بحریہ ٹاؤن کے ملک ریاض ڈون یا داتا

بحریہ ٹاؤن کراچی

تحرہر : اسرار ایوبی

اس وقت ملک کے ذرائع ابلاغ خصوصاً سماجی ابلاغ پر بحریہ ٹاؤن کراچی پر حملہ کا بڑا چرچا ہے، جہاں پچھلے دنوں شہر کے باہر واقع فصیل اور پر آسائش بستی بحریہ ٹاؤن کراچی میں سندھ کی قوم پرست جماعتوں کے سینکڑوں کارکنوں نے ملک ریاض کی جانب سے طاقت اور دولت کے بل بوتے پر مقامی لوگوں کی جدی پشتی اراضیوں پر بظور قبضہ کرکے بحریہ ٹاؤن کے نام سے نئی اور پرآسائش بستی بسانے کے خلاف ایک احتجاجی مظاہرہ کیا تھا ۔

لیکن یہ مظاہرہ جلد ہی جلاؤ گھیراؤ اور توڑ پھوڑ میں بدل گیا تھا۔ جس کے نتیجہ میں غم وغصہ سے بھپرے ہوئے مظاہرین نے بحریہ ٹاؤن کے محرابی داخلی دروازہ سمیت قیمتی املاک اور باہر کھڑی موٹر گاڑیوں کو نذر آتش کردیا تھا ۔

جس کے بعد اس مسئلہ پر علاقائی اور لسانی سیاستدانوں کی جانب سے اپنی اپنی اپنی ڈفلی اپنا اپنا راگ کی طرح بیان بازیوں اور الزامات کا ایک سلسلہ شروع ہوگیا ۔

لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ان نفرت آمیز بیان بازیوں اور الزامات کی بارش سے اس دیرینہ مسئلہ کا کوئی مستقل حل بھی نکل سکتا ہے ۔

اس مسئلہ کو سمجھنے کے لئے ہمیں بحریہ ٹاؤن رہائشی منصوبے اور اس کے ارب پتی اور طاقتور مالک ملک ریاض حسین کے پس منظر اور کارستانیوں کا جائزہ لینا ہوگا کہ کس طرح ایک مختصر سی مدت میں ایک معمولی اور مفلس مستری ٹائپ شخص ملک کے تعمیراتی شعبہ کا ایک بڑا سیٹھ (Don) بن گیا ہے ۔ جو کاروبار کے ساتھ ساتھ حکمرانوں اور ارباب و اختیار کی ناک کا بال بنا ہوا ہے اور سب سے اس نے بڑھ کر ذرائع ابلاغ پر اپنی ایسی دھاک بٹھائی ہوئی ہے کہ اظہار رائے کے علمبردار صحافتی اور نشریاتی ادارے ملک ریاض اور بحریہ ٹاؤن کے خلاف بڑی سے بڑی خبروں کی اشاعت ازخود سنسر کرکے اپنے ادارہ کے مالی مفادات کا تحفظ کرتے ہیں ۔

ملک ریاض کو اپنے رہائشی تعمیراتی منصوبوں کے لئے کوئی اور مناسب نام منتخب کرنے کے بجائے وطن عزیز کی سمندری حدود کے محافظ عسکری ادارہ پاک بحریہ کا نام ہی کیوں اختیار کرنا پڑا اور وہ اپنے ذاتی کاروباری مفادات کے لئے صدیوں سے آباد مقامی لوگوں کی املاک اور اراضیوں پر بظور قبضہ کرکے ملک بھر میں بحریہ ٹاؤن کے نام سے رہائشی بستیاں کیوں آباد کر رہا ہے ۔

جس کے باعث عوام الناس میں ملک کے سمندروں کی نگہبان پاک بحریہ کے نام سے نہایت منفی تاثر ابھر رہا ہے ۔

اگرچہ ملک ریاض کے بحریہ ٹاؤن منصوبہ کے برعکس ملک میں دیگر معروف اور نامور تعمیراتی ادارے جن میں معمار ہاؤسنگ، الاعظم لمیٹڈ، روفی بلڈرز، صائمہ گروپ آف کمپنیز اور ایڈن گارڈن وغیرہ بھی ملک کے مختلف شہروں میں بڑے بڑے اور کامیاب رہائشی منصوبے تعمیر کرچکے ہیں ۔ جن پر نہ تو کسی عسکری ادارہ کا ٹھپہ لگا ہوا ہے اور نہ ہی ان پر قبضہ گیری کا کوئی الزام یا تنازعہ پایا جاتا ہے ۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر عوام الناس اور ملک کے دیگر حلقوں میں ملک ریاض کے بحریہ ٹاؤن کے تعمیراتی منصوبوں کے متعلق شکوک و شبہات، تحفظات اور نفرت کیوں پائی جاتی ہے ۔

اس کی وجوہات میں ایک بنیادی سوال یہ ہے کہ محض میٹرک پاس اور اوسط درجہ کی لیاقت کے حامل ملک ریاض کے پاس وہ کون سی گیڈر سنگھی ہے کہ وہ فقط دو عشروں کی مدت میں ایک معمولی مستری سے ملک کی تعمیراتی صنعت کا ایک بڑا سیٹھ (Don) اور ہر دور کے حکمرانوں اور طاقتوروں کی آنکھ کا تارہ کیسے بن گئے ہیں؟

ملک کےدیگر تعمیراتی اداروں کے برعکس آخر ملک ریاض کی جانب سے اپنے تعمیراتی منصوبوں اور کاروبار کے لئے پاک بحریہ کی عسکری شناخت کو کیوں استعمال کیا جارہا ہے؟

آخر وزارت دفاع اور پاک بحریہ ملک ریاض کی جانب سے پاک بحریہ کا نام استعمال کرنے کے خلاف کوئی قانونی کارروائی کیوں نہیں کرتی؟

ملک ریاض پر اپنی دولت کے بل پر ریاستی اداروں کی مشینری کی مدد سے اپنے تعمیراتی منصوبوں کے لئے غریب اور کمزور افراد کی املاک پر قبضہ اور ان کی جدی پشتی اراضیاں ہتھیانے اور اس ظلم کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرنے اور مزاحمت کرنے والوں کا خون کرنے کے سنگین الزامات ہیں ۔

معلوم ہوتا ہے کہ ملک ریاض نے اس معاشرہ سے اپنی بدترین مفلسی اور احساس محرومی کا بدلہ لیتے ہوئے اور اپنی انا کی تسکین کے لئے اپنے خوابوں کی جنت بحریہ ٹاؤن کی پر آسائش بستیاں بسانے کے لئے درجنوں افراد کا خون ناحق اور ہزاروں کمزور افراد کی آرزوؤں کا خون کرکے اور تمام مذہبی ،قانونی اور اخلاقی اقدار کو پامال کرتے ہوئے انہیں اپنے پاؤں تلے روندا ہے ۔

کیا سیٹھ ملک ریاض قانون سے اس قدر بالاتر ہیں کہ ملک کا کوئی عسکری، انتظامی اور عدالتی ادارہ بھی ان کے خلاف قانونی کارروائیوں سے قاصر ہے ۔

آخر ملک کے دیگر تعمیراتی اداروں کے مقابلہ میں ایک معمولی مستری ملک ریاض کے تیزی سے ارب پتی اور انتہائی طاقتور شخصیت بننے کے پیچھے کیا کارستانیاں پوشیدہ ہیں؟

کیا ملک ریاض کو اس بات کا ادراک ہے کہ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں جہاں آبادی کی اکثریت دو وقت کی روٹی کی محتاج اور سر چھپانے جیسی بنیادی ضرورت سے بھی محروم ہے اور یہ طبقہ زندگی بھر محنت و جفاکشی سے کام کرنے کے باوجود اپنا دو مرلہ کا گھر بھی بنانے کی استطاعت تک نہیں رکھتا، ایسے ماحول میں ملک ریاض کی جانب سے محرومیت اور مجبوری کے مارے معاشرہ میں فلوریڈا طرز کے بحریہ ٹاؤن کے پر آسائش رہائشی منصوبے عوام الناس میں سخت احساس محرومی، حسد اور نفرت کے فروغ کا باعث بن رہے ہیں ۔

کیا ہی اچھا ہوتا اگر سیٹھ ملک ریاض دنیا کے دیگر ممالک کے دردمند، غریب پرور اور دولت مند افراد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اس ملک کے نو دولتیوں اور طبقہ اشرافیہ کے لئے پرتعیش اور مہنگے ترین رہائشی منصوبے تعمیر کرنے اور مختلف طبقات میں نفرتیں پھیلانے کے بجائے اس ملک کے کم آمدنی والے اور اپنی چھت کی تمناؤں اور آرزؤں کے لئے ترسنے والے عوام الناس کے دکھ درد کا ادراک کرتے ہوئے اشرافیہ کے لئے بحریہ ٹاؤن جیسی اور معاشرہ سے الگ تھلگ متنازعہ اور لگژری فصیل بستیاں آباد کرنے کے بجائے اس ملک کے مظلوم عوام الناس کے سر چھپانے کے لئے سستی اور معیاری بستیاں آباد کرتے تو وہ آج ایک طاقتور اور سنگدل سیٹھ (Don) کے نام کے بجائے صحیح معنوں میں اس ملک کے لاکھوں بے گھر غریبوں کے ان داتا کا درجہ اختیار کرلیتے ۔

جو شاخ نازک پہ آشیانہ بنے گا
ناپائیدار ہوگا

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *