دعوے حقیقت اور خدشات

تحریر : یعقوب عالم

جامعۃ الرشید بلاشبہ ایک بہترین دینی درسگاہ ہے جہاں وقت کے تقاضوں کے مطابق تعلیم دی جاتی ہے مگر گزشتہ دنوں جب وفاق المدارس نے جامعہ کا الحاق ختم کیا تو جامعۃ الرشید کے زیادہ تر راہنما، اساتذہ و فضلاء نے اپنے دفاع میں جو بیانیہ دیا اس میں یہ تاثر دیا گیا کہ جامعۃ الرشید کی مخالفت محض اس بناء پر ہورہی ہے کہ یہ دینی مدارس کی سطح پر پہلا ادارہ ہے جس نے روایت کو توڑ کر عصری علوم کا عَلم بلند کیاہے۔ ظاہر ہے یہ بیانیہ مبالغہ ہے اور حقیقت واقعہ کے خلاف بھی۔

حقیقت تو یہ ہے کہ جامعۃ الرشید کے قیام سے 14 سال قبل 1986 میں مولانا فیض الرحمن عثمانی صاحب نے ادرہ علوم اسلامی اسلام آباد کے نام سے دینی و عصری علوم پر مشتمل مدرسے کا سنگ بنیاد رکھا تو جن حضرات نے ان پر اعتراضات کئیے تھے ان میں جامعۃ الرشید کے بڑے حضرات بھی شامل تھے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ 2005 میں جب جامعۃ الرشید کی عمر شاید صرف پانچ سال تھی اور یہ ادارہ نئے تجربات سے گزر رہا تھا تو عین اسی وقت ادارہ علوم اسلامی نے فیڈرل بورڈ کی ٹاپ 20 میں سے 15 پوزیشنیں اپنے نام کر کے ریکارڈ قائم کیا تھا۔

اسی طرح غالباً 1994 میں مولانا عبد الستار صاحب بیت السلام مسجد ڈیفنس میں امام و خطیب بنے جہاں سرکاری و پرائیویٹ اداروں کے بڑے عہدے داران اور مختلف کمپنیوں کے مالکان رہتے ہیں ان کیلئے 1999 میں فہم دین کورس کا آغاز کیا انہیں دین سکھا کر مسجد مدرسے سے قریب کیا اور ان سے اللہ پاک کے فضل سے وہ کام لیا کہ آج ایک مسجد بیت السلام میں کی جانے والی محنت سے 2009 میں بیت السلام ٹرسٹ قائم ہوا جس کے زیر اہتمام بیت السلام مدرسہ و اسکول تلہ گنگ، بیت السلام مدرسہ و اسکول لنک روڈ کراچی اور کورنگی میں انٹیلیکٹ اسکول کے ساتھ ساتھ ملک اور ملک سے باہر رفاہی کاموں میں حصہ لے کر انقلاب برپا کیا اور آج انکے تعلیمی اداروں کے بچے یونیورسٹی لیول کے مقابلوں میں پوزیشنیں حاصل کررہے ہیں

ابھی جب جامعۃ الرشید کا سنگ بنیاد ہی نہیں رکھا گیا تھا تو غالباً 80 کی دہائی میں مفتی جمیل خان شہید اور مفتی خالد صاحب وغیرہ نے مولانا یوسف لدھیانوی شہید رحمہ اللہ کی سرپرستی میں اقراء روضۃ الاطفال کا آغاز کیا جہاں حفظ کے ساتھ دینی و عصری علوم پڑھانے کی ابتداء ہوئی۔اقراء روضۃ الاطفال سسٹم جب کامیابی سے ملک کے طول و عرض میں پھیلا ، تب جاکر جامعۃ الرشید کے بڑوں نے صفہ سووئیر اسکول سسٹم قائم کیا۔
ایسے ہی اقتصادیات اور بینکنگ کے میدان میں بھی تجدیدی کام تقریبا اسی دورانئے میں جاری رہا۔

چنانچہ مفتی تقی عثمانی صاحب نے اس وسیع میدان میں جو کام کیا اسے پوری مسلم دنیا نے سراہ کر اپنے ہاں اپلائے بھی کیا۔ مفتی تقی عثمانی صاحب نے تربیت دے کر اقتصادی ماہرین کی پوری ایک ٹیم تیار کی جس نے ان کی سرپرستی میں سودی بنکاری کا متبادل پیش کیا اور انشورنس پالیسیوں کو اسلامی تعلیمات کے مطابق ڈھالنے پر بھی کام کیا یوں جب 1997 میں پہلے اسلامی بنک کی بنیاد رکھی گئی تو عین اسی وقت الرشید ٹرسٹ والے قندھار میں تندور پر گرما گرم روٹیاں پکا رہے تھے جبکہ یہاں مفتی تقی عثمانی صاحب کو اپنے ہی بزرگوں کی زبردست مخالفت کا سامنا تھا۔ شیخ سلیم اللہ خان صاحب رحمہ اللہ نے دیگر بزرگوں کے ساتھ مل کر میڈیا پر انکی اسلامک بینکاری کو غیر سودی ماننے سے انکار کیا لیکن آج بھی جو کمپنیاں یا ادارے اپنے کام کو عین اسلامی طریقوں پر ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں وہ پہلے مفتی تقی عثمانی صاحب سے ہی فتویٰ حاصل کرتے ہیں جبکہ عوام کو بھی اطمینان مفتی تقی عثمانی صاحب کے فتوے سے ہی ہوتا ہے۔

اب صورتحال یہ ہے کہ نئے بورڈ سے متعلق سوال ہو تو کہا جاتا ہے “ہم دونوں تعلیم کو ضروری بلکہ فرض سمجھتے ہیں جبکہ وہ کہتے ہیں یہ بلکل غلط ہے اس پاداش میں نکالو انکو”۔

اگر ایسا ہی ہے تو اسلامک بینکاری کے اختلاف پر شیخ سلیم اللہ خان رحمہ اللہ نے دارالعلوم کراچی کو کیوں نہیں نکالا؟ اگر نیا بورڈ عصری علوم کیلئے ضروری تھا تو مفتی تقی عثمانی صاحب، مولانا فیض الرحمن عثمانی صاحب اور مولانا عبد الستار صاحب نیا بورڈ بناکر الگ کیوں نہیں ہوجاتے؟ حالانکہ ان میں سے دو حضرات کی ساری عمر مخالفت ہوتی رہی۔

الزام صرف ایک ہے وہ یہ کہ نیا بورڈ جامعۃ الرشید کی نہیں سرکار کی ضرورت تھی۔ کیونکہ FATF کیلئے رکاوٹ وفاق المدارس اور جمعیت علمائے اسلام ہیں جسے کمزور کر کے اپنے لئے راہ ہموار کرنا حکومت کا اصل مقصد ہے اور اس بات کو تقویت درجہ ذیل وجوہات سے ملتی ہے:
1_ نیا بورڈ آپ کو اور آپ کے علاوہ دیگر کو ایک ہی وقت میں کیوں دیا گیا؟ ظاہر ہے تقسیم در تقسیم ہی اسٹیبلشمنٹ کا مقصد تھا۔

2_ جب نیا بورڈ بقول آپ کے عصری علوم کیلئے آپ نے بنایا تو سرکار نے آپ کے ساتھ پنچپیر کے اشاعۃ التوحيد کو بورڈ کس مقصد سے دیا جبکہ وہ عصری تعلیم ہی نہیں پڑھا تے بلکہ ان میں زیادہ تر کو تو شاید قومی زبان پر بھی مکمل دسترس حاصل نہیں

3 _جو مدارس عصری تعلیم نہیں دیتے بلکہ انکے پاس عصری تعلیم دینے کیلئے فنڈز ہیں اور نہ ہی کلاس روم۔ اور وہ پہلے سے وفاق المدارس کے ساتھ ملحق بھی ہیں تو ان کا مجمع العلوم کے ساتھ الحاق کیوں کیا جارہا ہے؟

4_کرونا سے قبل جامعہ مالی بحران کا شکار رہا اب جبکہ کرونا بھی سر پر ہے تو حیرت انگیز طور پر نئے بورڈ کے آتے ہی جامعہ میں اساتذہ کیلئے اچھی تنخوائیں الاؤنس اور پینشن کی باتیں ہورہی ہیں

5_ ماضی میں جہاد افغانستان کے وقت آپ کے روابط اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ تھے اور اب بھی آنا جانا کسی سے مخفی نہیں

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *