کیا بدعنوانی کے الزامات پر مستعفی زلفی بخاری اب بھی معاون خصوصی ہیں ؟

زلفی بخاری

کراچی : کیا بدعنوانی کے الزامات پر مستعفی زلفی بخاری تاحال معاون خصوصی کے عہدہ پر فائز ہیں ؟ غیر یقینی صورت حال کے باعث وزارت کے ماتحت محکمے نوکر شاہی اور جونیئر افسران کے رحم و کرم پر ہیں ۔ بزرگ پنشنرز پنشن کے لئے مارے مارے پھرنے پر مجبور ہیں ۔

گزشتہ دنوں راولپنڈی رنگ روڈ اسکینڈل میں وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے وزرات سمندر پار پاکستانی و ترقی انسانی وسائل حکومت پاکستان زلفی بخاری کے ملوث ہونے کی خبریں منظر عام پر آنے کے بعد ان کے اچانک ملک چھوڑ جانے اور پھر واپس آنے کے باوجود وزارت کی سرکاری ویب سائٹ پر اب بھی زلفی بخاری کا نام بطور معاون خصوصی آویزاں ہے اور حیرت انگیز طور پر انتہائی غفلت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ویب سائٹ سے ان کا نام نہیں ہٹایا گیا ۔ جب کہ ویب سائٹ پر وزارت میں تعینات شدہ نئے سیکریٹری عشرت علی کے تعارف کی جگہ بھی خالی ہے ۔

واضح رہے کہ حکومت پاکستان کی وزارت سمندر پار پاکستانی و ترقی انسانی وسائل کا شمار ملک کی اہم وزارتوں میں کیا جاتا ہے ۔ جس کے تحت محنت کشوں کی پنشن کا متعدد اہم ادارے کام کر رہے ہیں ۔ جن میں محنت کشوں کو پنشن کی سہولت فراہم کرنے والا ادارہ ایمپلائیز اولڈ ایج بینی فٹس انسٹی ٹیوشن ، یرون ملک پاکستانیوں کی فلاح وبہبود کا ادارہ اوورسیز پاکستانی فاؤنڈیشن، پاکستانی محنت کشوں کے لئے بیرون ملک ملازمتوں کے مواقعوں اور افرادی قوت کے انتظامات کرنے والا ادارہ اوورسیز ایمپلائمنٹ کارپوریشن بھی ہے ۔

مذید پڑھیں :سعید غنی کا پڑوسی استاد 9 سالوں سے تنخواہ ملنے کی آس لئے چل بسا

جہاں پر محنت کشوں کے بچوں کے لئے تعلیم، تعلیمی وظائف ، جہیز گرانٹ، ڈیتھ گرانٹ اور رہائشی سہولیات فراہم کرنے والا ادارہ ورکرز ویلفیئر فنڈ، محنت کشوں کی ٹریڈ یونین اور اجتماعی سودا کاری کی رجسٹریشن اور تنازعات کو طے کرنے والا ادارہ نیشنل انڈسٹریل کمیشن، بیرون ملک روزگار اور ملازمتوں کے متلاشی پاکستانیوں کی رہنمائی کے لئے قائم ادارہ بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ اور محنت کشوں کے بچوں کے لئے تعلیم کی فراہمی کا ذمہ دار ادارہ ڈائریکٹوریٹ آف ورکرز ایجوکیشن جیسے اہم محکمے خدمات انجام دے رہے ہیں ۔

وزارت کے معاون خصوصی زلفی بخاری کے رنگ روڈ اسکینڈل میں ملوث ہونے یکایک اور پُر اسرار طور پر بیرون ملک روانگی کے باعث اس سلسلہ میں مختلف افواہوں کی بازگشت جاری ہے ۔واضح رہے کہ زلفی بخاری کے بلند بانگ دعووں کے باوجود عملی طور پر وزارت سمندر پار پاکستانی و ترقی انسانی وسائل کے زیر نگرانی قائم تمام محکموں کی ملک کے محنت کشوں کے لئے کارکردگی انتہائی مایوس کن اور ناقص رہی ہے ۔

اس کی مثال ای او بی آئی کے نئے بورڈ آف ٹرسٹیز کی تقرری کا معاملہ بھی اٹکا ہوا ہے ۔ جو گزشتہ برس دسمبر میں پرانے بورڈ کے خاتمہ کے بعد تاحال زیر التواء ہے ۔ اس صورت حال کے باعث ای او بی آئی کے تمام انتظامی اور مالی معاملات ٹھپ پڑے ہوئے ہیں اور ادارہ میں خلاف ضابطہ طور پر ڈیپوٹیشن پر تعینات نوکر شاہی اور انتہائی جونیئر افسران کے ذریعہ ایڈہاک بنیادوں پر چلایا جا رہا ہے ۔

مذید پڑھیں :

اس صورت حال سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے زلفی بخاری کے انتہائی چہیتے افسر اور ای او بی آئی کے 18 فروری کو ریٹائر ہونے والے چیئرمین اظہر حمید اپنی ریٹائرمنٹ کے باوجود غیر قانونی طور پر اب بھی ای او بی آئی پر حکمرانی کرنے میں مصروف ہیں اور ادارہ کے قیمتی وسائل، کئی کئی گاڑیوں معہ ڈرائیوروں اور ہزاروں لٹر پٹرول اور دیگر سہولیات کا بلا دریغ استعمال کر رہے ہیں ۔ لیکن انہیں کوئی پوچھنے والا نہیں ۔ کیونکہ سابق چیئرمین اظہر حمید نے اپنے قابل اعتماد افسران کو یہ تاثر دے رکھا ہے کہ وہ جلد ہی دوبارہ ای او بی آئی کی باگ ڈور سنبھالنے والے ہیں ۔

بتایا جاتا ہے کہ شازیہ رضوی جو ای او بی آئی میں آنے سے قبل بدعنوانی کے الزام میں نیب ریفرنس میں بھی نامزد ہیں نے اپنی ناتجربہ کاری اور مخصوص پالیسیوں کے باعث ادارہ کو کھلواڑ بنا کر رکھا ہے ۔ قائم مقام چیئرمین اور ڈائریکٹر جنرل ایچ آر ڈپارٹمنٹ کے دو کلیدی عہدوں پر فائز ہونے کے باوجود ای او بی آئی کے انتظامی اور مالی معاملات میں ان کی دلچسپی اور کارکردگی بالکل صفر ہے ۔

مذید پڑھیں :سوشل میڈیا پر اسلحہ کی تصاویر اپ لوڈ کرنے والا منیشات فروش گرفتار

بتایا جاتا ہے کہ نائب قاصد شیراز ای او بی آئی کے اعلیٰ افسران اور بدعنوان افسران کا بیٹر اور مخبر خاص مشہور ہے ۔ جو اگرچہ ای او بی آئی کی ایک ذیلی کمپنی پرائماکو اسلام آباد کا ملازم ہے اور وہیں کا تنخواہ دار ہے ۔ لیکن اس کی مخبری کے خاص جوہر اور ہر جائز و ناجائز حکم کو آنکھ بند کرکے تعمیل کرنے کی ادا کو پسند کرتے ہوئے شازیہ رضوی نے شیراز کی تعیناتی غیر قانونی طور پر ای او بی آئی ایچ آر ڈپارٹمنٹ ہیڈ آفس میں اپنے پاس کرا رکھی ہے ۔

بتایا جاتا ہے کہ شازیہ رضوی شیراز ادارہ کے پرانے اور فرض شناس افسران کی مخبری کے ساتھ ساتھ اس سے اپنے ذاتی اور گھریلو کام بھی کراتی ہے اور شیراز اکثر اس کے گھر کی دیکھ بھال اور کاموں کے لئے وہیں قیام بھی کرتا ہے ۔

شازیہ رضوی پس پردہ مقاصد کے تحت ادارہ کے منفی شہرت کے حامل بدعنوان اور سازشی افسران اور ملازمین کی بھرپور سرپرستی کرتی ہے ۔

معلوم ہوا ہے کہ بیک وقت قائم مقام چیئرمین اور ڈائریکٹر جنرل ایچ آر ڈپارٹمنٹ شازیہ رضوی اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے ای او بی آئی جیسے فلاحی ادارہ کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہی ہے ۔ اگرچہ وہ ای او بی آئی سے سرکاری گاڑیوں بھاری پٹرول اور ڈرائیور الاؤنس وصول کررہی ہے ۔ لیکن اس نے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے حکومت سندھ کے دو ڈرائیوروں اور تین ملازمین کو بھی اپنے گھریلو کاموں کے لئے رکھا ہوا ہے ۔

ای او بی آئی ہیڈ آفس اور ریجنل آفسوں میں افسران کے مسلسل تاخیر سے ڈیوٹی پر آنے اور غیر حاضریوں کے رحجان کے باعث پورا ادارہ سونا پڑا ہوا ہے اور ای او بی آئی کے بزرگ، معذور بیمہ شدہ افراد اور متوفی بیمہ شدہ ملازمین کی بیوائیں اپنی پنشن کے حصول کے لئے مارے مارے پھرنے پر مجبور ہیں اور ان کا کوئی والی وارث نہیں ہے ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *