پاسپورٹ کرایہ پر دے کر منافع لینے کا حکم

سوال: آجکل یہ صورت بہت عام ہے کہ دوسروں سے پاسپورٹ لے کر اس پر بیرون ملک سے گاڑی منگوائی جاتی ہے پھر یہ پاسپورٹ منافع کے ساتھ واپس کردیا جاتا ہے، یہ معاملہ بہت زیادہ عام ہوچکا ہے، جس کو پاسپورٹ کرایہ پر دینے کا معاملہ بھی کہتے ہیں، یہ ایک غیر قانونی کام ہے، اس بارے میں لوگ سوالات کرتے رہتے ہیں، اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ اس سے متعلق شرعی حکم واضح کردیا جائے، جس کے لیے جامعہ دارالعلوم کراچی کا فتویٰ ذکر کیا جاتا ہے تاکہ مستند انداز میں یہ مسئلہ واضح ہوسکے۔

مزید پڑھیں: صدقہ فطر اور اس کے مسائل

جواب: ♦️ جامعہ دار العلوم کراچی کا فتویٰ ♦️

سوال میں ذکر کردہ مقصد کے لیے پاسپورٹ دے کر پیسے لینا شرعًا جائز نہیں، کیوں کہ حکومتی قانون میں صرف پاسپورٹ والے آدمی کو باہر ملک سے گاڑی منگوانے کی اجازت ہوتی ہے، اُس کا پاسپورٹ لے کر کسی دوسرے شخص کو باہر سے گاڑی منگوانے کی قانونًا اجازت نہیں ہوتی، اور حکومت اگر کوئی ایسا جائز قانون بنائے جس کے ساتھ عوام کی مصلحت وابستہ ہو تو اس قانون کی پاسداری شرعًا لازم ہوتی ہے، لہذا دوسرے کا پاسپورٹ لے کر گاڑی منگوانا جس طرح قانونًا ممنوع ہے اسی طرح شرعًا بھی درست نہیں، نیز یہ دھوکہ بھی ہے، لہٰذا پاسپورٹ کرایہ پر دینے اور لینے سے اجتناب کرنا ضروری ہے ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *