سعید غنی کا پڑوسی استاد 9 سالوں سے تنخواہ ملنے کی آس لئے چل بسا

کراچی : وزیر تعلیم سندھ سعید غنی کا پڑوسی اور محکمہ اسکول ایجوکیشن میں بھرتی کے بعد سے 9 سالوں سے تنخواہ سے محروم سرکاری استاد تنخواہ ملنے کی آس لئے دنیا سے چلا گیا ۔

اس طرح سابق وزیر تعلیم پیر مظہر الحق کے دور میں سال 2012ء میں بھرتیوں کے بعد سے تنخواہوں سے محروم درجنوں اساتذہ اور نان ٹیچنگ اسٹاف اس دنیا فانی کو چھوڑ چکے ہیں ۔

بتایا جاتا ہے کہ عبدالوہاب ولد نور محمد 2012ء میں نائب قاصد کی آسامی پر گورنمنٹ بوائز پرائمری اسکول منظور کالونی محمود آباد میں بھرتی ہوا تھا ، تاہم محکمہ اسکول ایجوکیشن کی ہٹ دھرمی کے باعث گذشتہ 9 سالوں سے تنخواہوں سے محروم تھا ۔ جب کہ محروم کینسر جیسے موذی مرض میں بھی مبتلا ہو گیا تھا ۔

مذید پڑھیں :دعوے حقیقت اور خدشات

گذشتہ روز عبدالوہاب کو مقامی قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا ۔ نمازِ جنازہ میں مقامی افراد کے علاوہ 2012ء میں بھرتی ہونے والے ادر کیڈر اساتذہ و غیر تدریسی عملہ نے بھی بڑی تعداد میں شرکت کی ۔

ٹیچر عبدالوہاب تنخواہوں کے حصول کیلئے کئے جانیوالے سیکڑوں دھرنوں اور احتجاج میں شریک رہا تھا ۔ محروم نے سوگواران میں بیوہ، تین لڑکیاں اور دو لڑکے چھوڑے ہیں ۔

بتایا جاتا ہے کہ ٹیچر عبدالوہاب کا گھر وزیر تعلیم سعید غنی کے بالکل سامنے ہے ۔ اس کے باوجود صوبائی وزیر تعلیم اس کے مسئلے کو حل نہیں کر سکے اور نہ ہی انہوں نے داد رسی کی کوشش کی ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *