شیڈول فور اور ریاستی غنڈہ گردی!!

ریاست

تحریر: بشیر احمد قریشی


کہا جاتا ہے ریاست ماں جیسی ہوتی ہے اور عوام ریاست کے بچوں کی طرح ہوتے ہیں ۔

ریاست کا وجود عوام کے بغیر ممکن نہیں اسی لئے ریاست عوام کو سہولت پہنچانے کے لئے نوکرشاہی کا وجود رکھتی ہے اور نوکرشاہی کا کام عوام کو سہولت پہنچانا ہوتا ہے اور،عوام کو انصاف فراہم کرنے کے لئے الگ سے عدالتی نظام رکھتی ہے تاکہ بروقت عوام کو انصاف فراہم کیا جا سکے ۔

عوام کی کفالت، روزگار ، اشیا خوردونوش ، صحت اور کی ذمہ داری ریاست کی ہوتی ہے ۔

اور عوامی مشکلات سے آگاہی کے لئے ریاست خبر رساں اداروں کا وجود، رکھتی ہے جسے انٹلیجنس ڈپارٹمنٹس کا نام دیا جاتا ہے ۔ ان اداروں کے ملازمین عوام میں جاکر ان کی خبریں ریاست کے ذمہ داروں تک پہنچا دیتے ہیں اور ان خبروں کی روشنی میں ریاست مستقبل کی پالیسیاں ترتیب دیتی ہیں تاکہ عوامی مشکلات کا ازالہ ممکن ہوسکیں۔

موجودہ دنیا میں ریاست کے دو تصوررات بڑے مقبول ہیں ایک ویلفیئر اسٹیٹ اور دوسرا سیکورٹی اسٹیٹ ۔

دنیا ویلفیئر اسٹیٹ کی دلدادہ جبکہ سیکورٹی اسٹیٹ کو قابل نفرت سمجھتی ہے ۔ اور دنیا میں جہاں جہاں سیکورٹی اسٹیٹ کا تصور پایا جاتا ہے ان ریاستوں کے عوام غلامی کے چکی میں پس رہے ہیں ۔ وہاں صحافت کنٹرولڈ ہوتی ہے اور وہی خبریں عوام تک پہنچائی جاتی ہیں جو سیکورٹی اسٹیٹ کے مفاد میں ہو اسی طرح انسان کا بنیادی حق یعنی اظہار رائے کی آزادی کو سلف کر دیا جاتا ہے دوسرے لفظوں میں ان ریاستوں میں عوام کو غلام تصور کیا جاتا ہے اور ان کی زندگی کو ریاستی شکنجے میں کس کر رکھ دیا جاتا ہے ۔

سیکورٹی اسٹیٹ میں نوکر شاہی کو بھی دو حصوں میں تقسیم کر دیا جاتا ہے ایک سول نوکرشاہی اور دوسرا عسکری نوکر شاہی جسے ملیٹری بیورو کریسی کا نام دیا جاتا ہے۔ ملیٹری بیوروکریسی سول بیوروکریسی کو اپنی ماتحت سمجھتی ہے اور اپنے آڈر پر عملدرآمد نہ ہونے کی صورت میں سول نوکرشاہی کو قابل سزا سمجھا جاتا ہے اور ان کی سرکاری نوکری کو بلیک میلنگ کے ذریعے ملیٹری بیوروکریسی اپنی مٹھی میں بند رکھتی ہے اور سول بیوروکریسی ان کے آڈر کے بغیر کچھ کر پانے کی جرات نہیں کر سکتی یہاں تک عدالتیں انصاف فراہم کرنے کے بجائے آڈروں پر فیصلے کرنے لگ جاتی ہیں۔

وقتی طور پر سیکورٹی اسٹیٹ اس جبر کو اپنا مفاد تصور کر لیتی ہے مگر ایسے ریاستوں میں جب عوام اجتماعی طور پر گٹھن کا شکار ہوجاتی ہے تو یک دم ان کے اندر کا لاوا پھٹنے لگ جاتا ہے اور پھر یہ خونی انقلاب کا پیش خیمہ ثابت ہو کر ریاست دھڑام سے نیست و نابود ہوجاتی ہے اور پھر عوام ویلفیئر اسٹیٹ کی متلاشی رہتی ہے۔

بدقسمتی سے پاکستان مکمل طور پر سیکورٹی اسٹیٹ کی نرغے میں آ چکا ہے، یہاں دن بدن عوامی گٹھن میں اضافہ ہو رہا ہے ، اظہار رائے پر پابندی اور صحافت ریاست کے زیر اثر سانسیں مشکل سے لیتی ہے ۔

یہ بات بھی اظہر من الشمس ہے ہے ریاست کے جبر اور موت کے خوف سے آزاد مرد قلندر بھی اس دیس میں اپنا وجود رکھتے ہیں جو کلمہ حق بلند کرنا اپنی روح کی تسکین اور آخرت کی نجات سمجھتے ہیں بلاشبہ یہی اصل میں ملک و قوم کے ہیروز، ہیں۔

حیرت کی بات یہ ہے کہ گلگت بلتستان میں ریاستی جبر انتہاء کو پہنچا ہوا ہے یہاں بظاہر تو ایک کٹھ پُتلی حکومت کا وجود ہے مگر فیصلوں کی نہ تو اس میں صلاحیت ہے اور نہ خبر رساں اداروں کو اپنی کنٹرول میں رکھنے کی جرات رکھتی ہے۔بلکہ ایجنسیوں کی لونڈی کی بھی حثیت نہیں رکھتی ، صرف آنکھیں بند کر کے ان کے فیصلوں پر عملدرآمد کرنے میں اپنی عافیت سمجھتی ہے۔

اس سے کوئی زی شعور انکار نہیں کر سکتا کہ ایجنسیوں کے بغیر ملکی پالسی سازی ممکن نہیں۔

لیکن اگر یہی ایجنسیاں اپنے منڈیٹ سے تجاوز کر کے پرائیویٹ اسلحہ برداروں کی پرورش کرے انتظامیہ کو بےبس کر کے چلاس جیسے حساس شہر میں ان نام نہاد اسلحہ برداروں کو فری ہینڈ دینے میں کردار ادا کریں۔

اور پھر جو امن پسند شہری ایجنسیوں کے اس کردار پر تنقید کرے تو زبردستی انتظامیہ کے ڈپٹی کمشنر اور کمشنر سے دستخط کروا کر فورتھ شڈول جیسے کالے قانون کی تلوار اسلحہ برداروں کے مخالفین کے سروں پر لٹکا کر شہریوں کی زندگی کا مزاق بنانے پر اتر آئے تو یہ ادارے نہ صرف انسانی حقوق کے دشمن ہیں بلکہ ملک دشمن قوتوں کے آلہ کار بن کر معزز شہریوں کو ملک کے خلاف بغاوت پر اکسانے کے بھی ذمہ دار ہیں۔

ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ انتظامیہ کے سامنے سب تین خبر رساں اداروں نے عثمان علی قریشی اور مبشر آر بی کے کے ناموں کو فورتھ شڈول میں ڈالنے کی مخالفت کر دی تھی تو محض ایک بلیک میلر ادارے کی زد پر بعدازاں کیسے ان دو معزز شہریوں کے نام فوتھ شڈول میں آگئے۔

ان دو کے حوالے سے تو راقم کے پاس معلومات ہیں لیکن مجھے یقین ہے گلگت بلتستان بھی تمام 36 افراد جن کے نام فوتھ شڈول میں ہیں وہ بھی بلا وجہ ایجنسیوں کی انا پرستی کے شکار ہوئے ہونگے۔

لہذا فورتھ شڈول جیسے کالے قوانین کے ہتھکنڈے اب بند ہونے چاہئے اور فوری طور پر ان عوامل کو تحقیقات کے عمل سے گزارا، جائے جنہوں نے اپنی عنا کو تسکین پہنچانے کے لئے قانون کا غلط استعمال کر کے معزز، شہریوں کی زندگیوں سے کھیلنے کی کوشش کی ہے۔


نوٹ: ادارے کا تحریر سے متفق ہونا ضروری نہیں، یہ بلاگ مصنف کی اپنی رائے پر مبنی ہے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *