گوجری زبان کی تاریخ

اردو ، سندھی ، میواتی ، گجراتی ، راجستھانوی ، ہریانوی ، دہلوی اور دیگر کئی زبانوں کی ماخذ گوجری زبان ہے ۔ گوجری زبان پاکستان، بھارت اور افغانستان میں زیادہ بولی جاتی ہے اور اٹلی، فرانس، برطانیہ ، چین سمیت دنیا بھر میں گوجری زبان بولنے والے لوگ پائے جاتے ہیں ۔

پاکستان میں یہ زبان سوات ،ہزارہ ، قبائلی علاقوں کے علاوہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں بھی بولی جاتی ہے ۔ آزاد کشمیر میں 1980ء کی دہائی تک بھی کئی علاقے ایسے تھے جہاں تمام قوموں کے لوگ گوجری زبان بولتے تھے ۔

بھارت کی ریاستوں میں گوجری زبان جموں و کشمیر، ہماچل پردیش، ہریانہ، اتراکھنڈ، راجستھان، گجرات (بھارت)، پنجاب اور دہلی میں بڑے پیمانے پر بولی جاتی ہے۔

مزید پڑھیں: عبرانی – دنیا کی مردہ ترین زبان

بھارت کی ریاست ہریانہ میں اس زبان کو مرکزی حیثیت حاصل ہے جہاں تمام مقامی لوگ گوجری زبان ہی بولتے ہیں ۔ ان میں گجر ، راجپوت اور جٹ بھی شامل ہیں ۔ وہاں اس کو ہریانوی کہا جاتاہے ۔ اس کے علاوہ ہندوستان میں جو ہریانوی، راجستھانی، گجراتی، میواتی اور دہلوی وغیرہ زبانیں بولی جاتیں ہیں وہ دراصل گوجری زبان کا روپ ہیں ۔ جموں و کشمیر نے گوجری زبان کو آئینی طور ریاست کی 6 بڑی زبانوں میں شامل کیا ہے ۔

زبان کی تاریخ

گوجری زبان برصغیر کی قدیم زبانوں میں سے ایک ہے جو برصغیر میں آریاوں کی آمد کے ساتھ ہی برصغیر میں داخل ہوئی ۔ پھر تیرہویں صدی عیسوی تک ہندوستان میں گجر حکومتوں کے کے دور میں گوجری زبان کو باقاعدہ سرکاری زبان کی حیثیت حاصل رہی ۔

سرکاری سرپرستی کے زمانے میں ادیبوں اور شاعروں نے کافی مقدار میں گوجری اَدب تخلیق کیا البتہ اس میں شعری اَدب زیادہ ہے اور وہ بھی اکثر صوفیانہ کلام ہے۔ ان شعرا میں سید نور الدین ست گرو، حضرت امیر خسرو، شاہ میراں جی، شاہ باجن ،شاہ علی جیوگامی، برہان الدین جانم، خوب محمد چشتی، جگت گرو اور امین گجراتی کے نام قابل ذکر ہیں۔ ان شعراء کے گوجری ادب نے ہی آگے چل کر اردو ادب کی بنیادیں استوار کیں ۔

مزید پڑھیں: عربی زبان اور ہود بھائی

پندرہویں صدی عیسوی کے بعد ہندوستان میں گوجری حکومتوں کا زوال شروع ہو گیا اس کے ساتھ ہی گوجری زبان کی سرکاری سرپرستی ختم ہو گئی اور یہ زبان مرکزیت سے دور ہوتی چلی گئی جس کے نتیجے میں گوجری زبان مقامی لہجوں میں تقسیم ہو کر رہ گئی گوجری زبان کی ادبی بنیادوں پر دوسری زبانوں کے ڈھانچے تعمیر ہونا شروع ہو گئے کہیں گجراتی، کہیں راجھستانی، کہیں سندھی پنجابی اور کہیں ہندوستانی کا نام دے کر ہندوی اور اردو زبانوں نے اپنی ترقیاتی سرگرمیوں کا آغاز کیا۔

مرکزیت کھونے کے بعد گوجری زبان کا کوئی مخصوص علاقہ نہ رہا۔ ریاست جموں وکشمیر میں بولی جانے والی گوجری پر عربی اور فارسی کے واضح اثرات دیکھنے میں آتے ہیں کیونکہ ریاست کے تمام گوجر مذہب اسلام کو ماننے والے ہیں اور ان کا مذہبی لٹریچر عربی اور فارسی زبانوں میں دستیاب تھا۔ مذہبی اور عالم فاضل لوگ درسگاہوں میں عربی فارسی کی تعلیم دیتے تھے اس لیے عام لوگوں کی زبان پر بھی یہ اثرات مرتب ہونے لگے

تاریخ سے یہ بات ثابت ہے کہ آریائی ہندوستان میں داخل ہوئے تو وہ آریائی زبان بولتے تھے۔ باقی زبانیں آریائی اور قدیم ہندوستانی تہذیبوں اور بولیوں کے میل میلاپ سے وجود میں آئیں جنہیں پراکرت کے نام سے جانا جاتا ہے اور اس کی ایک شاخ آپ بھرنس ہے۔

سرکاری سرپرستی کے دور میں گوجری زبان کو گجرات میں مرکزی حیثیت حاصل رہی۔ لیکن جب مغلوں کی حکومت قائم ہوئی تو انہوں نے فارسی زبان کو سرکاری زبان قرار دے دیا ۔ اس سے قبل گوجری زبان کو ہندوستان کی سرکاری زبان کی حیثیت حاصل تھی ۔

مزید پڑھیں: اردو بطور قومی زبان سرکاری سطح پہ کیسے نافذ ہو؟

مغلوں نے فارسی زبان کو سرکاری تو قرار دے دیا لیکن گوجری زبان مقامی سطح پر بولی جاتی رہی ۔ مغلوں کے لشکر میں موجود مقامی لوگ گوجری زبان بولتے تھے ۔ اس دور میں گوجری ، فارسی اور ترک زبان کے باہمی اثرات سے اردو زبان وجود میں آئی ۔ لیکن یہ حقیقت ہے کہ اردو زبان کا بنیادی ڈھانچہ گوجری زبان پر ہی کھڑا ہے ۔

اردو زبان کے ایک مورخ ڈاکٹر جمیل جالبی اپنی ” تاریخ اردو ادب “ میں لکھتے ہیں ’ ’ جب دکن میں اردو کے نئے مراکز ابھرے تو وہاں کے اہل علم و ادب نے قدرتی طور پر گوجری ادب کی روایت کو اپنایا۔ دکن میں جب اردو کا چرچا ہوا اور اسے سرکاری دربار کی سرپرستی حاصل ہوئی تو وہاں کے ادیبوں اور شاعروں کی نظر گوجری ادب پر ہی گئی اس ادب کو معیار تسلیم کر کے انہوں نے اس ادب کے تمام عناصر کو اپنے ادب میں جذب کر لیا“۔

ڈاکٹر جمیل جالبی سترہویں صدی تک گوجری زبان کی ادبی حیثیت کو تسلیم کرتے ہیں۔ اردو بولنے والوں کو گوجری سمجھنے میں کوئی دقت نہیں ہوتی یقیناً گوجری زبان اور اردو کا لسانی رشتہ بہت قریبی ہے کیونکہ اردو زبان کی بنیادیں ہی گوجری ادب پر ہیں۔

ریاست جموں وکشمیر میں تخلیق ہونے والا گوجری ادب مقامی لہجوں کا مرکزی روپ ہے گوجری زبان کا اپنا ایک حلقہ ہے ،اپنا ایک ادب ہے، اپنے خالص الفاظ کا ذخیرہ ہے اور اپنی ایک الگ پہچان ہے یہ کہہ دینا کہ گوجری پنجاب یا کسی دوسری زبان کی ذیلی بولی ہے قطعاً درست نہیں بلکہ گوجری زبان کی اپنی ذیلی شاخیں ہیں۔گوجری زبان میں محاورے، ضرب المثل، پہلیاں، لوک گیت، لوک کہانیاں اور لوک بار غیر ہ وہ سب مواد موجود ہے جس کے بل بوتے پر اس کو زبان کا درجہ دیا جا سکتا ہے گوجری اپنی قدامت اور وسعت کے لحاظ سے برصغیر کی اہم زبان ہے

مزید پڑھیں: عربی زبان کی شان و شوکت

سب سے پہلے گجرات (بھارت) اور دکن میں اس کو اردو کا نام دیا گیا کیونکہ دراصل اس زبان کے خدوخال سے ہی بعد میں اردو نے نشو و نما پائی چوہدری اشرف گوجر ایڈووکیٹ نے اپنی کتاب” اردو کی خالق، گوجری زبان“ میں بڑے خوبصورت طریقے سے یہ بات ثابت کی ہے۔

گوجری زبان برصغیر کے میدانوں اور کوہساروں میں بڑی توانائی کے ساتھ زندہ رہی یہ زبان راجستھان، ہماچل پردیش، جموں وکشمیر، صوبہ خیبر پختونخوا، شمالی علاقہ جات یہاں تک کہ افغانستان، روس اور چین کے کچھ علاقوں میں بھی بولی اور سمجھی جاتی ہے۔

افغانستان سے آج بھی گوجری زبان میں ہفت روزہ مجلّہ شائع ہو رہا ہے مجموعی طور پر گوجری زبان بولنے والوں کی تعداد تقریباً 25 کروڑ سے زائد بتائی جاتی ہے جغرافیائی وسعت کے اعتبار سے برصغیر کی دوسری کوئی زبان گوجری کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ پنجاب، مارواڑی اور خاص طور پر سندھی پر اس کا اثرنمایاں ہے۔

نوٹ: ادارے کا تحریر سے متفق ہونا ضروری نہیں، یہ بلاگ مصنف کی اپنی رائے پر مبنی ہے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *