بلڈرز و لینڈ مافیا، سہولت کاروں کی ملی بھگت سے بحریہ ٹاؤن واقعہ رونماہوا،مذمت کرتے ہیں،کاگف

بحریہ ٹاؤن کراچی

کراچی : بلڈرز و لینڈ مافیا اور ان کے سہولت کاروں کی ملی بھگت سے بحریہ ٹاؤن کاواقعہ رونماہواپر امن مظاہرے کو شازش کے تحت اصل مسئلے اور حقائق سے توجہ ہٹانے کیلئے نجی املاک کو نذر آتش اور عوام کو دہشت زدہ کیا گیا جس کی ”کاگف” پرزور مذمت کرتی ہے ان واقعات میں حکومت سندھ اور انظامیہ بھی قصوروار ہے کہ کئی روز پیشتر احتجاجی مظاہرے کے بارے میں معلومات ہونے کے باوجود کسی قسم کے حفاظتی اقدامات نہ کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ احتجاجی مظاہرے کے دوران نجی املاک کو نذر آتش اور عوام کو دہشت زدہ کرنے والوں کوپیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت کی پشت پناہی حاصل تھی،ان خیالات کا اظہارملک بھر کی کچی آبادیوں اور گوٹھوں کی نمائندہ تنظیم کچی آبادیز اینڈ گوٹھ فیڈریشن آف پاکستان "کاگف” کے تاحیات چئیر مین سفیر امن پیر صاحبزادہ احمد عمران نقشبندی نے ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

اجلاس میں ”کاگف“ کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر امجد حسین چشتی، پنجاب کے جنرل سیکریٹری صاحبزادہ کامران چشتی، صاحبزادہ بلال، حسن چشتی، اور عمران ارشد،راجہ ندیم، محمد فیاض بٹ، عرفان خان، شاہد عابد، فیاض علی، محمد یونس خان، محسن رضا، لال محمد صدیق، مہدی خان، محمد امین، منصف خان اور مرتضیٰ مہدی و دیگرنے شرکت کی صاحبزادہ احمد عمران نقشبندی نے کہا کہ ان واقعات میں حکومت سندھ اور انظامیہ بھی قصوروار ہے کہ کئی روز پیشتر احتجاجی مظاہرے کے بارے میں معلومات ہونے کے باوجود کسی قسم کے حفاظتی اقدامات نہ کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ احتجاجی مظاہرے کے دوران نجی املاک کو نذر آتش اور عوام کو دہشت زدہ کرنے والون کوپیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت کی پشت پناہی حاصل تھی۔

انہوں نے بحریہ ٹاؤن واقعے کو کچھ جماعتوں کی جانب سے لسانیت اور عصبیت کو ہوا دینے کے بیانات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کراچی میں 3 دہاہیوں کے بعد قائم ہونے والے امن کو دوبارہ لسانیت اور صوبائی عصبیت پھیلانے کے بیانات اور تقاریر سے گریز کیا جائے اور بحریہ ٹاؤن کی آڑ میں بلڈرز و لینڈ مافیا اور ان کے سہولت کاروں کی عوام دشمن سرگرمیوں کو بے نقاب کیا جائے،انہوں نے کہا کہ احتجاج کی آڑ میں ملک مخالف نعرے لگانا قومی پرچم نذر آتش کرنا سراسر غیر آینئی اور غیر قانونی اقدام ہے جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہیایسے میں حکومت سندھ کی مجرمانہ خاموشی اس امر کی عکاس ہے کہ حکومت سندھ پرامن احتجاج کو کنٹرول کرنے میں ناکام رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک ریاض اور آصف زرداری کے مشترکہ منصوبہ بحریہ ٹاؤن کے لیے سندھ کے قدیم گوٹھوں کو زبردستی مسمار کیا جارہا ہے جبکہ گوٹھوں پر سندھ حکومت اور انتظامیہ کی جانب سے چڑھائی کرکے مردوں سمیت خواتین اور بچوں کو بھی تشدد کا نشانہ بنانا سراسر اقوام متحدہ کے عالمی منشور حقوق انسانی کی خلاف ورزی ہے جس کی ملک بھر کی کچی آبادیوں اور گوٹھوں کی نمائندہ تنظیم کچی آبادیز اینڈ گوٹھ فیڈریشن آف پاکستان ”کاگف“شدید مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کرتی ہے کہ پیپلز پارٹی حکومت اپنے مفاد کے لیے سندھ دشمن منصوبے پر عمل پیرا ہے فوری طور پر گرفتار کیے گئے گوٹھ والوں کو آزاد کیا جائے اور ملک ریاض، آصف زرداری کیخلاف کارروائی کرکے بحریہ ٹاؤن کا منصوبہ ختم کرایا جائے۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وطن عزیز کے پسماندہ عوام کے حقوق کے حصول اور بد عنوانوں کے محاسبے کیلئے بھر پور تحریک کا آغاز کریں گے انہوں نے سندھ کی زمینوں پر بحریہ ٹاؤن کے قبضے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ بحریہ ٹاؤن کے ظلم وجبر کیخلاف مسلسل جدوجہد کی جائے گیاور عدلیہ سے رجوع کیا جائیگا۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف افغان اور دیگر غیر سندھیوں کو سندھ میں شناختی کارڈ اور زمین و روزگار کا حق دیا جارہا ہے تو دوسری جانب مقامی لوگوں کے گھر مسمار کرکے انہیں اقلیت میں تبدیل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت کمیشن اور رشوت کے عوض لاکھوں ایکٹر زمین ملک ریاض، ڈی ایچ اے اور دیگر اداروں کو دے رہی ہے، سندھ حکومت کراچی میں مقامی افراد کے گوٹھوں کو کچی آبادی قوانین کے تحت مالکانہ حقوق دینے کے لیے تیار نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اداروں کی بالادستی کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ بحریہ ٹاؤن کے حوالے سے 4 مئی 2018ء کے عدالت عظمیٰ کے فیصلے پر عملدرآمد کراکر سندھ کی زمینوں پر سے قبضہ ختم کراکر ملک ریاض اور سندھ حکومت کے کرپٹ افسران کیخلاف کارروائی کی جائے۔

انہوں نے کہا کہ لینڈ اور بلڈرز مافیا ان کے سہولت کاروں اور آلہ کار پولیس کے چنگل سے کچی آبادیوں اور گوٹھوں کے مکینوں کی آزادی کیلئے کچی آبادیز اینڈ گوٹھ فیڈریشن آف پاکستان ”کاگف“ پورے ملک میں بھرپور تحریک چلائیگی انہوں نے کہا کہ سندھ میں انتظامی ادارے گوٹھوں اور کچی آبادیوں کو بجلی، گیس، سٹرکوں اور گلیوں کی پختگی، اسکولوں کا لجوں، ہسپتالوں، ڈسپنسریاں اور اسپورٹس گرائنڈوغیرہ جیسے مسائل حل کرانے کے بجائے گوٹھوں اور کچی آبادیوں میں بلڈرز اور لینڈ مافیا کی سرپرستی کرکے سرکاری اراضی کی بندر بانٹ کے ذریعے قومی خزانے کو بھاری نقصان پہنچانے میں مصروف ہیں انہوں نے کہا کہ کچی آبادیوں اور گوٹھوں میں جہاں غریب اور کم آمدنی والے عوام رہائش پزیر ہیں وہاں چند لینڈ مافیا کے لوگ بھی پائے جاتے ہیں جنہوں نے ان علاقوں کے مکینوں کا جنیا حرام کررکھا ہے جو اپنے اثر ورسوخ کے بل بوتے پر کچی آبادیوں اور گوٹھوں کے بہت بڑے رقبے پر قبضے کرکے بیٹھے ہیں جن کے خاتمے کیلئے ضروری اقدامات کی ضرورت ہے کیونکہ لینڈ مافیا اور ان کی آلہ کار نوکر شاہی اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کیلئے کچی آبادیوں اور گوٹھوں کے لاکھوں مکینوں کو ان کے حقوق سے محروم رکھنا چاہتی ہے۔

دریں اثناء کچی آبادیز اینڈ گوٹھ فیڈریشن آف پاکستان "کاگف” کے تاحیات چئیر مین سفیر امن پیر صاحبزادہ احمد عمران نقشبندی نے اجلاس میں ڈہرکی ٹرین حادثے میں قیمتی جانوں کے زیاں پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اسے ریلوے انتطامیہ کی بد ترین غفلت قرار دیتے ہوئے وزیر ریلوے سے فوری مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔

یاد رہے ڈہرکی کے قریب سرسید ایکسپریس اور ملت ایکسپریس میں تصادم کے باعث 42 افراد جاں بحق اور درجنوں مسافر زخمی ہوگئے ہیں ریلوے انتظامیہ کی غفلت اور نااہلی کا یہ عالم ہے کے امدادی کاروائیاں 5 گھنٹے بعد شروع کی گئں جو وزیر ریلوے کی کار کردگی پر سوالیہ نشان ہے،اجلاس میں ٹرین حادثے میں جاں بحق افرادکے لواحقین سے تعزیت کرتے ہوئےجاں بحق افرادکی مغفرت اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی گئی اور حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ جاں بحق افرادکے لواحقین کو 50 لاکھ فی کس اور زخمیوں کو 25 لاکھ فی کس معاوضہ دیا جائے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *