کیا یہی جمہوریت کا انصاف ہے؟

تحریر : شبیر احمد ارمان

خبر کے مطابق سندھ حکومت نے بحریہ ٹاون (جسے عرف عام میں بھیڑیا ٹاون بھی کہا جاتا ہے ) واقعے پر معزرت کرلی ہے ۔ غور طلب پہلو یہ بھی ہے کہ جب گوٹھوں پر قبضہ کیا جارہا تھا ، زبردستی لوگوں کو بیدخل کیا جارہا تھا ، گوٹھوں کے مکینوں پر فائرنگ کی جارہی تھی تو اس وقت کسی سیاسی جماعت کو تکلیف نہیں پہنچ رہی تھی

اس وقت سندھ حکومت نے اصل ذمہ داروں پر کاروئی کرنے کے بجائے بحریہ ٹاون کے سیکیورٹی اہلکاروں پر ایف آئی آر درج کروائی اور سندھ حکومت کے کچھ ملوث افسران کو قربانی کا بکرا بنا کر صرف معطل کئے گئے جسے عرف عام میں آرام کرنا کہا جاتا ہے ۔

ہر انسان کے حقوق برابر ہیں لیکن گوٹھوں کے مکینوں کے حقوق سرعام پامال کئے گئے لیکن کسی نے ان کے حقوق کی بات نہیں کی سب کے سب خاموش تھے ، ( قومیت بیان نہیں کروں گا ورنہ دیگر یہ میرے مضمون کو بھی لسانیت کا رنگ دیکر ظالم کو مظلوم بناکر پیش کریں گے )

مزید پڑھیں: عورت ہو کر مرد سے ہاتھا پائی

سب کو پتہ ہے ان گوٹھوں کے مکین صدیوں سے آباد ہیں جب ان کے ساتھ زیادتی کی جارہی تھی تو کسی سیاسی ٹولے نے مذمت نہیں کی ، ان کے ساتھ ہمدردی نہیں کی ، ان کے ساتھ زیادتی کرنے والے اصل ذمہ داران آج بھی قانون کی گرفت سےآزاد ہیں، ایسا کیوں ؟ یہ دہرا پن کیوں ؟

کیا یہ لسانیت کو ہوا دینے کے مترادف نہیں ہے ؟ اب بہت سے سیاسی لوگوں کا رخ بحریہ ٹاون کی طرف ہے سب ہمدردی جتارہے ہیں ، یہ درست ہے کہ کسی جگہ گھس کر حملہ کرنا غلط ہے لیکن بحریہ ٹاون جس جگہ واقع ہے اس کے معاملات شفاف نہیں ہے ۔زمینوں کی الائمنٹ سپریم کورٹ کے فیصلے کے تحت جرمانے کی ادائیگی کے معاملات بھی شفاف نہیں ۔ کیا یہی انصاف و جہموریت ہے ؟ ۔

نوٹ: ادارے کا تحریر سے متفق ہونا ضروری نہیں، یہ بلاگ مصنف کی اپنی رائے پر مبنی ہے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *