر“ کا عنوان دے کر حادثہ قرار دیا گیا ہے۔

عرب اسے حادثہ کہیں یا سانحہ، مگر احناف کے نزدیک یہی نماز فجر کا سب سے افضل وقت ہے۔ چلیں اس مبارک حادثے نے مشہور ترین حدیث ”اسفروا بالفجر فانہ اعظم للاجر“ پر عمل تو کرا دیا۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *