کراچی : EOBI قائم مقام چیئرمین کو غیر قانونی بھرتی افسران کا ریکارڈ نہ دینے پر توہین عدالت کا نوٹس

کراچی : غریب محنت کشوں کی پنشن کے ادارہ ایمپلائیز اولڈ ایج بینی فٹس انسٹی (ای او بی آئی) میں بدانتظامی اور سینئر افسران کی جائز ترقیوں کے معاملہ میں نا انصافیاں عروج پر ہیں ۔

اس سلسلہ میں ادارہ کے چند سینئر افسران اسسٹنٹ ڈائریکٹر آپریشنز عبداللطیف ناریجو ، عبدالقادر سومرو اور فاروق احمد عباسی سمیت دیگر افسران نے انتظامیہ کی جانب سے اپنی جائز ترقیوں سے محروم کرنے اور جونیئر افسران کو ترقیوں سے نوازنے کے خلاف سندھ ہائیکورٹ میں ایک آئینی درخواست نمبر 8065/2019 دائر کی ہوئی تھی ۔

پچھلے دنوں ہائیکورٹ نے ان افسران کے حق میں فیصلہ صادر کیا تھا اور ای او بی آئی انتظامیہ کو فوری طور پر اس فیصلہ پر عملدرآمد کر کے رپورٹ عدالت میں جمع کرانے کا حکم دیا تھا ۔ لیکن ای او بی آئی کی خلاف ضابطہ طور پر ڈیپوٹیشن پر تعینات اور انتہائی جونیئر اور چہیتے افسران پر مشتمل انتظامیہ جان بوجھ کر ان عدالتی احکامات پر عملدرآمد کرنے میں ناکام رہی ہے ۔

جس پر سندھ ہائیکورٹ نے ای او بی آئی کی قائم مقام خاتون چیئرمین اور ڈائریکٹر جنرل ایچ آر ڈپارٹمنٹ شازیہ رضوی کے خلاف توہین عدالت کا نوٹس جاری کر دیا ہے اور انہیں 17 جون کو عدالت میں طلب کر لیا ہے ۔

مذید پڑھیں :بلڈرز و لینڈ مافیا، سہولت کاروں کی ملی بھگت سے بحریہ ٹاؤن واقعہ رونماہوا،مذمت کرتے ہیں،کاگف

واضح رہے کہ ای او بی آئی میں خلاف ضابطہ طور پر دوسرے سرکاری محکمہ سے ڈیپوٹیشن پر آئی ہوئی گریڈ 20 کی خاتون افسر شازیہ رضوی کے پاس بیک وقت 3 اعلی و کلیدی عہدے ہیں ، جن میں ادارہ کے قائم مقام چیئرمین ، ڈائریکٹر جنرل ایچ آر ڈپارٹمنٹ اور جنرل ایڈمنسٹریشن ڈپارٹمنٹ کا چارج شامل ہے ۔

ذرائع کا دعوی ہے کہ قائم مقام انتظامیہ نے قومی فلاحی ادارہ میں لاقانونیت اور پسند نا پسند کی بنیاد پر بدعنوانیوں کا ایک بازار گرم کر رکھا ہے ۔ ادارہ میں بیک وقت کئی کلیدی عہدوں تعیناتی ای او بی آئی میں انتظامی اور مالی معاملات میں انتہائی عدم دلچسپی اور مایوس کن کارکردگی کا مظہر ہے ۔

شازیہ رضوی کے خلاف پہلے ہی بدعنوانی کے الزام میں نیب میں بھی ایک ریفرنس زیر سماعت ہے ۔ جس کے باعث ان کی اگلے گریڈ میں ترقی بھی رکی ہوئی ہے ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *