فریبِ ناتمام !!

انور ساجدی

تحریر: انور ساجدی


عمومی طور پر میں بلوچستان کی سیاست اور جماعتوں پر لکھنے سے گریز کرتاہوں کیونکہ اس وحدت کے جو حالات ہیں وہاں پر سیاست کی سائنس ناپید ہوچکی ہے جس کی وجہ سے سیاسی جماعتوں کا سیاسی کیریکٹر تبدیل ہوچکا ہے کیونکہ بہت ہی نامساعد حالات ہیں جس کی وجہ سے سیاسی جماعتیں گوناگوں مجبوریوں کی شکار ہیں آزادانہ سیاسی عمل کی بجائے ایک کنٹرول نظام چلایاجارہا ہے گوکہ یہ تجربہ کافی پرانا ہے لیکن نئی صورت حال میں اس کی جہتوں کو مختلف شکل دی گئی ہے لہٰذا بلوچستان کی جتنی جماعتیں ہیں جو اپنے آپ کو قوم پرست کہتی ہیں انہیں دوش نہیں دیاجاسکتا بلوچستان کو مفتوحہ علاقہ سمجھنے اور یہاں کی سیاست کو گماشتہ بنانے کاموجودہ سلسلہ 1973ء میں ذوالفقار علی بھٹو نے شروع کیا تھا1970ء کے عام انتخابات میں پیپلزپارٹی یہاں سے ایک نشست بھی حاصل نہ کرسکی تھی اس وقت کی سب سے بڑی قوم پرست جماعت نیشنل عوامی پارٹی کی کارکردگی بھی 1970ء کے انتخابات میں اچھی نہیں تھی صوبائی اسمبلی کی20نشستوں میں سے اس جماعت نے صرف8حاصل کی تھیں یعنی بہت بڑے بڑے سروقد لیڈروں کی موجودگی کے باوجود یہ جماعت اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہی تھی نواب اکبر خان بگٹی کے امیدواروں نے آزادحیثیت میں جو کامیابی حاصل کی تھی اس کی وجہ سے این اے پی کو ایک ممبر کی اکثریت حاصل ہوئی تھی اگرچہ بھٹو نے ایک سیاسی چال کے طور پر نیب کو حکومت سازی کی دعوت دی تھی لیکن وزارت قائم ہونے کے فوری بعد اس حکومت ہٹانے کی کوشش شروع کردی گئی تھیں جس کے نتیجے میں صرف9ماہ کے عرصہ میں یہ حکومت 15فروری1973ء کو برطرف کردی گئی اور گورنر راج لگادیا گیا بھٹو نے اس دوران نیپ اور جے یو آئی کے اراکین کو توڑنے کا سلسلہ شروع کردیا نیپ کے دواراکین بی بی فضیلہ عالیانی اور اسپیکر محمد خان باروزئی کی وفاداریاں حاصل کی گئیں جبکہ جے یو آئی کے مولوی صالح محمد اور مولوی حسن شاہ کو بھی توڑلیا گیا1973ء ہی میں جام میر غلام قادر خان کو وزیراعلیٰ نامزد کیا گیا انہیں اکثریت دلانے کیلئے بڑے جتن کئے گئے چنانچہ دھونس دھاندلی اورفلورکراسنگ کے ذریعے اکثریت قائم کی گئی جام صاحب اور انور جان کیتھران نے1970ء کے عام انتخابات اس وقت کی کنگز پارٹی قیوم مسلم لیگ کے ٹکٹ پر حصہ لیا تھا اور کامیابی حاصل کی تھی یہ تمام لوگ پیپلزپارٹی میں شامل ہوگئے جبکہ خان عبدالصمد خان اچکزئی جیسے سرکردہ سینئررہنما کی حمایت اس حکومت کو حاصل تھی خان صاحب نے قومی اور صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر انتخاب لڑاتھا قومی پر وہ شکست سے دوچار ہوگئے تھے جبکہ صوبائی اسمبلی پر انہیں کامیابی ملی۔

نیپ کے مسلح احتجاج کو کچلنے کیلئے بھٹو نے طاقت کا بدترین استعمال کیا اور بیوروکریسی نے لوگوں کو مجبور کیا کہ وہ ہرروز پیپلزپارٹی میں شمولیت کااعلان کریں گویا مرکز نے1973ء کے آئین کے نفاذ کے باوجود بلوچستان کو اپنے ڈائریکٹ کنٹرول میں لے لیا مارشل لاء کے نفاذکے بعد یہاں پر گورنر رول چلتا رہا سندھ اور بلوچستان کے گورنر باہر سے لاکر مقرر کئے گئے جبکہ پشتونخوا اور پنجاب میں مقامی جرنیلوں کو گورنر کے عہدے دیئے گئے ضیاء الحق کے دور میں کم از کم چارگورنر رہے جن میں سے ایک رحیم الدین اردو مہاجر تھے ان کا تعلق یوپی کے علاقہ قائم گنج سے تھا اور وہ بھارت کے سابق صدرڈاکٹرذاکر حسین کے بھانجے تھے بعد میں ضیاء الحق اور رحیم الدین خان”سمدھی“ بن گئے تھے۔خود ضیاء الحق کا تعلق مشرقی پنجاب کے مشہور علاقہ جالندھر سے تھا اوروہ طویل عرصہ تک انجمن ارائیاں پاکستان کے سرپرست تھے ایک طرف وہ مسلم امت اور نظام مصطفی کی باتیں کرتے تھے دوسری طرف ذات اور برادری کو بھی مانتے تھے۔

جنرل ضیاء الحق نے برسراقتدار آنے کے بعد 5جنوری 1978ء کو حیدرآباد سازش کیس ختم کردیا نیپ کے تمام رہنماؤں کو باعزت بری کردیا جبکہ سردارعطاؤ اللہ مینگل کو علاج کی غرض سے امریکہ بھیجا جہاں ان کے دل کا پہلا آپریشن ہوا۔

بلوچستان کے ایک سابق طاقتور گورنر رحیم الدین خان دعویٰ کرتے تھے کہ ضیاء الحق نے بلوچ رہنماؤں سے یہ یقین دہانی حاصل کی تھی کہ ان کی حکومت کے دوران بلوچستان کی سیاست میں سرگرم نہیں ہونگے اسی دوران وہ نواب خیر بخش مری پیرس اور سردار صاحب لندن چلے گئے چونکہ سیاسی شخصیات تھے اس لئے ایک اور طرح کی سیاست میں حصہ لیتے رہے نواب صاحب پیرس سے کابل چلے گئے اور ان کی ہدایت پر مری قبیلہ کے ہزاروں افراد نے ایک ناقابل فراموش مگرتباہ کن ہجرت کی سردار صاحب نے ممتاز بھٹو اور عبدالحفیظ پیرزادہ کے ساتھ مل کر سندھی بلوچ پشتون فرنٹ بنایا اس فرنٹ نے پاکستان میں کنفیڈرل نظام کا مطالبہ کیا لیکن یہ فرنٹ بھی عالمی حمایت نہ ملنے وسائل کی کمی اور باہمی اختلافات کی وجہ سے کامیاب نہ ہوسکا۔ہاں یہ بات ضرور ہے کہ جب تک ضیاء الحق رہے یہ رہنما بلوچستان نہیں آئے۔

نواب مری غلام اسحاق خان کے دور میں جب افغانستان شدید خانہ جنگی کا شکار تھا حکومت پاکستان کی مددسے واپس آئے جبکہ سردار صاحب غالباً1996ء میں واپس آئے اور انہوں نے ایک نئی جماعت کی بنیاد رکھی جس میں اس وقت کے قوم پرست شامل ہوگئے1997ء کے عام انتخابات میں ان کی جماعت کو40میں سے10نشستیں حاصل ہوئیں اور انہوں نے نواب بگٹی کی جے ڈبلیو پی کے تعاون سے حکومت بنائی۔

اسی دوران 28مئی 1998ء کو چاغی میں پہلا ایٹمی دھماکہ کیا گیا اس عظیم واقعہ کے بعد مرکز نے ایک بار پھر بلوچستان کا براہ راست کنٹرول حاصل کرنے کا فیصلہ کیا سرداراختر مینگل کو استعفیٰ دینے پر مجبور کیا گیا حالانکہ نوازشریف ان کے بڑے حامی تھے حسب سابق مرکز نے ایک گماشتہ حکومت مسلط کی یہ سلسلہ اس وقت سے اب تک جاری ہے 2002ء کے عام انتخابات میں جنرل پرویز مشرف نے ق لیگ کے نام سے کنگز پارٹی بنائی بلوچستان کی حکومت بھی اسے سونپ دی گئی البتہ2008ء کے انتخابات میں بینظیر کی شہادت کی وجہ سے بازی پلٹ گئی مشرف کی حمایت اور سیاست کو عوام نے آؤٹ کردیا جس کے نتیجے میں بلوچستان میں پیپلزپارٹی کی حکومت قائم ہوئی نواب رئیسانی کو وزیراعلیٰ بنایا گیا یعنی مرکز کا کنٹرول جاری رہا2013ء میں مسلم لیگ ن اسٹیبلشمنٹ کی کنگز پارٹی ٹھہری اس جماعت نے فیصلہ کیا کہ ڈاکٹر مالک کی نیشنل پارٹی کے ساتھ مل کر حکومت بنائی جائے میاں صاحب نے اختر مینگل کی برطرفی کا ازالہ کرتے ہوئے وزارت اعلیٰ نیشنل پارٹی کو دینے کا فیصلہ کیا تاہم مری میں ایک خفیہ تحریری معاہدہ کیا گیا جس کے تحت پہلے ڈھائی سال نیشنل پارٹی اور دوسرے ڈھائی سال مسلم لیگ ن کو دینے کا فیصلہ کیا گیا نیشنل پارٹی ہمیشہ ایسے کسی معاہدے کی موجودگی سے انکار کرتی رہی۔

لیکن2014ء میں لاہور میں جب نوازشریف سی پی این ای کی تقریب میں شریک تھے میں نے اس معاہدہ کے بارے میں سوال کیا انہوں نے پہلی بار اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ واقعی یہ معاہدہ ہوا ہے۔

2013ء وہ سال تھا کہ بظاہر نوازشریف ایک طاقتور وزیراعظم سمجھے جارہے تھے انہیں طاقت کے تمام عناصر کی حمایت حاصل تھی۔لیکن دراصل ایسا نہیں تھا بلوچستان پر حسب سابق مقتدرہ اپنی گرفت مضبوط کرچکی تھی ڈاکٹر مالک اور میرحاصل خان بزنجو مقتدرہ کی ہر بات ماننے پر مجبور تھے اسی دوران نوازشریف نے مسئلہ بلوچستان کے حل کیلئے جلاوطن رہنماؤں سے ڈائیلاگ کافیصلہ کیا اور ڈاکٹرمالک کو گرین سگنل دیا کہ وہ لندن اور جینواء جاکر بلوچ رہنماؤں سے بات چیت کاآغاز کریں وزیراعظم نے نہ صرف مقتدرہ کو اعتماد میں لیا تھا بلکہ ڈاکٹر مالک کی ملاقات بھی کروائی تھی ڈاکٹرصاحب کے بقول جنرل راحیل شریف نے یہ تک کہا تھا کہ اس کام میں تاخیر نہ کی جائے اجازت ملنے کے بعد ڈاکٹرلندن گئے اور وہاں سے سوئٹزر لینڈ جاکر براہمدغ بگٹی سے ملاقات کی کہا جاتا ہے کہ براہمدغ نے بعض شرائط پیش کی تھیں۔

جب ڈاکٹرصاحب واپس آئے اور رپورٹ وزیراعظم نوازشریف کو پیش کی تو پتہ چلا کہ صورتحال بدل چکی ہے اور مقتدرہ کو مذاکرات سے دلچسپی نہیں رہی اصل وجوہات کاتوعلم نہیں لیکن اندازہ یہی ہے کہ مقتدرہ کے اہم عناصر مذاکرات کے حق میں نہیں تھے۔

چند سال قبل جب ہماری ملاقات صدرعارف علوی سے ہوئی اور ان سے سوال کیا گیا کہ بلوچستان کے بارے میں ڈائیلاگ کی گنجائش بھی ہے کہ نہیں تو انہوں نے کہا کہ مقتدرہ کا جو طریقہ کار ہے ان کا کہنا ہے کہ یہی درست ہے۔

ڈاکٹرمالک اور میرحاصل خان تو اپنے ڈھائی سال مکمل کرگئے سبکدوش ہوگئے لیکن ان کی سیاست کو شدید دھچکہ لگا اس کی کیاجوہات تھیں میں یہ بیان کرنے سے قاصر ہوں۔

سردارثناء اللہ کا دور بھی ڈائریکٹ کنٹرول کا دور تھا جس کا تسلسل جاری ہے مذاکرات سے انکار کے بعد ایک بہت بڑا میگا پلان تیار کیا گیا جس کا مقصد بلوچستان کے ”مین لینڈ“ کو یکسر تبدیل کردینا ہے اسی پلان کے تحت بلوچستان کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا بیشتروسائل ساؤتھ بلوچستان کے انفرااسٹرکچر ڈیولپ کرنے کیلئے مختص کئے گئے شنید ہے اس مقصد کیلئے7کھرب روپے کی خطیر رقم رکھی گئی ہے یہ میگا پلان ساؤتھ بلوچستان کے طول وعرض میں شاہراؤں کاجال پھیلانا ہے موجودہ شہروں کو ترقی دے کر ایسی پوزیشن میں لانا ہے کہ فول پروف سیکورٹی کا نظام قائم ہوجائے۔مشکے،آواران،جھاؤ،کیچ اور پورے ساحل پر ایسے انتظامات کو روبہ عمل لانا ہے کہ چڑیا بھی پرنہ مارسکے۔

گوادر تو ہے ہی سی پیک لہٰذا اس کے بارے میں کیا کہاجاسکتا ہے اگرڈیموگرافک تبدیلی لائی گئی تو بلوچستان کے لوگ اور سیاسی جماعتیں کیا کرسکتی ہیں؟

افسوس کہ میں آزادی کے ساتھ لکھ سکتا کہ مستقبل میں نیشنل پارٹی اور بی این پی کیا رول ادا کرسکتی ہیں۔

البتہ یہ بات ضرور محسوس کی جاسکتی ہے کہ نیشنل پارٹی نے جو گرینڈ شمولیتی پروگرام شروع کیا ہے وہ آئندہ انتخابات کی تیاری ہے لیکن منشی محمد،منظور گچکی،شکیل بلوچ کی شمولیت سے کیا فرق پڑے گا ان میں سے دوشخصیات پہلے بھی ایم این اے رہ چکی ہیں۔جبکہ منشی محمد نے1988ء میں صوبائی اسمبلی کی نشست عزیز لاسی کی مدد سے جیتی تھی۔

انجینئرحمید بلوچ منشی محمد اور ان کی ساتھیوں کی شمولیت ایک سیاسی وانتخابی مراجعت ہے جس کا موقع ظہور بلیدی نے فراہم کیا ہے لیکن اس کا دوش ہمیشہ ڈاکٹرمالک کے کاندھوں پر رہے گا۔

چونکہ نیشنل پارٹی اور بی این پی آئندہ حکومت سازی کی متمنی ہیں لہٰذا اس کا ایک ہی راستہ نظرآتا ہے کہ یہ اتحاد کریں یاسیٹ ایڈجسٹمنٹ کریں تب ان کی مخلوط حکومت قائم ہوسکتی ہے بے شک اس کا حشر بی این پی اور جے ڈبلیو پی کی مخلوط حکومت جیسا ہو لیکن اس کے بغیر تنہا تنہا کوئی حکومت سازی نہیں کرسکے گی آئندہ جس کی بھی حکومت ہو مرکزکاکنٹرول سخت سے سخت تر ہوگا جس کے نتیجے میں ان سیاسی حکومتوں کو اپنی موت کے پروانوں پر دستخط کرنا ہونگے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *