بارش ۔۔۔۔۔۔ یہ بارش

تحریر : نادر اختر

عالم اررواح میں ایک شور برپا تھا .. میری بے سکون روح تڑپ رہی تھی ، خدائے واحد کا فرماں تھا ، ہم کو الگ کیا جائے گا ، میری روح خدا سے لڑ رہی تھی .. خدا فیصلہ سنا کے تخلیہ کا حکم کر چکا تھا اور تم میری جاں سہمی ہوئی تھی ، دنیا پہ بچھڑنے کا دکھ ہمیں کھا رہا تھا ، ہماری روحیں ماہی بے آب کی طرح تڑپ رہی تھی ۔

تب ہم نے احتجاجاً رونا شروع کر دیا .. عالم اررواح میں اب تلک کوئی رویا نہ تھا ، آنسو ایک نیا لفظ تھا ، جو کسی کو معلوم نہ تھا ، ہر روح سہم گئی تھی اور خدا سے التجا کی تمام روحیں بیک وقت کہہ اٹھی ۔ “خدائے کن فیکون ان تڑپتی روحوں پہ کر کرم… فرما دے کن ” خدا نے جلال میں آکر حکم کر دیا ۔

“دنیا میں جانے تک ان کی آنسو کو محفوظ کیا جائے اور جب دنیا کو ضرورت پڑے ، ان آنسووں کو بارش کی صورت میں برسایا جائے”

میری جاں

دنیا میں آئے ہوئے 22 برس 3 ماہ اور 15 واں دن ہے … ہم بچھڑ چکے ہے ، مگر آج بارش ہو رہی ہے.. ہمارے آنسو برس رہے ہیں ، دنیا کو ہماری آنسو کی ٹھنڈک مل رہی ہے ..

آو کچھ دیر اپنے آنسووں میں بھیگ جائیں …

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *