پوھہ خلق۔۔۔اک تعارف

پوھ خلق

تحریر : گل اکبر خان


پشتو زبان و ادب میں عالمی تنقیدی ادب کے ارتقاء سے متعلق کوئی کتاب آج تک شائع نہیں ہوئی ۔ میں نے 2016 مئ سے اس بابت کام شروع کیا اور مئ 2021 تک مکمل تحقیق کے بعد کتاب لکھی جس کا نام میرے ادبی دوستوں نے ” پوھہ خلق ” رکھا ۔ پوھہ خلق کا مطلب ہے دانا اور سمجھدار لوگ ۔ اس کتاب بارے اجمالاً آپ کے ساتھ شریک کرنا چاہوں گا

پہلے حصے میں تنقید کی تعریف اور تنقید کے دبستان بارے مختصر جائزہ لیا گیا ہے

دوسرے حصے میں مغربی تنقید کی تاریخی ارتقا اور مختلف نقادوں کے نظریات کا احاطہ کیا گیا ہے جیسے کہ ہومر افلاطون ارسطو لونجانس اور ہوریس کے تنقیدی نظریات سے متعلق ابواب باندھے گئے ہیں انگریزی ادب میں سر فلپ سڈنی ڈرائڈن آرنلڈ ورڈذورتھ کولرج رچرڈز جونسن ایلیٹ وغیرہ کے تنقیدی نظریات سے بحث کی گئی ہے ۔

تیسرے حصے میں مشرقی تنقید بارے مکمل جائزہ لیا گیا ہے مثلآ سنسکرت عربی فارسی اردو اور پشتو کے نقادوں کی نظریات کا احاطہ کیا گیا ہے جن میں ابن رشیق ابن خلدون رشید وطواط امیر عنصر المعالی کیکاوس ابن سکندر ابھینو گپتا بھٹ لولٹ وغیرہ ۔

اردو کے حالی شبلی نعمانی حسین آزاد محمد حسن ال احمد سرور کلیم الدین احمد وغیرہ جبکہ پشتو میں پیر روشان بابا کے مکتب فکر سے تعلق رکھنے والے نقادوں سے ہوتے ہوئے خوشحال خان خٹک بابا کی مکتب فکر کے نقاد دولت لوانڑی کاظم خان شیدا وغیرہ ۔ پھر نثری تنقید میں کاکا جی صنوبر حسین اجمل خٹک دوست محمد کامل امیر حمزہ خان شنواری سلیم راز اور ڈاکٹر حنیف خلیل صاحب ان سب کی پشتو تنقید میں مساعی اور کاوشوں کا احاطہ کیا گیا ہے ۔

کتاب پر تبصرہ جات حنیف خلیل صاحب ڈاکٹر محمد حسن زاہد حضرت زبیر زبیر کے ہیں جبکہ فلیپ اردو کے صاحب طرز افسانہ نگار کلیم خارجی صاحب نے لکھا ہے ۔

کتاب میری چار سال کی محنت ہے غیر پختون دوستوں کا اصرار ہے کہ کتاب اردو میں بھی لکھی جائے اس لئے ارادہ ہے کہ ان شاءاللہ تعالیٰ 2022 میں اسی کتاب کو اردو میں بھی شائع کروں گا فی الحال احباب میری اس کتاب کی کامیابی کے لئے دعا گو رہیں

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *