سگریٹ نوشی کی شرح بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، عالمی ادارہ صحت نے خطرے کی گھنٹی بجادی

سیگریٹ

کراچی : دنیا میں سگریٹ نوشی کی شرح بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ خبر کے مطابق 2019 میں ایک ارب 10 کروڑ افراد سگریٹ نوشی کے عادی تھے جن میں 10 فی صد اضافہ ہوچکا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق اس وقت دنیا میں ایک ارب 30 کروڑ لوگ سگریٹ پی رہے ہیں۔

اعداد وشمار کے مطابق سب سے زیادہ سگریٹ نوش چین میں پائے جاتے ہیں جہاں سگریٹ پینے والوں کی تعداد 34 کروڑ سے زیادہ ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق اس سال دنیا میں سگریٹ نوشی سے 77 لاکھ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں 36 فی صد مرد اور 9 فی صد خواتین تمباکو نوشی میں مبتلا ہیں۔ بدقسمتی سے نوجوانوں میں سگریٹ نوشی کا رجحان کم ہونے کے بجائے بڑھ رہا ہے۔ نوجوان سگریٹ پی کر خود کو بڑا سمجھتے ہیں اور وہ سگریٹ پینے پر فخر کرتے ہوئے پائے جاتے ہیں۔ سگریٹ میں نیکوٹین پایا جاتا ہے جو انسانی صحت کے لیے انتہائی مہلک ہے۔ یہ مادہ کئی بیماریوں کا سبب بنتا ہے۔ یہ بیماریاں سگریٹ نوش افراد کو نہ جینے دیتی ہیں نہ مرنے دیتی ہیں۔ ڈاکٹروں کے مطابق سگریٹ نوشی سے کاربن ڈائی آکسائیڈ، سلفرڈائی آکسائیڈ اور ہائیڈروجن سائنائیڈ انسانی جسم کا حصہ بن جاتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ سگریٹ نوشی کرنے والے افراد میں تپ دق، پھیپھڑوں کا سرطان، سانس کے امراض، دائمی کھانسی، اختلاج قلب، بلند فشار خون، فالج، گردوں کے فعل میں کمی اور ہڈیوں کی کمزوری جیسے امراض عام ہیں۔ ماہرین کے مطابق سگریٹ پینے والے افراد میں سگریٹ نوشی کے منفی نفسیاتی اثرات بھی پائے جاتے ہیں۔ چناں چہ دیکھا گیا ہے کہ سگریٹ پینے والے افراد میں چڑچڑاپن، ڈپریشن اور ذہنی ابہام جیسے مسائل موجود ہوتے ہیں۔ تمباکو نوشی نہ صرف یہ کہ تمباکو نوشی کرنے والے افراد کے لیے جان لیوا ہے بلکہ تمباکو نوشی کرنے والے افراد کے آس پاس موجود لوگ بھی خطرات سے دوچار ہوتے ہیں۔

طبی اصطلاح میں سگریٹ نوشی کے دھوئیں سے متاثر ہونے والے افراد کو Passive Smoker کہا جاتا ہے۔ تحقیق سے ثابت ہوچکا ہے کہ اگر آپ سگریٹ پینے والے کے آس پاس ایک گھنٹے تک موجود رہیں گے تو آپ ایک سگریٹ کے برابر دھواں اپنے جسم میں داخل کرنے کے مرتکب ہوجائیں گے۔ اس طرح سگریٹ پینے والے نہ صرف یہ کہ اپنی زندگی سے کھیلتے ہیں بلکہ وہ اپنے آس پاس موجود لوگوں، خاص طور پر بچوں اور خواتین کی زندگی سے بھی کھیل رہے ہوتے ہیں۔ بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں صورتِ حال کی اس سنگینی کا کسی کو ادراک نہیں ہوتا۔

سگریٹ نوش دھڑلے کے ساتھ محفلوں میں بیٹھ کر سگریٹ پیتے ہیں اور اپنے آس پاس موجود لوگوں کو متاثر کرتے ہیں۔ طبی تحقیق سے ثابت ہوچکا ہے کہ کورونا کا وائرس انسان پر اس وقت حملہ آور ہوتا ہے جب انسان کی قوت مدافعت کمزور ہوتی ہے۔ ماہرین کے مطابق کورونا وائرس کے اثرات پھیپھڑوں پر زیادہ مرتب ہوتے ہیں۔ یہ بات طبی حقائق کا حصہ ہے کہ سگریٹ نوشی انسانی قوت مدافعت کو کمزور بناتی ہے اور پھیپھڑوں پر انتہائی منفی اثرات مرتب کرتی ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ جو لوگ سگریٹ پیتے ہیں ان کے کورونا سے متاثر ہونے کا اندیشہ زیادہ ہے۔

امریکا میں ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق تمباکو نوش افراد کورونا سے ہونے والی ہلاکتوں کی شرح عام شرح سے 14 فی صد زیادہ تھی۔ دنیا بھر میں حکمرانوں کی یہ منافقت عام ہے کہ حکومتیں سگریٹ نوشی کو صحت کے لیے مضر بھی قرار دیتی ہیں اور تمباکو نوشی کی صنعت اربوں روپے بھی کماتی ہیں۔ سگریٹ پینا آسان ہے مگر اس کو ترک کرنا آسان نہیں۔ لوگ اعلان کرتے ہیں کہ وہ سگریٹ پینا چھوڑ رہے ہیں مگر ان کا حال اس شعر جیسا ہوتا ہے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *